سندھ کے کچے میں ڈاکو راج: حکومت کہاں ہے؟
سندھ کے کشمور ضلع کے لوگ ڈاکو راج سے تنگ آ کر کر اسلام آباد میں احتجاج کر رہے ہیں، سندھ میں کچے کے علاقے گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی اور جرائم کا گڑھ بنے ہوئے ہیں، خاص طور پر کشمور، جیکب آباد، شکارپور اور گھوٹکی کے اضلاع۔ ان علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کے باوجود ڈاکو راج نہ صرف برقرار ہے بلکہ جدید ہتھیاروں اور ڈیجیٹل ذرائع سے لیس ہو کر مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
دیکھا جائے تو سندھ میں ڈاکو کلچر کا آغاز نوابوں اور جاگیرداروں کے زمانے سے ہوا، جب مقامی با اثر افراد اپنی ذاتی فوج کے طور پر ڈاکوؤں کو استعمال کرتے تھے۔ یہ ڈاکو علاقے میں مخالفین کو دبانے، زمینوں پر قبضے اور لوگوں کو خوفزدہ رکھنے کے لیے استعمال ہوتے رہے۔ 80 اور 90 کی دہائی میں ان ڈاکوؤں نے باقاعدہ گروہ کی شکل اختیار کی اور اسلحہ و رسد کے نظام کو بہتر بنایا۔ پولیس کی کمزور کارروائیوں، سیاستدانوں کی پشت پناہی اور عدالتی کمزوریوں نے انہیں مزید تقویت دی۔
2020 کے بعد سندھ کے کچے کے علاقے ایک بار پھر خبروں میں نمایاں ہوئے، جب ڈاکوؤں نے پولیس اہلکاروں کو اغوا، قتل اور عام شہریوں کو تاوان کے لیے قید کرنا شروع کیا۔ شکارپور میں پولیس نے بکتر بند گاڑیوں سمیت آپریشنز کیے لیکن ڈاکوؤں نے جدید ہتھیاروں، راکٹ لانچرز اور ڈرونز کا استعمال کر کے حکومتی رٹ کو چیلنج کیا۔
کشمور اور گھوٹکی میں ڈاکو گروہوں نے مکمل ”نو گو ایریاز“ قائم کیے ہیں، جہاں پولیس کا داخلہ ممنوع ہے۔ ان علاقوں میں ڈاکوؤں کے اپنے ”قوانین“ رائج ہیں، اور وہ عام شہریوں سے ”چندہ“ کے نام پر پیسے لیتے ہیں۔ جیکب آباد اور شکارپور کے کئی علاقوں میں تو ڈاکوؤں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز جاری کر کے ریاست کو للکارا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایٹمی ریاست اپنے ہی ایک صوبے میں ڈاکو راج کیوں ختم نہیں کر سکتی؟ کیا سرکار کی کمزوری ہے یا پھر کہیں نہ کہیں سے ان ڈاکوؤں کو سہولت کاری حاصل ہے؟ پولیس کی بھرتیوں میں سیاسی مداخلت، وسائل کی کمی، اور نچلی سطح پر کرپشن اس نظام کو مفلوج کر چکی ہے۔
کچے کے علاقوں کے لوگ دہائیوں سے یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ بچیوں کے اغوا، تاوان، قتل اور جنسی زیادتی جیسے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ لوگ اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے ڈاکوؤں سے معاہدے کرتے ہیں۔ جب ریاست لوگوں کو تحفظ نہ دے سکے تو عوام کا اعتماد ختم ہونا فطری ہے۔
حل کیا ہے؟
سیاسی مداخلت ختم کی جائے۔ پولیس کو مکمل اختیارات دیے جائیں اور ان کی کارکردگی پر غیر سیاسی نگرانی ہو۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈرون، ہیلی کاپٹر، اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے مشترکہ آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔ کچے کے علاقوں میں روزگار، تعلیم، صحت اور ترقیاتی اسکیمیں شروع کی جائیں تاکہ مقامی لوگ جرائم سے دور رہیں۔ میڈیا کو دبانے کے بجائے، اس کی رپورٹس سے سیکھنا ہو گا۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔
سندھ کا کچے کا علاقہ پاکستان کا حصہ ہے، نہ کہ کوئی متنازع سرزمین۔ جب تک سندھ حکومت اپنی رٹ قائم نہیں کرتی، ان علاقوں کے عوام یرغمال ہی رہیں گے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم ایک منظم ریاست بننا چاہتے ہیں یا ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر رہنا چاہتے ہیں۔


