او یار اینہاں کیہ کنجر خانہ لایا ہویا اے
چلیے میں آپ کو پہلے اپنا قصہ سناتی ہوں۔ گزشتہ برس میں ایک پروڈکشن ہاؤس میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کر رہی تھی۔ ہماری پروڈکشن ٹیم ٹی وی ڈرامے ’من جوگی‘ کے کچھ سینز کی شوٹنگ کے لیے بادامی باغ والے لاری اڈہ کی لوکیشن پر تھی۔ کسی مضافاتی علاقے سے دو کرداروں کے لاہور آنے کا منظر فلمانا تھا۔ اُس دن درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سے اوپر تھا۔ میرا موبائل فون مسلسل اوور ہیٹنگ کی وارننگ دے رہا تھا۔ ہمارے یونٹ میں شامل تمام لوگوں نے تمازت سے بچنے کے لیے کپڑا گیلا کر کے سروں پر باندھا ہوا تھا جو ہر دس منٹ میں سوکھ جاتا تھا۔
ڈرامے کے ہیرو بلال عباس نے گرم کالی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ شدید گرمی کے باوجود وہ چادر نہیں اُتار سکتے تھے کیونکہ اسی سین کے اِن ڈور شاٹس ہم نے سردیوں میں شوٹ کر لیے تھے۔ آؤٹ ڈور کی باری آتے آتے موسم شدید ہو گیا۔ لہٰذا چادر تو اوڑھنی تھی۔ تاثرات بھی برقرار رکھنے تھے اور چہرے پر پسینہ بھی نہیں آنے دینا تھا۔
اتنے میں میرا دھیان پیچھے کھڑے ہجوم کی گفتگو پر چلا گیا۔ میرے کان میں ایک جملہ پڑا۔ ”او یار اینہاں کیہہ کنجر خانہ لایا ہویا اے!“ (انہوں نے کیا کنجر خانہ شروع کیا ہوا ہے)۔
بس یہ ہے ہماری اوقات۔
میری پروڈکشن کمپنی کا دفتر باری اسٹوڈیو میں تھا اور اس کے اردگرد کرائے کا گھر تلاشنا ایسا دو بھر ہو گیا کہ کیا ہی بتاؤں۔ جدھر جاتی، مالک مکان کا ایک ہی سوال ہوتا۔
’کیا کرتی ہیں آپ؟‘
’جی میں ایک ٹی وی ڈرامہ پروڈکشن کمپنی میں کام کرتی ہوں۔ ‘
اس کے بعد ایک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور۔
اگر کہیں بات بنتی نظر آتی تو پھر یہ سوال آڑے آ جاتا؛
’جی آپ فیملی کے ساتھ رہیں گی؟‘
’نہیں جی۔ میں اکیلی۔‘
ایک مالک مکان نے تو بہت ہی عجیب سوال کیا؛
’جی وہ آپ کے شوبز کے دوست گھر تو نہیں آئیں گے نا؟‘
’مطلب؟‘
’جی وہ جیسے پارٹیاں شارٹیاں۔ ہمارا بہو بیٹیوں والا محلہ ہے۔ آپ سمجھ رہی ہیں نا۔‘
’بھائی! ہم بھی تو کسی کی بہو بیٹیاں ہیں۔ ‘
بچپن سے میرے کان یہ سنتے سنتے پک گئے ہیں کہ ہم ایک بیمار معاشرہ ہیں۔ بیمار ہونے کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ کبھی ٹھیک بھی ہو جائیں گے۔ بیماری ریکور کر جائے گی۔ کیا ہم واقعی بیمار ہی ہیں یا ہماری سوچ کا جسم گل سڑ کے رفتہ رفتہ جھڑ رہا ہے؟
حمیرا اصغر کو کون دفنانا چاہتا تھا، کون نہیں۔ اس سے مرنے والے کا کیا لینا۔ اس کا کام تو جینا تھا۔ وہ بھی اپنی شرائط پر۔
آس پاس والوں کا کیا۔ انہوں نے تو امان اللہ جیسے بڑے فنکار کو بھی قبر میں اتارنے پر مزاحمت کی تھی۔ حتٰی کہ گورنر پنجاب کو مداخلت کرنا پڑی۔
ایسے لوگ تو گزر جاتے ہیں مگر اپنے پیچھے بظاہر ہنستے بستے سماج کا پیٹ ننگا کر جاتے ہیں۔ شاید یہ تخلیق کار، فن کار ایسا قالین ہیں جو سماج کا گند چھپائے رکھتا ہے۔ جیسے ہی یہ قالین اُٹھتا ہے۔ بھبکے اُٹھنے لگتے ہیں۔
حمیرا کے جانے سے بھی یہی ہوا۔ کہانی کو ایک مضبوط پلاٹ مل گیا اور کردار حسبِ معمول کُھل کھیلنے لگے۔ ون لائنر یہ بنا کہ گزرنے والی کے ورثا اس کی لاش کی وصولی نہیں چاہتے۔ اس پر ہر کردار نے بساط بھر تبرا کیا۔ ایک بات مشترک تھی۔ ”وہ جیسی بھی تھی مگر اس قابل تو نہ تھی کہ والدین اس کی میت قبولنے سے انکار کر دیں۔“ ایک اور صاحب نے تو یہ تک کہا؛ ”وہ ایک اداکارہ تھی۔ اس کے کردار پر اس سے زیادہ کوئی بات ہم نہیں کہہ سکتے۔“
