کلبھوشن کی سزا پر بھارتی برہمی بلاجواز نہیں


کلبھوشن سدھیر یادیو کو سزائے موت کے فیصلہ پر بھارت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بھارتی لوک سبھا نے متفقہ طور پر ایک قرارداد میں پاکستان کے فیصلہ کی مذمت کی ہے اور یادیو کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ایران سے اغوا کیا گیا تھا جہاں وہ کاروبار کرتا تھا۔ جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ فوج نے بلوچستان میں ماشخیل کے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران اسے گرفتار کیا تھا۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بالترتیب پارلیمنٹ کے ایوان بالا (راجیہ سبھا) اور ایوان زیریں (لوک سبھا) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کو بچانے کےلئے بھارت کسی بھی حد تک جائے گا۔ اسے اپیل کےلئے بہترین وکیل فراہم کئے جائیں گے اور صدر پاکستان سے بھی سزا کو تبدیل کروانے کےلئے رابطہ کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے راجیہ سبھا سے خطاب میں کلبھوشن یادیو کو ’’بھارت کا بیٹا‘‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان کو متنبہ کیا کہ اگر اس کی سزائے موت پر عمل کیا گیا تو یہ اقدام دو طرقہ تعلقات کےلئے نقصان دہ ہوگا۔ اس سے قبل بھارت کی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کرکے کلبھوشن یادیو کی سزا پر احتجاجی مراسلہ دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سزا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے اور بھارتی حکومت اور عوام سزائے موت پر عمل درآمد کو ایک بھارتی شہری کا سوچا سمجھا قتل سمجھیں گے۔

بھارتی حکومت کے اس شدید ردعمل سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی حکومت کےلئے بے حد اہم ہے اور وہ بہرصورت اسے بچانا چاہتی ہے۔ بھارتی وزیروں کے بیانات میں جس غصہ کا اظہار کیا گیا ہے اور بھارتی لوک سبھا نے جس سرعت سے اس فیصلہ پر مذمتی قرارداد منظور کی ہے، اس سے بھی یہی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کلبھوشن یادیو کی معصومیت اور بے گناہی کے بارے میں جو کہانی سناتا ہے، وہ سو فیصد درست نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے ایک دوسرے کے شہری گرفتار ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے بعض کے خلاف جاسوسی اور قومی مفادات کے خلاف کام کرنے کے الزامات بھی عائد ہوتے ہیں اور وہ ان جرائم میں سزا بھی پاتے ہیں۔ لیکن ایسے جاسوسوں کی گرفتاری پر اعلیٰ سطح کے لیڈر نہ تو یوں غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے ’’کسی بھی حد تک جانے‘‘ کے دعوے سامنے آتے ہیں۔ تاہم کلبھوشن یادیو کے حوالے سے بھارتی لیڈروں نے جو تند و تیز بیانات دیئے ہیں، ان سے کم از کم پاکستان میں یہ تاثر تقویت پکڑے گا کہ پاکستان کا موقف درست ہے اور یہ شخص واقعی بھارت کا اعلیٰ سطح کا ایجنٹ تھا۔ اسی لئے اسے سزا دینے پر پوری بھارتی حکومت پیچ و تاب کھا رہی ہے۔ اس حد تک بھارتی ردعمل خود اس کے مفادات کے برعکس نتائج سامنے لائے گا۔ اسی طرح عالمی سطح پر بھی جب بھارت کے شدید ردعمل کو دیکھا اور پرکھا جائے گا تو یہ جاننے کی کوشش ضرور ہو گی کہ اگر کلبھوشن یادیو ایک عام شہری تھا جو ایران میں کاروبار کر رہا تھا اور اس کا نہ تو ’’را‘‘ سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی وہ بحریہ میں ملازم تھا تو اس واقعہ پر غیر معمولی شدید ردعمل کیوں ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس طرح بھارت جن الزامات سے انکار کرتا رہا ہے، اس کا رویہ ہی انہیں درست ثابت کرنے کا باعث بنے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کو مسترد کیا ہے اور اسے پاکستان کی فوجی عدالتوں کی طرف سے قانون و انصاف سے متصادم فیصلہ قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی کا احتجاج ایک تو سزائے موت کے حوالے سے سامنے آنا اس تنظیم کے بنیادی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ یہ تنظیم دنیا بھر میں سزائے موت کے خلاف احتجاج کرتی ہے۔ اسی طرح ملک میں 21 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جنوری 2015 میں فوجی عدالتیں منظور قائم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا تھا، اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ پاکستان میں بھی متعدد حلقے ردعمل ظاہر کرتے رہے ہیں۔ تاہم ملک کے منتخب نمائندوں نے گزشتہ ماہ ان عدالتوں کی مدت میں مزید 2 برس کی توسیع منظور کرلی ہے۔ اس حوالے سے البتہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اکیسویں ترمیم کے ذریعے قائم ہونے والی فوجی عدالتیں دہشت گردی میں ملوث ملزموں کے مقدمات کی سماعت کےلئے وجود میں آئی ہیں۔ جہاں تک کلبھوشن یادیو کا تعلق ہے تو اسے فوجی قواعد و ضوابط اور آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ بھارت کی بحریہ کا افسر ہے جس کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت بھی نیوی کا ملازم تھا اور ’’را‘‘ کے لئے کام کرتا تھا۔ اس طرح اس کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا اور سزا دینا مسلمہ عالمی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ جہاں تک کلبھوشن یادیو کے بے گناہ یا قصور وار ہونے کا تعلق ہے، تو اس پر ہمیشہ بحث ہوتی رہے گی۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اسے پاکستانی علاقے سے گرفتار کیا گیا اور اس نے خود اپنی پاکستان دشمن کارروائیوں کا اعتراف کیا اور بتایا کہ وہ جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کرنے کے علاوہ کئی برس سے بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔ بھارت اس الزام کو مسترد کرتا رہے گا کیونکہ ان الزامات کو قبول کرنے کا مطلب پاکستان کے خلاف جاسوسی کے علاوہ تخریبی سرگرمیوں کا اعتراف ہوگا۔ دہشت گردی کے حوالے سے بھارت ، پاکستان پر جو الزام عائد کرتا ہے، وہ خود ہی اس کا اعتراف کرکے پوری دنیا میں اپنی بدنامی کا سبب تو نہیں بننا چاہے گا۔ لیکن بھارتی وزیروں اور قانون سازوں کی بے چینی ظاہر کرتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

سشما سوراج کا یہ دعویٰ کہ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دینے سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوں گے، حقیقت احوال کے برعکس ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بھارت دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے اور دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ کے باوجود اسے دہشت گردوں کا سرپرست قرار دینے کی حتی الامکان کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر مسلسل اشتعال انگیزیاں ہوتی رہتی ہیں۔ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے تواتر سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اب اپنے اس ایجنڈے میں افغانستان کو بھی شامل کر لیا ہے۔ افغان لیڈر بھی عالمی فورمز پر اسی لب و لہجہ میں بات کرتے ہیں جس کی ہدایت انہیں نئی دہلی سے موصول ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت افغانستان میں پاکستان دشمن گروہوں کو مالی وسائل اور فوجی تربیت فراہم کرنے میں مصروف ہے۔

اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے اکثر دھماکوں میں سرحد پار کے عناصر کا ہاتھ ہوتا ہے جو افغان حکومت کی نرمی اور بھارتی سرگرمی کی وجہ سے مسلسل توانا ہو رہے ہیں اور کسی نہ کسی طرح پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو ناکام بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی آرمی چیف پاکستان پر فوری اور تباہ کن حملہ کی حکمت عملی پر مشتمل ڈاکٹرائن کولڈ اسٹارٹ کا اعتراف کر چکے ہیں اور گزشتہ دنوں یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ بھارت نے ’’پہلے ایٹمی حملہ نہ کرنے‘‘ سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کی ہے۔ یعنی دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی صورت میں بھارت ایٹمی حملہ کرنے کا آپشن بھی استعمال کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہایت تشویشناک اور پریشان کن ہے۔ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات اس سے زیادہ مزید کیا خراب ہو سکتے ہیں جو کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے سے کوئی تبدیلی رونما ہو جائے گی۔

اس کے باوجود یہ بات کہنے میں کوئی ہرج نہیں ہے کہ ایک بھارتی جاسوس اور دہشت گردی میں ملوث شخص کو سزا دے کر پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ قومی مفادات کے خلاف سرگرم عمل عناصر کو معاف نہیں کرے گا۔ بھارت کےلئے یہ ایک اہم پیغام ہے۔ تاہم کلبھوشن یادیو کو پھانسی دے کر پاکستان کی پوزیشن زیادہ مضبوط نہیں ہوگی۔ اگرچہ ملک میں عام طور سے یہ رائے پائی جاتی ہے کہ کلبھوشن کو پھانسی دینے سے ہی یہ بات واضح ہوگی کہ پاکستان کسی بھارتی ایجنٹ کو معاف نہیں کرے گا۔ لیکن یہ ایک جذباتی کیفیت میں سامنے آنے والی ایک رائے ہے۔ سزا دینے کے ساتھ معافی اور درگزر کا عمل بھی ایک طاقتور اشارہ ہوتا ہے۔ پاکستان کلبھوشن یادیو کو سزا یافتہ مجرم کے طور پر بھارت واپس کرکے اور اس کے جرائم کے شواہد بھارتی حکام کے علاوہ عالمی برادری کے حوالے کرکے اپنا مقدمہ زیادہ مضبوط کر سکتا ہے۔ اس طرح پاکستان کی سیاسی اور سفارتی قد و قامت میں بھی اضافہ ہوگا۔

کلبھوشن کو سزا دینے کا فیصلہ یہ خبر سامنے آنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل حبیب طاہر کو نیپال سے نامعلوم لوگوں نے اغوا کر لیا ہے۔ انہیں بمبینی کے علاقے سے لاپتہ کیا گیا تھا جو بھارتی سرحد کے قریب واقع ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کرنل حبیب طاہر کے خلاف بالکل وہی الزامات عائد کرے گا جو پاکستان میں کلبھوشن یادیو پر عائد کئے گئے تھے اور یہ بھی دعویٰ کیا جائے گا کہ پاکستانی کرنل نیپال سے نہیں بلکہ بھارتی علاقے میں تخریبی سرگرمیوں کو منظم کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ پاکستانی فوج نے بھی اس متوقع صورتحال سے نمٹنے کےلئے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ کرنل حبیب طاہر کی رہائی کےلئے پاکستان کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہو۔

حالات و واقعات خواہ کچھ ہی ہوں، نیپال کے سرحدی علاقے سے پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی افسر کا اغوا بلا جواز نہیں ہو سکتا۔ اس واقعہ سے بھی یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی اور عداوت کا رشتہ کس طرح بے گناہ انسانوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔ یہ معاملات کسی ایک فرد کو پھانسی دینے یا رہا کر دینے سے حل نہیں ہو سکتے۔ اس مقصد کےلئے دونوں ملکوں کو بہرصورت بات چیت کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے کے ڈھنگ سیکھنا ہوں گے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali