عاشورہ اور شالیمار ایکسپریس
میں نے اس برس یومِ عاشور ملتان میں گزارنے کا سوچا اور کراچی سے علی الصبح شالیمار ایکسپریس میں سوار ہو گئی۔
جیسے ہی ٹرین نے رفتار پکڑی۔ میں نے اے سی پارلر میں گھومتے ایک ملازم سے چائے کا پوچھا تو اس نے بتایا؛ ’میڈم! چائے تو نہیں ملے گی۔ ٹرین کا کچن بند ہے۔ ‘ کیوں بند ہے؟ ’وہ جی پچھلے سال کا ٹھیکہ ختم ہو گیا ہے اور نیا کنٹریکٹر ابھی تک آیا نہیں۔ ‘ سو، میں نے چائے کا خیال ذہن میں دباتے ہوئے یخ ٹھنڈے اے سی پر اکتفا کرنے کا سوچ لیا، چادر اوڑھ کر سیٹ سے ٹیک لگائی اور موبائل پر سکرول کرتے کرتے سو گئی۔
حیدر آباد اسٹیشن پر آنکھ کُھل گئی تو میں نے ٹرین سے اتر کر ہلکی پھلکی چہل قدمی کی۔ اے سی سے سُن ٹانگوں کو ذرا تقویت ملی تو پھر واپس آ کر سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اب میں موبائل پر کوئی اچھی سی فلم دیکھنے کا سوچ رہی تھی اور ساتھ ساتھ کھڑکی سے باہر بھاگتے ہوئے مناظر بھی دیکھ رہی تھی۔ آموں سے لدے پیڑ میرے سامنے سے گزر رہے تھے۔ میں ان کی گھنی چھاؤں میں کہیں کھو گئی تھی کہ گاڑی ٹنڈو آدم کے اسٹیشن پر رکی۔
ارے! شیڈول کے حساب سے تو اگلا سٹاپ نواب شاہ ہے۔ یہ ٹرین یہاں کیوں رُک گئی۔
اچانک میں نے دیکھا کہ ٹرین میں بڑی تعداد میں سیاہ پوش مرد، عورتیں اور بچے سوار ہو رہے ہیں۔ ذرا سی دیر میں میرے ڈبے کا یہ حال ہوا کہ جس کو جہاں جگہ ملی، وہیں کھڑا ہو گیا یا فرش پر بیٹھ گیا۔ میری سیٹ کے عین پیچھے ایک فیملی چھوٹے بچوں سمیت جگہ بنا کر کھڑی ہو گئی۔ بند ڈبہ کھچا کھچ بھر جانے کی وجہ سے پسینے کی بُو ہر طرف پھیلتی چلی گئی اور ڈبے کا درجہ حرارت بڑھنے لگا۔ پتہ یہ چلا کہ اتنی گرمی اور حبس میں یہ ماتمی جلوس اعزہ داری میں شریک ہونے کے لیے ننگے پیر روہڑی جا رہا ہے۔
ٹرین ٹنڈو آدم سے روانہ ہوئی تو کچھ ہی دیر بعد ایک اور اَن شیڈول اسٹیشن پر رُک گئی۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو ”شہداد پور“ لکھا ہوا نظر آیا۔ وہاں سے لوگوں کا ایک اور ریلا ٹرین میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد تو ڈبے میں سانس لینا بھی دو بھر ہو گیا۔ اچانک احساس ہوا کہ ائر کنڈیشن تو بند ہو ہے۔ میں غصے میں بھری ہوئی اپنی سیٹ سے کھڑی ہوئی اور ٹرین کے عملے کو تلاش کرنے لگی۔
پانچ سوگوار ڈبے کے خودکار دروازے پر کھڑے تھے تو دس لوگ (عورتوں بچوں سمیت) دو بوگیوں کو جوڑنے والے جنکشن پر تھے۔ واش روم کا دروازہ کھلا تھا اور وہاں بھی کچھ مسافر کھڑے تھے۔
خیر، کنٹرولر نے ہمیں بتایا کہ میں اس حالت میں اے سی نہیں چلوا سکتا۔ آپ کو بس پنکھوں پر گزارا کرنا ہو گا۔ میں نے جب بحث کرنے کی کوشش کی تو اس نے کھڑکی سے باہر زمین پر پڑنے والے ٹرین کے سائے کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے سائے کو دھیان سے دیکھا تو مجھے کچھ انسانی ہاتھ اوپر لہراتے ہوئے دکھائی دیے۔ میں نے پھر سوالیہ چہرہ لئے کنٹرولر کی طرف دیکھا۔ اس نے بتایا کہ ماتمی مسافروں کی ایک تعداد ٹرین کی چھت پر چڑھ گئی ہے اور کچھ لوگ اے سی کے کمپریسروں پر بیٹھ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے اے سی بار بار ٹرپ ہونے پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ لوگ ہٹیں گے تو ہی اے سی چل پائے گا۔
میں دل ہی دل میں ٹرین کی چھت سے لوگوں کو ہٹانے کے منصوبے بنانے لگی۔ اس دوران ٹرین ’سرہاری‘ کے اسٹیشن پر رک گئی۔ ارے! یہ تو اب ہر سٹاپ پہ رکنے لگی ہے۔ ایک اور ہجوم پلیٹ فارم پر کھڑا تھا۔ اس نے جب ٹرین کے اندر کی صورتحال دیکھی تو چھت پر چڑھنے لگا۔
