ایک گائناکولوجسٹ سے ملاقات کی کہانی
طب کا پہلا اصول مریضوں کو نقصان نہ پہنچانا ہے۔ کسی انسان کو تکلیف پہنچانے کے لیے ہتھیار لازمی نہیں ہیں۔ بعض دفعہ ہمارے الفاظ بھی دوسرے انسانوں کو شدید تکلیف پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ طب کے شعبے میں جتنی اہمیت ہماری مہارت کی ہے اتنی ہی اہمیت ہمارے مریضوں کے ساتھ پیش آنے کے طریقے اور الفاظ کے چناؤ کی بھی ہے۔ آج کی کہانی ہماری ایک مریضہ نے سنائی۔ ان کی شناخت چھپا دی گئی ہے۔ اس کہانی کو بتانے میں ان کی اجازت شامل ہے۔
میری عمر تقریباً تئیس سال ہے اور میں ایک میڈیکل کالج کی طالبہ ہوں۔ کچھ مہینے پہلے مجھے ماہواری کے بعد بھی خون کے جاری رہنے کی پریشانی لاحق ہوئی۔ میں نے ایک دو ہفتہ انتظار کیا یہ سوچ کر کہ یہ خود ہی رک جائے گی لیکن جب میری حالت میں کوئی بہتری ہوتی نظر نہیں آئی اور ساتھ میں کمزوری بھی بڑھتی گئی تو میں نے ایک گائناکولوجسٹ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں سے پوچھا کہ کس گائناکولوجسٹ سے مشورہ کروں تو انہوں نے ایک نام بتایا جو کہ ایک مشہور اور نامور ماہر تھیں اور کافی لوگ ان کو جانتے تھے۔ میں نے ان کے ساتھ اپائنٹمنٹ حاصل کی جو کہ ایک ہفتے بعد کی ملی۔ انہوں نے ایک الٹراساؤنڈ کروانے کا کہا جو کہ میں نے وزٹ سے پہلے کروا لیا تھا۔ پھر ایک دن میں کالج سے واپسی میں ان کے کلینک پہنچی۔ میں وہاں تین بجے پہنچ گئی تھی۔ آہستہ آہستہ انتظار گاہ مریضوں سے بھرنی شروع ہو گئی اور ڈاکٹر صاحبہ چھے بجے کلینک میں داخل ہوئیں۔ ان کے آنے کے بعد میں نے ڈیڑھ گھنٹا مزید انتظار کیا کیونکہ وہ مجھ سے پہلے آئی ہوئی مریضاؤں کو دیکھ رہی تھیں جو کہ شاید دو بجے سے ان کا انتظار کر رہی تھیں۔
آخر کار میری باری تقریباً آٹھ بجے آئی۔ اس وقت تک میں اور میری امی دونوں شدید تھک چکے تھے۔ یہ ڈاکٹر صاحبہ دو کمروں میں مریض ایک ساتھ دیکھ رہی تھیں جو کہ آمنے سامنے تھے۔ دروازے کھلے ہوئے تھے اور کسی قسم کی پرائیویسی نہیں تھی۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ میں کیوں آئی ہوں؟ اور میں کہاں پڑھتی ہوں؟ اور کون سی دوائیں لے رہی ہوں؟ میں نے انہیں بتایا کہ میں میڈیکل کالج میں پڑھتی ہوں۔ اتنا سن کر وہ کمرے سے نکل گئیں اور دوسرے مریض کو دیکھنے لگیں۔ پھر واپس آئیں اور کہا کہ تمہیں کئی سالوں سے پی سی او ایس (پولی سسٹک اووری سنڈروم) ہے تو پھر وزن اتنا زیادہ کیوں ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا میں کھانے میں بدپرہیزی کرتی ہوں؟ میں نے کہا کہ نہیں یہ شاید انسولین کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ناک چڑھا کر کہا کہ میڈیکل اسٹوڈنٹ ہونے کے ناتے مجھے یہ پتا ہونا چاہیے کہ مٹاپے سے کینسر ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں تمہیں گلوکوفیج پر ڈال رہی ہوں اور چھ مہینے میں دوبارہ دیکھوں گی۔ اگر چھ مہینے میں تمہارا وزن 20 کلوگرام کم نہ ہوا تو میں تمہیں دیکھنے سے انکار کردوں گی۔ پھر میں نے پوچھا کہ گلوکوفیج کے کیا سائڈ افیکٹ ہیں کیونکہ میں نے اس سے پہلے یہ دوا کبھی نہیں لی۔ تو ان کا پارا چڑھ گیا اور انہوں نے کہا کہ میڈیکل اسٹوڈنٹس کا دماغ ضرورت سے زیادہ چلتا ہے۔ اور تم انٹرنیٹ پر جا کر اس کو مت دیکھنا۔ ہم اٹھ کر جانے والے تھے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا مجھے اپنے وزن سے کوئی پریشانی ہوتی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ جب تمہاری عمر کی سب لڑکیوں کی شادیاں ہو جائیں گی اور تمہارے لیے رشتے نہیں آئیں گے تو تب تمہیں اپنے وزن کا احساس ہو گا۔ تمہاری عمر کی لڑکیوں پر کپڑے اچھے لگتے ہوں گے۔ وہ پتلی پتلی پیاری لگتی ہوں گی تو تمہیں دل میں خیال آتا ہو گا۔
اتنا کچھ سننے کے بعد ، وہ بھی میری والدہ کے سامنے، میں نے شدید شرمندگی محسوس کی۔ ہم باہر نکل گئے۔ میری امی نے پوچھا کہ کیا مجھے گلوکوفیج دوا خریدنی ہے تو میں نے منع کر دیا۔ اس عزت نفس پر حملہ آور وزٹ کے بعد میرا دل کافی خراب ہو چکا تھا۔
میں نے ہمیشہ عمر رسیدہ ڈاکٹرز کو بہت عزت سے دیکھا اور ان کی طرح بن جانے کی خواہش کی۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے بہت محنت سے پڑھائی کی اور میڈیکل کالج میں داخلہ لیا لیکن اس تلخ تجربے سے ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ ہونے کے ناتے میں نے یہ سیکھا کہ ہمارے سب استاد رول ماڈل نہیں ہوتے۔ کچھ ہمیں یہ سکھا جاتے ہیں کہ ہمیں بڑے ہو کر ان کی طرح نہیں بننا ہے۔


