ناظم آباد کی عزاداری۔ ایک روح پرور روایت کا نوحہ
ماہِ محرم کی غم گسار ساعتیں سراپا الم بن کر شہر پر سایہ فگن ہیں، اور ایسے میں اگر ناظم آباد کی عزاداری کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ اس متبرک خطے کی تاریخ و تہذیب سے چشم پوشی کے مترادف ہو گا۔
بزرگوں کی زبانی سنا کرتے تھے کہ اگر انچولی کی مجالس و ماتم لکھنؤ کی تہذیبی جھلک پیش کرتے تھے، تو ناظم آباد کی عزاداری میں امروہہ کی معنویت اور حزن کی شائبہ ہوا کرتی تھی۔
ہم اب اس عمرِ رفتہ کے مرحلے میں قدم رکھ چکے ہیں جہاں کمر کی ہلکی سی کسک ماضی کی دہلیز پر لے جاتی ہے۔ بچپن سے شباب تک کا سارا منظرنامہ ناظم آباد نمبر 3 کی ان دو مقدس درسگاہوں۔ نور الاسلام مسجد اور نور ایمان امام بارگاہ۔ کے درمیان محیط رہا۔ اگرچہ ہماری ولادت ایک سنی خانوادے میں ہوئی، مگر ناظم آباد کی فضائیں ایسی روا دار تھیں جو مسلک و مذہب کے امتیاز سے بالاتر ہو کر ہر دل کو طمانیت بخشتی تھیں۔
جب یکم محرم کی ہلالی نوک افق پر ابھرتی، تو گویا ناظم آباد کا ہر ذی روح ایک نئے جذبے، نئے حزن اور نئے خلوص کے ساتھ اپنی حیثیت کھو دیتا اور عزادارِ حسین بن جاتا۔ مجالس کا انعقاد، جلوسوں کی ترتیب، نیاز و نذر کی فراوانی، اور نوحہ و ماتم کا مسلسل ارتعاش۔ یہ سب ایک ہم آہنگ نغمۂ وفا میں ڈھل جاتا۔
شبِ عاشور وہ شبِ بے خودی ہوتی تھی جب گلی گلی سے حلیم کی دیگیں اٹھتی تھیں، اور فضا میں علی ضیا رضوی اور سچے بھائی کے نوحے گونجا کرتے تھے۔ ادھر عثمان و حارث گوش برآواز ہوتے کہ کب عباس کے دولت کدے سے نیاز کی صدا بلند ہو۔ یہ وہ لمحے ہوتے تھے جن میں دل گھلتے تھے اور آنکھیں برستی تھیں۔ نہ کوئی فریق، نہ کوئی مسلک، فقط حسینؑ کی محبت کا پرچم بلند۔
دو ہزار کی دہائی میں جب فرقہ ورانہ نفرتوں نے آہستہ آہستہ معاشرے میں زہر گھولنا شروع کیا، تب بھی ناظم آباد کئی برسوں تک اس تعفن سے محفوظ رہا۔ مجالس کی حفاظت پر اکثر سنّی نوجوان دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوتے، اور باہم محبت کی یہ فضا خود ایک درسِ کربلا بن گئی تھی۔
افسوس کہ پھر وہ بدنصیب دن آئے جب شہرِ کراچی کو ناسور زدہ آنکھ لگ گئی۔ اور اس کی لپیٹ میں ناظم آباد بھی آیا۔ وہ ناظم آباد جس کی گلیاں کبھی وحدت و محبت کی تصویر ہوا کرتی تھیں، وہی گلیاں اب ماتم کی حقیقی صورت اختیار کر گئیں۔
امن و سکون کے وہ پرانے دن، خلوص سے لبریز وہ آوازیں، اور نذر و نیاز کی وہ گہما گہمی۔ سب کچھ رفتہ رفتہ ماضی کے دُھندلکوں میں چھپ گیا۔
ناظم آباد کی عزاداری صرف ایک مذہبی روایت نہ تھی بلکہ ایک تہذیبی میراث تھی جو یکجہتی، رواداری، اور حسینؑ سے بے لوث محبت کی علامت تھی۔ یہ وہ میراث تھی جس میں بچے، جوان، بزرگ، مرد و زن سب شریک ہوتے۔ کسی کو مسلک کی تمیز نہ تھی، صرف ماتمِ مظلومِ کربلا کا رنگ غالب ہوتا۔ آج جب ہم زمانے کی بے رحم کروٹوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو دل لرز جاتا ہے کہ ہم نے وہ معاشرتی سرمایۂ الفت کیوں کر کھو دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس روایت کو صرف یادوں تک محدود نہ ہونے دیں بلکہ نئی نسل کو اس سے روشناس کرائیں۔
ناظم آباد کی عزاداری محض ایک ماتمی تسلسل نہیں، بلکہ یہ ایک پیغام ہے۔ وحدت، صبر، ایثار اور قربانی کا۔ یہی پیغام آج بھی ہمارے بکھرتے معاشرے کو جوڑنے کی طاقت رکھتا ہے، بشرطیکہ ہم اسے سچے دل سے اپنائیں۔


