جیت کی آڑ میں شکست
دُنیا کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جنگ صرف میدانوں میں نہیں، انسانیت کے ضمیر پر بھی لڑی جاتی ہے۔ جب گولیاں چلتی ہیں، توپیں گرجتی ہیں اور میزائل داغے جاتے ہیں، تو ہار جیت سے زیادہ نقصان زندگی، تہذیب اور فطرت کا ہوتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 13 روزہ محدود جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ جنگ کا سب سے بڑا زخم انسانیت پر ہی لگتا ہے۔
ایران مشرق و سطیٰ کا ایک بڑا اور باوسائل ملک ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 16 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو اسرائیل سے 80 گنا بڑا ہے۔ اسی طرح آبادی کے لحاظ سے بھی ایران کی آبادی 8 کروڑ سے زائد ہے۔ جبکہ اسرائیل کی آبادی بمشکل 1 کروڑ ہے۔ بظاہر یہ فرق ایران کو برتری دیتا ہے۔ مگر جنگ کا پلڑا صرف تعداد پر نہیں۔ عسکری تیاری، ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور عالمی حمایت پر جھکتا ہے۔
اس تنازع کے دوران ایران کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی فوجی اور صنعتی تنصیبات، ڈرون بیسز، میزائل فیکٹریاں اور توانائی کے مراکز شدید نقصان کا شکار ہوئیں۔ ایران کو نہ صرف سینکڑوں جانوں کا نقصان ہوا بلکہ اس کی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا دھچکا لگا۔ اس کے برعکس اسرائیل نے اپنے جدید دفاعی نظام، خاص طور پر آئرن ڈوم کے ذریعے ایرانی حملوں کو بڑی حد تک ناکام بنایا اور نسبتاً محفوظ رہا۔
یہ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کے لیے نقصان دہ رہی بلکہ ماحولیات کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوئی۔ ایران میں ہونے والے دھماکوں کے باعث صنعتی علاقوں اَور ایٹمی پلانٹ میں زہریلی گیسوں کا اخراج ہوا، فضا آلودہ ہوئی، زرعی زمینیں برباد ہوئیں اور آبی وسائل متاثر ہوئے۔ ان ماحولیاتی اثرات کے نتائج کئی سالوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس پورے تنازع میں عالمی برادری کا رویہ بے حسی کا عکاس رہا۔ اقوام متحدہ، مسلم ممالک اور بڑی طاقتیں محض بیانات تک محدود رہیں۔ کسی بھی سنجیدہ ثالثی کی کوشش یا مستقل حل کی طرف پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ اس رویے نے ثابت کر دیا کہ عالمی ضمیر صرف طاقتوروں کے مفادات کے لیے بیدار ہوتا ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا جنگ میں واقعی کوئی جیتتا ہے؟ اگر ایک فریق کو جانی، مالی اور ماحولیاتی طور پر بہت بڑا نقصان ہو۔ اور دوسرا فریق خود کو محفوظ تصور کرے۔ تو کیا یہ فتح کہلائے گی؟ درحقیقت، جنگ میں دونوں طرف انسانیت ہی ہارتی ہے۔ جو بچتا ہے وہ ملبہ، آنسو اور خوف ہوتا ہے۔ اس لیے فتح کا جشن منانا ایک خطرناک خوش فہمی ہے۔
ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل کامیابی جنگ جیتنے میں نہیں۔ بلکہ امن قائم کرنے میں ہوتی ہے۔ اگر دنیا کو واقعی کوئی سبق سیکھنا ہے تو وہ یہی ہو سکتا ہے کہ دشمن کو نیست و نابود کرنے کے بجائے امن کی طرف ہاتھ بڑھایا جائے۔ فتح وہی ہے جہاں ہتھیار نیچے رکھے جائیں، دل نرم ہوں، اور انسان کو انسان سمجھا جائے۔ خواہ وہ کسی بھی قوم یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔
درحقیقت، اصل فتح اس میں ہے کہ آئندہ مہلک ہتھیار بنانے کی دوڑ کو ترک کیا جائے۔ ان ہتھیاروں پر آنے والی اربوں کی لاگت کو تعلیم، صحت، معیشت، اور عوامی فلاح پر صرف کیا جائے۔ جنگیں بار بار اس لیے نہ لڑی جائیں کہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ امن کو اس لیے قائم رکھا جائے کہ آنے والی نسلیں خوف کے سائے میں نہ پروان چڑھیں۔ قومیں اگر واقعی مقابلہ کرنا چاہتی ہیں تو وہ میدان جنگ میں نہیں، بلکہ تجارت، معیشت، تحقیق، اور انسانی ترقی کے شعبوں میں مقابلہ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو تباہی کے دہانے سے نکال کر فلاح کی طرف لے جا سکتا ہے۔

