او یار اینہاں کیہ کنجر خانہ لایا ہویا اے

چلیے میں آپ کو پہلے اپنا قصہ سناتی ہوں۔ گزشتہ برس میں ایک پروڈکشن ہاؤس میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کر رہی تھی۔ ہماری پروڈکشن ٹیم ٹی وی ڈرامے ’من جوگی‘ کے کچھ سینز کی شوٹنگ کے لیے بادامی باغ والے لاری اڈہ کی لوکیشن پر تھی۔ کسی مضافاتی علاقے سے دو کرداروں کے لاہور آنے کا منظر فلمانا تھا۔ اُس دن درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سے اوپر تھا۔ میرا موبائل فون مسلسل اوور ہیٹنگ کی وارننگ دے رہا تھا۔

Read more

عاشورہ اور شالیمار ایکسپریس

میں نے اس برس یومِ عاشور ملتان میں گزارنے کا سوچا اور کراچی سے علی الصبح شالیمار ایکسپریس میں سوار ہو گئی۔ جیسے ہی ٹرین نے رفتار پکڑی۔ میں نے اے سی پارلر میں گھومتے ایک ملازم سے چائے کا پوچھا تو اس نے بتایا؛ ’میڈم! چائے تو نہیں ملے گی۔ ٹرین کا کچن بند ہے۔ ‘ کیوں بند ہے؟ ’وہ جی پچھلے سال کا ٹھیکہ ختم ہو گیا ہے اور نیا کنٹریکٹر ابھی تک آیا نہیں۔ ‘ سو، میں

Read more

دراصل امن تشدد کا بیٹا ہے

ونڈو شاپنگ کی طرح کچھ اصطلاحات بھی بھلی لگتی ہیں۔ جیسے امن، شانتی، صلح جوئی وغیرہ وغیرہ۔ ہم میں سے اکثر سکول میں طرح طرح سے ہراساں ہوتے رہے ہیں۔ مگر اردگرد کے مہربان اور شفیق لوگ ہمیں شرافت کا پہاڑا بھولنے نہیں دیتے۔ کسی کے آگے ہم اونچا نہیں بول سکتے۔ بس دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں۔ اس احتیاط میں کہ والدین کو شکایت پہنچنے کی صورت میں قصور وار ہم ہی ٹھہرائے جائیں گے۔ امن کی

Read more

تمہاری جنگوں میں جانور کیوں کچلے جائیں؟

حال ہی میں نیٹ فلیکس پر تفتیشی نوعیت کی ایک دستاویزی فلم دیکھی؛ ’امریکن مین ہنٹ: اسامہ بن لادن‘ ۔ اس کی تینوں قسطوں نے ہمارے زخموں کو ایک بار پھر ہرا کر دیا۔ نائن الیون کے بعد انکل سام کا غصہ، پاگل پن، بدلے کی آگ اور ہماری وحشت، سب نظروں کے سامنے گھوم گئے۔ ہنسی اس بات پر آئی کہ جو مناظر ہم نے اصلاً سہے اور اپنی اولادیں ان میں جھونک دیں۔ ان کی محض جھلکیاں دکھا

Read more

بہت ہی ستھرا پنجاب

رواں برس عید الاضحٰی کے تین دنوں میں پنجاب کے کم و بیش ایک لاکھ بیاسی ہزار ( 1,82,000 ) بلدیاتی کارکنوں نے مل جُل کر تین لاکھ ستاون ہزار چھ سو انہتر ( 3,57,669 ) ٹن آلائشیں پنجاب کے گلی کوچوں سے اٹھائی ہیں۔ عید سے ایک روز پہلے تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ پلاسٹک کی تھیلیاں عوام میں تقسیم کی گئیں تاکہ قربانی کا فضلہ ان میں ڈال کر ویسٹ کلیکشن بوتھ تک پہنچا دیا جائے یا کال

Read more

ہاں! میں پیرونائیڈ ہوں

آپ کا تو نہیں معلوم اپنا بتائے دیتی ہوں۔ قندیل بلوچ کے قتل میں جب اس کا اپنا بھائی وسیلہ بنا تو میں کئی دنوں تک اپنے سگے بھائی سے نظریں نہ ملا پائی۔ مجھے کسی اور بھائی کے کرموں کے کارن اپنے بھائی سے اس قدر خوف لاحق ہو گیا کہ اگر کبھی گھر پہ ہم دونوں اکیلے ہوتے تو میں ڈر کے مارے کمرہ اندر سے لاک کر لیتی۔ پھر نور مقدم کے بہیمانہ قتل پر تو میں

