سندھ کے تعلیمی نظام کی حالت زار


کراچی کے سولجر بازار میں قدیم تاریخی سکول کو قبضہ مافیا نے منہدم کردیا۔ طالبات نے ملبے پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی۔ اس سکول کو مسمار کرنے والے لینڈ مافیا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے قومی ورثہ قرار دی جانے والی اس عمارت کو نقصان پہنچانے پر برہمی کا اظہار کیا اور ذمہ داروں کےخلاف کارروائی کا حکم دیا۔ اس خبر کو میڈیا نے آگ کی طرح پھیلا دیا اور لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا اور سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر کراچی جیسے شہر میں دن دہاڑے ایسی صورتحال ہو جاتی ہے تو پھر اندرون سندھ کے سکولوں کی کیا صورتحال ہوگی جہاں وڈیرے سائیں اور جاگیرداروں کا اپنا نظام رائج ہے۔ سندھ میں ایسے سینکڑوں سکول ہیں جو قبضہ مافیا، وڈیروں، جاگیرداروں کے زیر استعمال ہیں۔ دور دراز اندرون سندھ بیشتر سکول بااثر لوگوں کے جانوروں کے باڑوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر شہری سکولوں کی بات کی جائے تو ان سکولوں کے کھیل کے میدانوں پر مافیا قابض ہے جہاں پر انہوں نے دکانیں اور گھر بنا لیے ہیں۔ ٹیچر یونینز بھی سیاست زدہ ہوگئی ہیں وہ برائے نام ٹیچر اور تعلیم کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ تمام عہدےداروں کو کسی نہ کسی وڈیرے سائیں، سردار، یا رئیس سائیں کے ہاتھ کا سایہ چاہیے ہوتا ہے۔ تنخواہ تو وہ سندھ سرکار سے لیتے ہیں مگر وفادار سائیں بوتار کے ہوتے ہیں۔ ایسا ہی حال ہے محکمہ تعلیم کے افسران سے لے کر کلرک بادشاہ تک وڈیرے سائیں کے خاص بندے ہوتے ہیں اور حکم بھی سائیں سرکار کے سرداروں، امیروں کے اہل و عیال کا مانتے ہیں۔ سندھ کے محکمہ تعلیم کے ارب پتی کلرکوںکا عیش و عشرت دیکھنے والا ہے۔ آج کل کے ٹیوشن سینٹر، اکیڈمیز اکثر انہی اساتذہ کے ہیں جو سرکاری سکول میں تو کم پڑھاتے ہیں مگر اپنی اکیڈمیز میں خوب پیسہ بٹور کر بچوں کو ڈاکٹر انجینئر بنوانے کے سہانے خواب دکھاتے ہیں۔ باقی رہی بے چاری تعلیم تو اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔

بوٹی مافیا، پولیس،اساتذہ،ضلع انتظامیہ کی ساز باز سے وہاں پر امتحانات ہوتے ہیں اور آج کل وہاں میٹرک کے امتحانات جاری ہیں اور دوسری طرف بوٹی مافیا کا راج۔ پرچہ آدھا گھنٹہ پہلے ہی آﺅٹ ہو جاتا ہے اور پھر آرام سے ہر ایک فوٹو سٹیٹ دکان سے 100 روپے فی سوال مل جاتا ہے اس کے بعد اس سوال کو سکول انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے امتحانی مرکز تک پہنچایا جاتا ہے بس طلبا اور طالبات کو صرف تکلیف کر کے لکھنا ہوتا ہے۔ اب ایسے ماحول میں سکول مسمار ہی ہوں گے نا۔ کیوں کہ ان سرکاری سکولوں میں تو صرف غریب کے بچے جاتے ہیں باقی مڈل کلاس سے لے کر افسران، وڈیرے جاگیرداروں کے بچے تو پرائیوٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ بھلا انہیں سرکاری سکولوں سے کیا غرض۔ سندھ کا تعلیمی نظام ایک ناسور بن چکا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سندھ کے باشعور لوگ تعلیمی نظام کی تباہی پر آواز نہیں اٹھا رہے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں میں سنی نہیں جا رہی ۔ ہمیں چاہیے کہ سندھ کے نظام تعلیم، سکولوں کی عمارتوں کو ان مافیاز کے چنگل سے آزاد کرانے میں ہم ان لوگوں کا ساتھ دیں جو صحیح معنوں میں سندھ کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اگر ہم سارے ایک آواز بن کر اکٹھے ہو جائیں گے تو ہماری آواز اقتدار کے ایوانوں میں سنی بھی جائے گی اور اس کا مداوا کرنے کے لئے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہمارے منتخب نمائندے بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہوةگے۔ سندھ کے عوامی شاعر استاد بخاری نے کہا ہے کہ

پیرئیی پیر کجیی پر جی لگاتار کجیی
کندی بہ ہجیی دکیی منزل کثیی پوندی آ
(اگر ایک قدم بھی چلو گے اور چلتے رہو گے کتنی بھی کٹھن منزل ہو ایک دن مل ہی جائے گی )

Facebook Comments HS