مولانا فضل الرحمن سیکولر ہو گئے۔۔۔؟


رائے کا حق سب کو ہے۔ رائے جرم نہیں ہوتی۔ سب کی رائے سننی چاہیے۔ اپنی دلیل دینی چاہیے۔ معاشرے میں مکالمہ اسی طرح آگے بڑھتا ہے۔ محترم سلیم جاوید نے جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ یوم تاسیس کے اجتماع پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے جمعیت علمائے اسلام کے سیکولر سیاست کی طرف جھکاؤ کا آئینہ دار قرار دیا ہے۔ ایک جملہ بھائی سلیم جاوید جوش میں یہ بھی لکھ گئے کہ "اجتماع کے پہلے دن کی تقریب میں مولانا فضل الرحمان کا بیان یہ تھا کہ ہم سیکولرزم کے خلاف نبرد آزما ہیں- دوسرے دن (جبکہ ساری سیکولر قیادت جمعیت علماء کے سٹیج پر موجود تھی) مولانا کا بیان یہ تھا کہ مجھے کسی مکتب فکر کا نہیں بلکہ پوری امت کا نمائندہ سمجھا جائے-"

بھائی سلیم جاوید سیکولر ازم کو رواداری کے معنوں میں لیتے ہیں۔ اور انہیں اصرار ہے کہ اسلام سیکولر ازم کا داعی ہے۔ جہاں تک رواداری کا تعلق ہے، واقعتاً رواداری سیکولر ازم کی بنیادی قدر ہے۔ سیکولر ریاستی نطام میں کسی کے عقیدے کی بنیاد پر کوئی امتیاز کرنا جائز نہیں۔ تاہم جاننا چاہیے کہ مذہب سیکولر نہیں ہوتا۔ مذہب کا تعلق انفرادی ضمیر سے ہے۔ تمام مذاہب الہامی اور الوہی عقائد کا مجموعہ ہیں۔ مذہب احکامات کی بنیاد دلیل اور شواہد پر نہیں ہوتی۔ سیکولر ازم میں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے تاہم سیکولر ازم مذہب نہیں بلکہ سیاسی نظام ہے۔ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا شہری سیکولر ہو سکتا ہے۔ محترم سلیم جاوید کا حسن ظن تسلیم لیکن مولانا فضل الرحمن کی سیاست مذہب کے تابع ہے۔ ان کی رواداری میں کوئی کلام نہیں، تاہم انہیں سیکولر سیاست کا علم بردار قرار دینا ذرا دور کی کوڑی لانا ہو گا۔ راقم نے گزشتہ انتخابات سے قبل پشین میں مولانا فضل الرحمن کی ایک انتخابی تقریر کو موضوع بنا کر "مذہب کے نام پر ووٹ” کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا جو اپریل 2013ء میں روز نامہ جنگ میں شائع ہوا۔ متن حاضر خدمت ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن اور ان کے پیرو کاروں نے اس موقف سے رجوع کر لیا ہے تو اس سے زیادہ خوشی کی بات ہو نہیں سکتی۔ تاہم قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا سیاست کو مذہب کے تابع رکھنا چاہتے ہیں۔ مذہب کے تابع سایست کو سیکولر سیاست نہیں کہا جاتا۔

