تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے میں نگرانی کرنے والی تنظیموں کا کردار
اسلام آباد۔ جیسے جیسے دنیا میں کئی علاقوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان، آزاد نگرانی کرنے والی تنظیموں کا کردار تنازعات کو مزید بھڑکنے سے روکنے میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ علاقائی ماہرین اور سفارت کاروں نے جمعرات، 19 جون کو کہا کہ ان تنظیموں کی موجودگی عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
آزاد تنظیمیں، جن میں این جی اوز، تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی مبصر ادارے شامل ہیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بناتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کی کوششیں محض رسمی نہیں بلکہ اکثر یہ تنظیمیں تشدد کے پھیلاؤ کی پہلی رکاوٹ ہوتی ہیں۔
انٹرنیشنل کانفلکٹ مانیٹرنگ ایجنسی کی سینئر تجزیہ کار کلارا نیومین کا کہنا ہے :
”آزاد نگرانی کرنے والی تنظیمیں جارحانہ بیانیے اور پرتشدد عمل کے درمیان بفر کا کردار ادا کرتی ہیں۔ جب یہ تنظیمیں حقوق کی خلاف ورزیوں یا جھوٹی معلومات کو بے نقاب کرتی ہیں تو سفارتی مداخلت کے لیے فوری اور درست معلومات فراہم ہوتی ہیں۔“
اس وقت مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بگڑتی صورت حال سے پورے خطے میں عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ عسکری جھڑپیں اور سخت بیانات نہ صرف پورے مشرق وسطیٰ کو لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ہمسایہ ممالک پر بھی شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ بیان میں تمام فریقوں پر تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی مزید بڑھی تو یہ مشرق وسطیٰ بھر میں فرقہ ورانہ تنازعات کو ہوا دے سکتی ہے، جس سے علاقائی استحکام شدید متاثر ہو گا۔
دفتر خارجہ نے کہا:
”ہم سمجھتے ہیں کہ تنازعہ زدہ علاقوں میں شفافیت اور غیر جانبدار رپورٹنگ نہایت اہم ہے۔ عالمی نگرانی کرنے والی تنظیموں کو مکمل رسائی ملنی چاہیے تاکہ وہ حقائق کی تصدیق اور شہریوں کا تحفظ کر سکیں۔“
پاکستان، جو مسلم دنیا میں اہم سفارتی مقام رکھتا ہے، ہمیشہ سے غیر جانبدار اداروں کے ذریعے مکالمے اور روک تھام کی سفارت کاری پر زور دیتا آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق غلط معلومات اور پروپیگنڈا آج کے تنازعات میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے نگرانی کرنے والی تنظیموں کا غیر جانبدارانہ کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔ یہ تنظیمیں جھوٹے دعوے سامنے لا کر تنازعات کو بڑھنے سے روکنے میں مدد دیتی ہیں۔
تاہم ان کے کام میں مشکلات بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیمیں اکثر جنگی علاقوں تک رسائی میں مشکلات اور حکومتوں و عسکری گروپوں کی طرف سے جانبداری کے الزامات کا سامنا کرتی ہیں۔
نیومین نے کہا:
”جنگ کی دھند راز داری میں پنپتی ہے۔ شفافیت کشیدگی کی دشمن ہے۔ جب حقیقت سب کے سامنے آتی ہے تو تنازعات کو بے لگام بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔“
ایران۔ اسرائیل تنازعہ ثابت کرتا ہے کہ غیر جانبدار نگرانی ضروری ہے تاکہ نہ صرف شہری محفوظ رہیں بلکہ ثالثی کرنے والوں کے پاس درست معلومات موجود ہوں۔
پاکستان کی جانب سے ان تنظیموں کے کردار کو بڑھانے کا مطالبہ اس کے اس تجربے کی وجہ سے ہے جو اس نے افغانستان میں غیر ملکی مداخلتوں کے اثرات سے سیکھا ہے۔ پاکستان اچھی طرح جانتا ہے کہ تنازعات سرحدیں پار کر کے معیشتوں کو غیر مستحکم اور معاشروں میں فرقہ ورانہ تقسیم کو گہرا کر سکتے ہیں۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ ان تنظیموں کو مزید وسائل، رسائی اور سیاسی حمایت فراہم کرے، ورنہ دنیا جھوٹی معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے پر مجبور ہو جائے گی، جس سے سفارتی حل مزید مشکل ہو جائیں گے۔
ایران۔ اسرائیل تنازعہ دنیا کے لیے امتحان ہے :
کیا دنیا پروپیگنڈے کو حقیقت پر غالب آنے دے گی یا غیر جانبدار اداروں کو حقیقت سامنے لانے کا موقع دے کر امن کی کوشش کرے گی؟
پاکستان اور دنیا کے لیے اس سوال کا جواب آنے والے برسوں میں خطے اور عالمی استحکام کا رخ متعین کرے گا۔