اس لمحے مجھے اچانک خیال آیا کہ پہلی فرصت میں واش روم استعمال کر لیا جاوے وگرنہ پانی ختم ہونے کے چانسز سو فیصد سے زیادہ ہیں۔ واش روم سے باہر نکلی اور ہجوم کو چیرتی ہوئی بمشکل اپنی سیٹ تک پہنچ سکی۔ اب ڈبہ تندور کی طرح دہک رہا تھا۔ کپڑے پسینے سے تر ہو چکے تھے۔ مگر کیا ہی ہو سکتا تھا۔
ٹرین اب ایک ایک اسٹیشن پر رُک رہی تھی اور لوگ برابر سوار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ حیدرآباد کے بعد ٹکٹ چیکر مجھے نہیں دِکھا۔ نہ کوئی ٹکٹ، نہ کوئی اور سوال۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
ہر اسٹیشن پہ سبیلیں بھی نظر آ رہی تھیں۔ کچھ لوگ ٹھنڈے مشروبات کی بوتلوں سے بھرے تھیلے لیے کھڑے تھے۔ ٹرین رکتے ہی انہوں نے چھت پر بیٹھے ماتمیوں کی جانب یہ مشروبات اچھالنے شروع کیے۔ جس بوتل کا نشانہ چُوک جاتا۔ وہ بے چاری ڈبے سے زور سے ٹکراتی اور پٹڑی پر گِر جاتی۔
میں سوچ رہی تھی کہ اتنی گرمی میں تپتی ہوئی چھت پر یہ لوگ ننگے پاؤں کیسے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ ’کوٹ لالو‘ کے اسٹیشن پر تو ٹرین کافی دیر کھڑی رہی اور ہم گرمی کی شدت سے ابلتے رہے۔ پتہ یہ چلا کہ ٹرین کے ڈرائیور کو غصہ آ گیا ہے اور وہ ضد لگا کر بیٹھ گیا ہے کہ جب تک لوگ انجن کے اوپر سے نہیں اتریں گے، وہ ٹرین نہیں چلائے گا۔ آخرکار ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد ڈرائیور نے خود ہی ہار مان لی اور ٹرین چلا دی۔
اس تندوری ڈبے سے تنگ آ کر میں بزنس کلاس کیبنوں کی طرف چل دی۔ لوگ سیٹ کے پیچھے لگی ایل ای ڈیز سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔ دروازے کے عین سامنے کوئی نیاز سے بھرا ہوا شاپر دستر خوان کی طرح بچھا کے چنا پلاؤ کھائے چلے جا رہا تھا۔
خیر جیسے تیسے یہ راستہ طے کیا۔ بزنس کلاس کی حالت بھی بے حال تھی۔ کچھ کیبن بند تھے، جن کے دروازے توڑنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ ان کیبنوں میں ریلوے اہلکار اندر سے چٹخنی لگا کر چُھپ کر بیٹھے تھے۔ میں نے دروازہ بجایا تو ایک پولیس والے نے خاتون کی آواز سُن کر تھوڑا سا دروازہ کھول کر جھانکا اور پھر مجھے اندر آنے کا راستہ دیا۔ ان سب کے چہروں پر بے بسی لکھی ہوئی تھی۔
ٹکٹ چیکر سے لے کر پولیس مین تک سب امن امان کی خواہش تیاگ چکے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ ٹرین بس کسی طرح خیریت سے روہڑی پہنچ جائے۔ یہ ہجوم ہمارے بس کا ہے نہیں۔ ایک سے ٹکٹ مانگیں گے تو دس ہمیں پڑ جائیں گے۔ اس سے پہلے یہ لوگ آج ہی گرین لائن کے شیشے توڑ چکے ہیں۔ حکومت نے اسپیشل ٹرینیں بھی چلائی ہیں مگر ان میں کوئی نہیں بیٹھتا اور یہ ہر سال عاشور کا معمول ہے۔ ٹکٹ چیکر کہنے لگا کہ میں تو کہتا ہوں ان دنوں میں کوئی بھی ٹرین پر سفر نہ کرے۔
ایسا لگ رہا تھا کہ وہ پہلے سے ہی اپنی ہار فرض کر کے یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ وہ خود ریاست ہیں اور ریاست بھی انہی جیسی ہے۔
اللہ اللہ کر کے شام کے ساڑھے پانچ بجے ٹرین روہڑی اسٹیشن پہنچ گئی اور پھر خالی بھی ہو گئی۔ حالات سازگار ہوئے تو بند کیبنوں کے دروازے کُھلے اور ریاستی اہلکار پھر سے اپنی رِٹ قائم کرنے کی کوشش میں جُت گئے۔
اے سی کنٹرولر اپنی ٹیم کے ساتھ چھت پر گیا اور انہوں نے کمپریسروں کے پنکھوں میں پھنسی ہوئی بوتلیں اور کچرا نکال نکال کر نیچے پھینکا۔ تب کہیں جا کر ٹرین کا ائر کنڈیشن بحال ہوا۔
روہڑی سے ٹرین نے ہمت اور رفتار پکڑی۔ قصہ مختصر رات ایک بجے ٹرین ملتان کینٹ پہنچ گئی۔

