کیا ہمارا تعلیمی نظام بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا قاتل ہے؟
پاکستان کا نظامِ تعلیم طویل عرصے سے اصلاحات کا منتظر ہے، لیکن اس کی سب سے بڑی خامی جو مسلسل نظر انداز ہوتی چلی آئی ہے، وہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو دبانے کا رویہ ہے۔ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ ایک ایسی فیکٹری میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ہر سال ہزاروں لاکھوں طلبہ صرف رٹنے، نمبر لینے اور امتحان پاس کرنے کی تربیت کے ساتھ باہر آتے ہیں۔ سیکھنے کی اصل روح، یعنی سوال کرنے کی جرات، نئی راہیں تلاش کرنے کی خواہش اور الگ سوچنے کا حوصلہ، ابتدائی درجے پر ہی کچل دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ موجد، مفکر اور تخلیق کار پیدا کرنے کے بجائے صرف کلرک، نقال اور طوطا بنا دیتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بچے اپنے اندر تجسس لے کر اسکول آتے ہیں، لیکن ان کا ذہن رٹا سسٹم کے ہاتھوں اس قدر جکڑ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی شناخت، رجحان اور خواب سب کھو بیٹھتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ تخلیقی مضامین جیسے فنونِ لطیفہ، کہانی نویسی، مصوری، موسیقی یا تنقیدی مطالعہ کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ انہیں اضافی اور بے فائدہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ان سرگرمیوں کو اکثر وقت ضائع کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہی وہ میدان ہیں جو بچوں کو اظہارِ ذات کا موقع دیتے ہیں اور ان کی تخلیقی پرواز کو آسمان عطا کرتے ہیں۔ جب آرٹ، ڈراما یا تخلیقی تحریر کو نصاب کا حصہ نہیں بنایا جاتا تو طلبہ صرف رٹے باز بن کر رہ جاتے ہیں۔ پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسے نظام سے نئی سوچ اور جدت کہاں سے جنم لے سکتی ہے؟
اساتذہ کا کردار بھی اس افسوس ناک صورتِ حال میں اہم ہے۔ تعلیم دینے کے بجائے صرف معلومات بانٹنے اور سبق ختم کروانے پر زور دیا جاتا ہے۔ طلبہ اگر سوال کریں تو انہیں گستاخ یا منہ زور سمجھا جاتا ہے۔ اساتذہ کی تربیت اس نہج پر نہیں کی جاتی کہ وہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کریں، بلکہ انہیں بھی اسی روایتی دھارے میں ڈھالا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوال دبایا جاتا ہے، سوچ محدود ہوتی ہے اور تخلیق مر جاتی ہے۔ اسی طرح والدین کا تصورِ کامیابی بھی محدود ہے۔ وہ بچوں کو صرف چند مخصوص شعبوں، جیسے طب، انجینئرنگ یا سرکاری ملازمت کی طرف دھکیلتے ہیں۔ جو بچہ مختلف راستہ اپنانا چاہے، اسے یا تو روکا جاتا ہے یا شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کئی بچے اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی پہچان بنانے کا موقع نہیں ملتا۔
دوسری طرف دنیا کا تعلیمی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا مقصد بچے کی شخصیت کو نکھارنا، اس کی دلچسپیوں کو دریافت کرنا اور اسے ایک مکمل انسان بنانا ہے۔ فن لینڈ، جاپان، کوریا اور یورپ میں تخلیقی سرگرمیوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بچوں کو آزاد فضا میں سیکھنے کا موقع دیا جاتا ہے جہاں وہ تجربات، مشاہدات اور سوالات کے ذریعے زندگی کو سمجھتے اور اپنی راہ متعین کرتے ہیں۔ مگر افسوس کہ پاکستان کا نظامِ تعلیم ابھی تک ایسے سوالات کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو رٹا سسٹم سے باہر ہوں۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں تخلیقی، باصلاحیت اور عالمی سطح پر موثر ثابت ہوں، تو ہمیں فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ نصاب میں تخلیقی مضامین کو مرکزی حیثیت دینا ہو گی۔ اساتذہ کی تربیت اس انداز سے کرنا ہو گی کہ وہ سوالات کو حوصلہ افزائی کے طور پر لیں نہ کہ گستاخی کے طور پر۔ والدین کو شعور دینا ہو گا کہ ہر بچہ اپنی فطرت، صلاحیت اور رجحان میں منفرد ہے۔ سب کے لیے ایک جیسا تعلیمی خاکہ نہ صرف ناکافی ہے بلکہ تباہ کن بھی ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر تعلیم تخلیق نہ سکھائے تو وہ محض معلومات کا بوجھ ہے۔ ایسا نظام جو سوال کرنے سے روکے، نئے خیالات کو دبائے اور نقالی کو انعام دے، وہ صرف ذہنوں کو قید کرتا ہے، پروان نہیں چڑھاتا۔ ہمیں تعلیم کو صرف ڈگری یا ملازمت کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسان سازی اور معاشرتی بیداری کا ذریعہ بنانا ہو گا۔ اصل تعلیم وہی ہے جو سوچنے کی آزادی دے اور نئے جہانوں کی تلاش کے لیے حوصلہ فراہم کرے۔