یہاں پر ذرا رُکیے۔ آنکھیں بند کیجیے اور ان دونوں جملوں کو ایسے محسوس کیجیے جیسے کسی نے آپ کے لیے کہے ہوں۔ بس۔
”وہ جیسی بھی تھی۔“ کا کیا مطلب ہے؟
اور اداکارہ ہونا ہے کیا؟
اداکارہ ہونا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ڈاکٹر ہونا، نرس ہونا، انجینئر ہونا، پینٹر ہونا، آفس بوائے یا اکاؤنٹنٹ ہونا۔
جیسے کسی بھی دوسرے انسان کا پروفیشن اس کا کردار ڈیفائن نہیں کرتا تو اداکاری کا شعبہ کب سے کرنے لگا؟
اگر ایک شخص ہسپتال میں سرجن ہے تو کیا میں یہ سمجھ لوں کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی ہر عورت کو معنی خیز نظروں سے دیکھتا ہے؟ ایک خاتون بنک منیجر کی اپنے عملے کے ساتھ خوش اخلاقی کو کچھ بھی سمجھ لیا جائے؟ میں کیسے کہہ دوں کہ ہر بنک منیجر یا سرجن کا کیریکٹر ڈھیلا ہی ہو گا۔ بالکل ایسے ہی جب بھی کوئی عورت آپ کو بتائے کہ میں اداکارہ ہوں تو اس کے کام اور کرافٹ کو چھوڑ کر ہر نہ آنے والا خیال آپ کے ذہن میں کیوں آتا ہے؟ کام کا تعلق ذاتی کردار کے ساتھ کب سے ہو گیا؟
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سب پروفیشنلز فرشتہ صفت ہوں گے۔
چنانچہ شو بزنس کے ہر کردار کو اپنے خود ساختہ نظریے سے جوڑ دینا کیا انصاف ہو گا؟
میں تو یہ کہوں گی کہ اداکاری دنیا کے مشکل ترین شعبوں میں سے ایک ہے۔ آپ عام زندگی میں جو بھی کام کرتے ہیں۔ اپنے حصے کا کردار ہی نبھاتے ہیں۔ ایک اداکار یا اداکارہ کا تو کام ہی دوسرے کی زندگی جینا ہے۔ وہ اپنی زندگی جیتا ہی کہاں ہے!
کبھی غریب بنتا ہے تو کبھی امیر۔ کبھی مجرم بنتا ہے تو کبھی بے گناہ۔ کبھی سیاستدان بنتا ہے تو کبھی سرکاری ملازم۔ کبھی سیٹھ کا کردار ادا کرتا ہے تو کبھی مزدور کا۔ کبھی ہاری بنتا ہے تو کبھی جاگیردار۔ کبھی کوئی اداکارہ ملکہ کا روپ دھارتی ہے تو کبھی بھکارن کا۔ کبھی طوائف کا کردار نبھاتی ہے تو کبھی بیگم کا۔
ایک نارمل آدمی تب ہنستا ہے جب وہ ہنسنا چاہتا ہے۔ مگر ایک اداکار کو اس وقت بھی کامیڈی کرنا پڑتی ہے جب وہ اپنے کسی عزیز کو دفنا کے آ رہا ہو۔
اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی اداکار اپنے کردار میں اِس قدر گُھس جاتا ہے کہ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد بھی اُس کردار سے باہر نکلنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو نفسیاتی توڑ پھوڑ ہوتی ہے، اس سے بھی ایک اداکار خود ہی لڑتا ہے۔ ہمارے ہاں انڈسٹری یا اس سے باہر اس بے چارے کی تھراپی کا کوئی انتظام نہیں۔
ایک عام عورت نارمل زندگی میں بھی اپنے ہارمونز کی اتھل پتھل نہیں سمجھ پاتی چہ جائیکہ اسے اپنے کرداروں کی نفسیات کا اضافی بوجھ بھی اُٹھانا پڑ جائے۔
مگر اکثر لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں عزتیں تار تار ہونے یا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ بالخصوص جو عورت وہاں جاتی ہے، وہ سلامت نہیں رہتی۔ اور کان میں کہیں سے بھی یہ آواز پڑ سکتی ہے۔
”او یار اینہاں کیہ کنجر خانہ لایا ہویا اے! “

