سبق جو وقت سکھا گیا
وقت کبھی نہیں رکتا، یہ ایک حقیقت ہے لیکن اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وقت انسان کے اندر بہت کچھ بدل دیتا ہے۔ وقت انسان کو وہ سبق سکھا دیتا ہے جو نہ تو کسی کتاب میں ملتے ہیں نہ کسی استاد کی زبان سے ادا ہوتے ہیں، لیکن ہماری روح میں کہیں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔ وقت کا انسان کی شخصیت پر بھی بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ وقت ہماری سوچ کو بدل دیتا ہے اور ہمیں زندگی کی حقیقت سے روشناس کرواتا ہے۔ یہ وقت ہی تھا جس نے فصاحت و بلاغت کی معراج پہ فائز انسانوں کو قبرستانوں کے خاموش باسی بنا دیا۔
جو کل بیان کے تاج تھے، آج خاک میں خموش
وقت نے بلاغت کے سورج کو غروب کر دیا
یہ ایک سچ ہے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ ہماری زندگی میں خوشیاں بھی آتی ہیں اور غم بھی۔ برا وقت بھی آتا ہے اور اچھا بھی۔ ہمیں دونوں حالات میں خوش رہنا چاہیے کیونکہ برا وقت اللہ تعالٰی کی طرف سے آزمائش ہے اور اچھا وقت اللہ کی طرف سے رحمت۔ برا وقت انسان پر دو طرح سے اثرانداز ہوتا ہے یا تو انسان سیدھے رستے پر چل پڑتا ہے یا غلط پر۔ جو انسان اپنی مشکل کو دور کرنے کے لیے برائی کا سہارا لیتا ہے وہ اپنی زندگی کو آگ میں دھکیلنا ہے اور اپنی پوری زندگی صرف پچھتاتا ہے۔ اور جو انسان صبر کا لبادہ اوڑھے رکھتا ہے اور اچھائی کے رستے پر گامزن رہتا ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ حالات کی تبدیلی ہمیں لوگوں کی اصلیت سے بھی ہمکنار کرتی ہے۔ کوئی ہمارے ساتھ کتنا مخلص ہے یہ ہمیں ہمارے برے وقت میں پتہ چلتا ہے وگرنہ اچھے وقت میں تو سامنے کھڑا حریف بھی کچھ نہیں کہتا۔ یہ وقت جو بھروسے کی تعریف ہی بدل دیتا ہے۔ اعتماد ہمارے لیے کسی پر یقین کا نام نہیں رہتا بلکہ اچھے اور برے وقت کی شناخت بن جاتا ہے۔
ہماری زندگی بھی وقت کی مانند ہوتی ہے۔ جیسے گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ نہیں سکتا اسی طرح ہماری زندگی کے گزرے ہوئے لمحات بھی کبھی واپس نہیں آسکتے۔ اسی لیے ہمیں زندگی کے ہر لمحے کو اس طرح جینا چاہیے کہ بعد میں ہمیں ہماری زندگی کے کھوئے ہوئے لمحات پر پچھتاوا نہ ہو کیونکہ پا کر کھو دینے سے بڑا کرب کوئی نہیں ہوتا۔ اور اگر آپ پا کر اپنے ہاتھوں سے گنوا دو، وہ بھی صرف اپنی لاپرواہی کی وجہ سے تو اس سے بڑھ کر پچھتاوا کس بات پر ہی ہو گا۔ وقت اور زندگی کا ہر لمحہ دونوں بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ یہ زندگی ہی ہے جو وقت کو قیمتی بناتی ہے۔
زندگی نے وقت کو بخشا جوہر اعتبار
ورنہ لمحے تو یونہی ریت سے بہتے رہے
وقت کی تین اقسام ہوتی ہیں۔ ایک وقت جو گزر گیا، گزرا ہوا وقت اچھی یا بری یاد بن کر ہمارے ذہنوں پر نقش ہو جاتا ہے۔ دوسرا وقت جو گزر رہا ہے۔ یہ وہ واحد وقت ہے جو ہمارے اختیار میں ہوتا ہے اور اس بات کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم اسے ایک اچھی یاد بناتے ہیں یا بری۔ تیسرا وہ وقت ہے جو آنے والے ہے جس کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہوتا حتی کہ ہم یہ بھی نہیں پتا ہوتا کہ ہم آنے والے لمحے تک زندہ ہوں گے یا نہیں۔ لیکن پھر بھی ہم سب سے زیادہ فکرمند اپنے مستقبل کے لیے ہوتے ہیں۔ اور اسی فکر میں اکثر اپنے حال کو بھی برباد کر دیتے ہیں۔
وقت کبھی کبھار ایسا کھیل کھیلتا ہے کہ انسان سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے یا پھر سمجھنا چاہتا ہی نہیں۔ وقت ہم سے ہمارے اپنوں کو چھین لیتا ہے وہ اپنے جن کے بغیر ہم جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارے اپنے چھن جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں ہمیشہ کے لیے ہمارے دل میں دفن ہو جاتی ہیں، جو وقت بہ وقت ہمیں انہیں کھو دینے کا احساس دلائے رکھتی ہیں۔ لیکن ایک غلطی جو ہم کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم مرنے والوں کا تو احساس کرتے ہیں لیکن زندہ لوگوں کا نہیں۔ حتی کہ سہارے کی ضرورت زندہ لوگوں کو ہوتی ہے، مرنے والے کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کتنا رویا۔
وقت گزر تو جاتا ہے لیکن خالی ہاتھ نہیں جاتا۔ کچھ یادیں، کچھ پچھتاوے اور کچھ زخم ایسے چھوڑ جاتا ہے کہ صدیوں بعد بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ اور یہی وقت کی سب سے بڑی چال ہے کہ یہ گزر تو جاتا ہے لیکن نشان باقی چھوڑ جاتا ہے جو کہ انسان کو بالکل بدل دیتے ہیں۔
وقت نے جب آئینہ دکھلایا، تو میں خود سے روٹھ گی
جو سبق ملا، وہ خامشی کی سیاہی میں لکھا تھا
وقت کے ساتھ انسان کی زندگی میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ انسان کی سوچ، ترجیحات، توقعات، یہاں تک کہ خواب بھی بدل جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وقت سب زخم بھر دیتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انسان وقت گزرنے کہ ساتھ درد میں جینا سیکھ جاتا ہے۔
وقت اور تجربے کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ وقت کے ساتھ ہر شے کا تجربہ ہو ہی جاتا ہے۔ وقت اس بات پر اثرانداز ہوتا ہے کہ کس طرح تجربات ذخیرہ کیے جاتے ہیں، یاد رکھے جاتے ہیں اور ظاہر ہوتے ہیں۔ تجربہ ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ ہماری شخصیت کو ابھارتا ہے اور ہم خوداعتمادی جیسی خصوصیات کو جنم دیتا ہے۔ تجربات ہماری زندگی کے فیصلوں میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور ہمیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
تجربے کے دوزخ سے جو گزرا، وہی عارف ٹھرا
نرم لہجوں میں چھپے زخموں کا مفہوم سمجھا
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اور اور زندگی کچھ نہ کچھ سیکھتے رہیں۔ وقت ایک بہت بڑی نعمت اور زحمت بھی۔ اچھا برا وقت آتا رہتا ہے، کامیاب انسان وہی ہے جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ اپنے حال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، آپ کا مستقبل خود ہی سنور جائے گا۔ اور وقت سے پہلے ہی سنبھل جائیں وگرنہ وقت کی چوٹ مہنگی پڑ سکتی ہے۔