Read more

فسطائیت اور فلم سازی کی چومکھی

انڈر کور فلم میکنگ دنیا میں کہیں نہیں ہوتی سوائے ایران کے۔ آرٹ سینما کے یہ بے تاج بادشاہ، نت نئے، ہم عصر اور اچھوتے موضوعات پر فلمیں تو بناتے ہیں مگر سرکار سے چُھپ کر۔ فلم ریلیز ہوتی ہے تو جیل چلے جاتے ہیں۔ سزا کاٹ کر نکلتے ہیں تو پھر فلم بناتے ہیں۔ سو، ایرانی ریاست اور متوازی سینما کے ان فلمی ہدایت کاروں کے مابین آنکھ مچولی کا یہ کھیل جاری رہتا ہے۔ مگر کہانی کہنے پر

Read more

بھک منگوں کا ہجوم

پتہ نہیں وہ کون سا وقت تھا جب لوگ ہاتھ پھیلاتے ہوئے شرماتے تھے، ڈرتے تھے یا ہچکچاتے تھے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے بڑے ہم سے اس بابت جھوٹ بولتے رہے۔ یقیناً سفید پوش لوگ ہوئے ہوں گے پر بھئی ہم نے تو نہیں دیکھے۔ اب تو اس ڈھٹائی سے مانگتے ہیں کہ ہم نہ دے کر خود کو زمین میں گڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ انارکلی بازار ہو یا مون مارکیٹ، کریم بلاک ہو یا برکت پلازہ،

Read more

عوامی دانش کسے کہتے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم ’عوامی دانش‘ پر بات کرتے ہوئے یونی ورسٹیاں اور طالب علم بیچ میں کیوں گھسیٹ لاتے ہیں اور شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ ہماری جامعات طلبا کی ایسی کھیپ تیار کرنے میں ناکام ہے جو عوامی سمجھ بوجھ کے نمائندہ ہوں۔ بھئی! مگر یہ تو بتائیے کہ لوک فکر یونی ورسٹیوں کے انکیوبیٹر میں کب سے پھلنے پھولنے لگی؟ اس کا ناتا مدرسوں کے تعلیمی نصاب سے کب بنا؟ جامعات ٹھہریں نرسری میں اگے

Read more

بلاسفیمی اور نورمحمد ترہ کی کا ناول’سنگسار‘

وبا کی اولین تالا بندی کے دوران دنیا کا ہر مندر، گرجا، چرچ، کلیسا بند ہو گیا مگر ہم یہ سوچتے رہ گئے کہ خدا کے نام پر بننے والے وطن عزیز میں اسی کے گھر پہ تالا ڈالنے والے ہم کون ہوتے ہیں! عالمی برادری نے ایک لمبی سی ’ہوں‘ کی صورت ہمارے جذبہ ایمانی کی داد بھی دی۔ مجھ جیسا سامع تو ابھی اسکرین پر پیش کیے گئے اسی کھیل میں محو تھا کہ ایک دھماکہ ہوا۔ دین

Read more

خوابوں والی گلی کے قصے

میرے بچپن میں جب بندر اور ریچھ کا تماشا دکھانے والا مداری آتا، سپیرا اپنے سانپوں کی پٹاری لئے محلے میں داخل ہوتا تو مجھ سمیت گلی کے سب بچے اپنی مائوں سے جیب خرچ لے کر آ وارد ہوتے اور تماشا دکھانے والے کے گرد ایک حصار بنا لیتے۔ محلے کی بڑی بوڑھیاں اپنی اپنی پیڑھیوں پر بیٹھی یہ پورا منظر دیکھ رہی ہوتیں۔ بچے پلک جھپکے بغیر بندر کے آٹا گوندھنے، ریچھ کے سسرال جانے اور سانپ کے

Read more

بھاگ بھری: دہشت اور جنون کا مطالعہ

 ”میں جب سے اس گاؤں میں بیاہ کر آئی یہاں مسلمانوں کو ہی بستے دیکھا۔ ہاں البتہ گاؤں کی ایک پسماندہ گلی میں عیسائیوں کے کچھ گھر ضرور تھے، جو پورے گاؤں کی بطور بھنگی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اس چھوٹی سی آبادی کے مسلمان بھی کیسے تھے، پورے گاؤں میں کوئی باقاعدہ مسجد نہ کوئی امام! حصول ِعلم ِدین کے لئے کوئی باقاعدہ مدرسہ نہ مدرس! تبلیغی جماعت کا کوئی ماہانہ درس اور نہ ہی چلّہ کاٹنے والے زاہد

Read more

جندر: داستان گوئی کی تجدید

میں داستان گوئی کو متروک صنف سمجھ چکی تھی۔ مگر کبھی کبھی دل میں اُس کی یاد تازہ کرنے کے لئے ”ناپا “یا ”آرٹس کونسل“ میں داستان گوئی کے کسی پروگرام پر پہنچ جاتی جہاں سفید لبادوں میں ملبوس داستان گو اسٹیج پر بچھی چاندنی پر بیٹھ کر عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے بغیر ہی رٹی رٹائی داستان سناتے چلے جاتے تھے۔ یہ مُٹھی بھر لوگ تھے جو پاک و ہند میں داستان گوئی کے احیاءپر کام کر رہے

Read more