٭٭٭    ٭٭٭

آپ نے چراغوں کی قطار کا ذکر سن رکھا ہو گا۔ آج آپ کو چراغوں کی قطار دکھاتے ہیں۔ ہندوستان کی ریاست اترپردیش چلئے۔ دہلی کے شمال مشرق میں کوئی 170 کلو میٹر کی مسافت پر سہارن پور کی مردم خیز بستی واقع ہے۔ یہاں 1866ءمیں ہندوستان کے دو جید اساتذہ مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ علما ہندوستانی مسلمانوں میں حریت فکر کی روایت کے علمبردار تھے۔ ہندوستان پر برطانوی راج کا سورج نصف النہار پر تھا۔ ابھی سرسید احمد خاں نے علی گڑھ سکول کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد کوئی دو دہائی بعد رکھی گئی لیکن دیوبند کے اساتذہ نے وطن دوستی کی ایسی شمع فروزاں کی جس نے بیسویں صدی میں ریشمی رومال تحریک کی صورت اجالا کیا۔ مولانا محمود حسن تب دیوبند کے رئیس الجامعہ تھے ۔ 1914 ءکی عالمی جنگ کا ہنگامہ شروع ہو اتو مولانا نے ترکی سے مل کر مسلح جدوجہد کے ذریعے برطانیہ کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کا خواب دیکھا۔ پنجاب پولیس نے سراغ پا لیا۔ گرفتار ہوئے اور جزائر انڈیمان میں قید کی سزا سنائی گئی۔ جامعہ دیوبند کی اخلاقی تربیت کا اثر تھا کہ ایک طالب علم نے اپنے سزا یافتہ استاد مولانا محمودحسن کی خدمت کے لیے رضاکارانہ طور پر کالے پانی کی سزا قبول کی۔ یہ طالب علم آگے چل کر شیخ الہند حسین احمد مدنی کے نام سے جانے گئے۔ جامعہ ملیہ کا سنگ بنیاد مولانا محمود حسن نے رکھا تو جمعیت علمائے ہند کی بنیاد حسین احمد مدنی نے رکھی۔ حسین احمد مدنی استخلاص وطن کی جدوجہد میں مذہب و ملت کا امتیاز روا رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ قوم کی تشکیل میں مذہب کے کردار پر ان کا علامہ اقبال سے اختلاف تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ بڑے لوگ تھے، اختلاف کا سلیقہ بھی جانتے تھے اور حدود بھی سمجھتے تھے۔ اقبال کی قامت بھی تو حسین احمد مدنی سے مکالمے میں متعین ہوتی ہے۔پنجاب پریس برانچ والے چوہدری محمد حسین کی عینک سے دیکھنا تو اقبال کو تنگنائے میں مقید کرنا ہو گا۔ حسین احمد مدنی مرحوم مولانا مفتی محمود کے استاد تھے۔ مولانا مفتی محمود کی سیاسی فکر سے اختلاف ممکن ہے لیکن ان کی دانش اور شخصی دیانت کے قائل تو ان کے مخالف بھی تھے۔ ہمارے فضل الرحمن صاحب مولانا مفتی محمود کے فرزند ہیں اور ایک روایت کے مطابق خود کو مولانا حسین احمد مدنی کا روحانی فرزند قرار دیتے ہیں۔ لیکن ببیں تفاوت رہ…. کا مضمون ہے۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا ’انہیں بھی دیکھ جنہیں راستے میں نیند آئی‘۔

الیکشن کمیشن نے11جنوری کو انتخابات کے بارے میں جو ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کوئی امیدوار مذہب یا فرقے کے نام پر ووٹ نہیں مانگ سکتا۔ جنوری کے دوسرے ہفتے میں انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے کا کاروبار عروج پر تھا۔ چنانچہ کسی نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر توجہ نہیں دی۔ اب انتخابات کا انعقاد واضح ہو چلا ہے تو کسی نے الیکشن کمیشن کا ہدایت نامہ نکال کر جھاڑا پونچھااور مذہب کے نام پر ووٹ نہ مانگنے کے اصول کو خبر بنا کر اچھال دیا۔ حسب توقع فضل الرحمن دھاڑے کہ مذہب کے نام پر ووٹ نہ مانگنا نظریہ پاکستان کے منافی ہے، الیکشن کمیشن کی یہ ہدایت کہ اسلام کے نام پر ووٹ نہ مانگے جائیں، سیکولر تصورات کی نمائندگی کرتی ہے۔ مولانا غفور حیدری نے بھی آواز بھری کہ ’ہم الیکشن کمیشن کی ہدایت کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں‘۔سبحان اللہ! مذہب کے نام پر سیاست کا دعویٰ اور خوش بیانی کے محاورے مقامی۔

سوال یہ ہے کہ آخر مذہب کے نام پر ووٹ کیوں مانگے جائیں۔انتخاب بذات خود ایک سیکولر معاشرتی مظہر ہے ۔ حق رائے دہی کی بنیاد شہریت ہے ، عقیدہ نہیں۔سیاست کا تعلق ایسی داخلی اور خارجہ پالیسیاں تشکیل دینے سے ہے جن کی مدد سے عوام کا معیار زندگی بہتر بنایا جا سکے۔ووٹ کا تصور اصول دین کا حصہ نہیں،تمدنی ارتقا سے اخذ کیا گیا ہے۔ تمام مذاہب رواداری اور احترام آدمیت کا درس دیتے ہیں لیکن مذہب کے نام پرسیاست منقسم کرتی ہے اور فساد پر ختم ہوتی ہے۔ تمام شہریوں کو اپنے ضمیر کی روشنی میں اپنے عقائد پر عمل پیرا ہونے کاحق حاصل ہے لیکن ووٹ اجتماعی زندگی میں ایسی شراکت کا اظہار ہے جو عقائد سے بالاتر ہے۔ پاکستان کے آئین کی تدوین میں دوسرے سیاسی رہنماﺅں کے علاوہ مولانا مفتی محمود ، مولانا شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد بھی شامل تھے۔ تمام مذہبی جماعتوں نے پاکستان کے آئین کو اسلامی قرار دیا تھا۔ پاکستان میں مسلمانوں کی تعداد 97 فیصد ہے اور یہاں مسلمانوں کے سیاسی یا معاشی مفادات کو کوئی خطرہ نہیں۔ چنانچہ پاکستان میں مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کا کیا مطلب؟

 مذہبی سیاست کا دعویٰ کرنے والی جماعتیں تو مذہبی بھی نہیں، فرقہ وارانہ گروہ ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام دیوبندی فرقے کے پیشواﺅں کی جماعت ہے۔ کیا یہ گروہ بریلوی یا شیعہ مسلمانوں سے ووٹ مانگتا ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے ۔ تو صاحب ایک طرف وہ معتوب سیاسی قوتیں جو فرقہ پرستی کی بجائے پاکستانی قومیت کے نام پر سیاست کرتی ہیں اور دوسری طرف قوم کو فرقوں کے خانوں میں بانٹنے کی نامبارک سعی ہے جس کی اخلاقی قامت یہ ہے کہ کتاب کے انتخابی نشان کو ’الکتاب‘ قرار دیتی ہے اور انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کو تحریک نظام مصطفےٰ کا نام دے دیتی ہے۔ سادہ بات ہے کہ یہ حضرات اپنی سیاسی امنگوں کی آبیاری کے لیے پاکستان کے خوش عقیدہ عوام سے اپنی پارسائی اور پرہیز گاری کا خراج لینا چاہتے ہیں؟

پشین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے فرمایا ۔”آئندہ انتخابات میں مذہبی قوتوں کا سیکولر قوتوں سے براہ راست مقابلہ ہو گا“۔ وہ تمام جماعتیں سیکولر ہیں جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر نہیں بلکہ پاکستان کے تمام شہریوں سے تائید کی طلب گار ہیں۔ اسی طرح جو جماعتیں مذہب کا نام استعمال کرنے کی بجائے وفاق کے استحکام اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے پروگرام پر انتخاب لڑ رہی ہیں ، سیکولر جماعتیں ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قائداعظم اور ان کی جماعت نے مذہبی تشخص کے دعویداروں کو شکست دی۔ بھٹو کی جماعت نے 1970ءکے انتخابات میں مذہبی سیاست دانوں کو شکست دی۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سیاست میں مذہب کے دعویداروں کو مات دی۔ مذہبی جماعتوں نے 2002ءکے متنازع انتخابات میں ایک فوجی آمر کی چھتری تلے دو صوبوں میں محدود کامیابی حاصل کی اور سترہویں آئینی ترمیم میں حصہ ڈال کر اپنی سیاسی بصیرت کا پول کھول دیا۔ آئندہ انتخابات میں مذہب سے متعلقہ کوئی سوال درپیش نہیں۔ قوم کو بنیادی طور پر ایک ہی مسئلے کا سامنا ہے اور وہ ہے معیشت ۔ اگر کوئی عوام کے مذہبی خیالات کا استحصال کرنے ہی کو سیاست سمجھتا ہے تو پھر اسے تیار رہنا چاہیے کہ اگر انتخابی نتائج میں پاکستان کی تاریخ دہرائی گئی اور مذہبی جماعتوں کو شکست ہوئی تو یہ نتیجہ نکالنا درست ہو گا کہ عوام نے مذہبی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS