مخصوص نشستوں کا زخم


پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا فیصلہ آیا ہو جس نے ایک جماعت کے سیاسی وجود اور پارلیمانی طاقت پر اتنا گہرا زخم چھوڑا ہو جتنا کہ مخصوص نشستوں سے محرومی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر چھوڑا ہے۔ عام انتخابات 2024 کے بعد پی ٹی آئی، جو پہلے ہی انتخابی عمل کے دوران کئی مشکلات، پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کر رہی تھی، مخصوص نشستوں سے محرومی کے بعد ایک ایسے دھچکے سے دوچار ہوئی جس نے اس کی عددی حیثیت، سیاسی موقف اور پارلیمانی موثر کردار کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

بظاہر مخصوص نشستیں صرف کچھ اضافی سیٹیں لگتی ہیں، لیکن پاکستان جیسے پارلیمانی نظام میں یہ نشستیں طاقت کے توازن میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص یہ نشستیں ان جماعتوں کو ملتی ہیں جو عمومی نشستوں پر بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے اگرچہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، اور بعد ازاں باقاعدہ جماعت سے الحاق کا اعلان بھی کیا، مگر قانونی موشگافیوں اور ادارہ جاتی تشریحات کے باعث انہیں مخصوص نشستوں کا حق دار نہ سمجھا گیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں ایک جیتنے والی جماعت کو آئینی عمل کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی ایک ناقابل تلافی سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

تقریباً 20 سے زائد نشستیں، جو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص تھیں، پی ٹی آئی کے بجائے دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں، بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو۔ یہ وہ جماعتیں تھیں جو عمومی نشستوں میں پی ٹی آئی کے آزاد حمایت یافتہ امیدواروں سے خاصی پیچھے تھیں، مگر مخصوص نشستوں کی اس ”تقسیمِ نو“ نے انہیں عددی برتری عطا کی اور اقتدار کا راستہ کھول دیا۔ یوں مخصوص نشستوں کا یہ زخم صرف عددی نقصان تک محدود نہیں رہا، بلکہ سیاسی توازن کو ہی بدل کر رکھ دیا۔

یہ نقصان پی ٹی آئی کے لیے ایک ایسا دھچکہ تھا جس نے نہ صرف پارلیمانی عدد میں کمی کی بلکہ جماعت کے سیاسی بیانیے کو بھی چیلنج کر دیا۔ مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین اور اقلیتی نمائندگان ایوان میں پارٹی کا موقف بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی عدم موجودگی نے نہ صرف پی ٹی آئی کی آواز کو کمزور کیا بلکہ اس کے کارکنان اور ووٹرز کو بھی مایوسی سے دوچار کیا۔ ایک ایسی جماعت جو خود کو ”عوام کی نمائندہ قوت“ سمجھتی ہو، جب مخصوص نشستوں سے یکسر محروم ہو جائے تو یہ اس کی عوامی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

اس معاملے کا ایک اور زاویہ اس کے قانونی و آئینی پہلو سے جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات لڑنے پر مجبور کیے گئے تھے، مگر انتخاب کے فوراً بعد انہوں نے باقاعدہ جماعت سے الحاق کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن اور عدالتی فورمز نے ان کی سیاسی وابستگی کو جماعتی حیثیت دینے سے انکار کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ آئینی بحث تھی، مگر اس کا نتیجہ پی ٹی آئی کے لیے سراسر نقصان دہ نکلا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مخصوص نشستوں سے محرومی نے پی ٹی آئی کو نہ صرف پارلیمان میں پالیسی سازی اور قانون سازی کے میدان میں کمزور کیا ہے بلکہ اسے کئی اہم پارلیمانی کمیٹیوں سے بھی باہر کر دیا ہے۔ ان کمیٹیوں میں موثر نمائندگی کے بغیر کوئی بھی جماعت نہ تو موثر اپوزیشن کا کردار ادا کر سکتی ہے، نہ ہی حکومتی پالیسیوں پر بھرپور تنقید کر سکتی ہے۔

یہ زخم صرف پی ٹی آئی کی جماعتی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ایک وسیع تر عوامی تاثر کو جنم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس فیصلے کو ”عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا“ قرار دیا ہے۔ عمران خان سمیت دیگر رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مخصوص نشستوں سے محرومی دراصل ایک منظم سازش تھی تاکہ ”اصل اکثریت“ کو پارلیمان سے باہر رکھا جائے اور ایک ”مصنوعی حکومت“ قائم کی جا سکے۔ اس بیانیے نے پی ٹی آئی کے کارکنان میں نئی جان ڈال دی ہے، اور جماعت اس زخم کو اب ایک عوامی تحریک میں بدلنے کے لیے کوشاں ہے۔

تاہم، تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کو اپنے قانونی اور انتخابی فیصلوں پر نظرِثانی کرنی چاہیے تھی۔ اگر انتخابات سے قبل ہی ایک سیاسی پلیٹ فارم پر قانونی شناخت قائم کر لی جاتی، یا آزاد امیدواروں کی حیثیت کو مزید واضح اور محفوظ طریقے سے مربوط کیا جاتا، تو شاید مخصوص نشستوں کے اس زخم سے بچا جا سکتا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست صرف جلسوں اور نعروں کا کھیل نہیں، بلکہ آئینی و قانونی موڑ پر درست فیصلے کرنے کی مہارت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مخصوص نشستوں سے محرومی نے پی ٹی آئی کو وقتی طور پر بہت کچھ کھو دینے پر مجبور کیا، لیکن یہی زخم اگر حکمتِ عملی، تنظیمی استحکام، اور عوامی شعور کی بنیاد پر استعمال کیا جائے تو مستقبل کی کامیابی کا محرک بھی بن سکتا ہے۔ یہ زخم وقتی ہو یا مستقل، اس کا دار و مدار اب پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان کی سیاسی بصیرت، قانونی چابکدستی، اور عوامی رابطے کی طاقت پر ہے۔

جہاں تک قومی سیاست کا تعلق ہے، مخصوص نشستوں کا یہ تنازعہ اب محض ایک جماعت کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ معاملہ اس نظام کی شفافیت، جمہوریت کی روح، اور عوامی رائے کے احترام سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ایسے زخم بار بار لگتے رہے تو صرف ایک جماعت نہیں، پوری جمہوریت خون تھوکے گی۔

Facebook Comments HS