باصلاحیت کون؟ ڈگری والا یا مزاحمت کر کے نتیجہ دینے والا

ایک تپتی دوپہر، جب سورج پورے جلال سے چمک رہا تھا، میں اپنے زمیندار دوست حاجی صاحب کے ساتھ ان کی زمینوں پر گیا۔ ہم دونوں ایک پرانے پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھے گرمی کی شدت سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا کے جھونکوں کے درمیان، ہم دنیا جہاں کی باتیں کر رہے تھے۔ یوں ہی باتوں باتوں میں، میں نے اپنے ایک دوست کا ذکر چھیڑ دیا۔
”بڑا قابل تھا وہ،“ میں نے کہا۔ ”سکول میں ٹاپ کیا، یونیورسٹی میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور پھر پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ادارے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر بن گیا۔ لیکن زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اسے کرپشن نے گھیر لیا۔ وہ مجبور ہو کر نوکری چھوڑ گیا اور ملک سے باہر چلا گیا۔ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں، اس ملک میں صلاحیت رکھنے والے افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔“
میری بات ختم ہوئی تو حاجی صاحب نے ایک گہری سانس لی۔ ان کی آنکھوں میں کچھ سوچنے والا تاثر تھا۔ پھر پنجابی میں بولے :
”چوہان صاحب، کاندا چنگا (باصلاحیت) سی تہاڈا یار؟ جیڑا کسے وی چیز نوں ٹھیک کیتے بنا ہی باہر ٹر گیا؟ چس تا تد آندی جے اوہ وگڑیاں نوں ٹھیک کردا، سیدھیاں نال تے سارے ای کم کر لیندے نے گل تا تد جے وگڑیاں نوں سدھا کرے!“
انہوں نے کہا کہ اگر وہ واقعی باصلاحیت تھا تو اس کی صلاحیت کا اصل امتحان تب ہوتا جب وہ اس بگڑے ہوئے کرپٹ نظام میں رہ کر کچھ درست کرتا، مزاحمت کرتا، اپنے جیسے نیک نیت لوگوں کو تلاش کرتا، ان کی طاقت بنتا، ان کی آواز بنتا۔ لیکن اس نے تو آسان راستہ چنا۔ فرار کا راستہ۔ اُس نے میدان جنگ کو چھوڑا اور دوسروں کو ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
ان کے یہ الفاظ میرے دل کو چھو گئے۔
اگر وہ ملک سے باہر اس ارادے سے جاتا کہ میں تعلیم حاصل کر کے، تجربہ لے کر، سیکھ کر واپس آؤں گا اور بہتری لاؤں گا تو بھی بات کچھ اور ہوتی لیکن وہ تو صرف اپنی جان بچا کر نکل گیا اور جو اس کے جیسے تھے وہ اکیلے رہ گئے۔
کرپٹ لوگوں نے اپنی نسل تیار کر لی، لیکن نیک لوگوں نے اپنی کوئی فوج تیار نہ کی۔ وہی ادارہ، وہی کرپشن، وہی نا انصافی اور وہی گند۔ اور وہ شخص جو کچھ بدل سکتا تھا، اپنی قابلیت، اپنی تعلیم اور اپنی جوانی کے تمام خزانے کسی اور کی جھولی میں ڈال کر چلا گیا۔
صلاحیت کا اصل مطلب کیا ہے؟
صلاحیت صرف ڈگری، پوزیشن یا ٹیسٹ میں ٹاپ کرنے کا نام نہیں۔ اصل صلاحیت یہ ہے کہ آپ مشکل حالات میں کھڑے ہو سکیں۔ ظلم کو ظلم کہہ سکیں۔ تنہا ہو کر بھی آواز بلند کر سکیں۔ اگر آپ صرف اس لیے ملک چھوڑ دیں کہ یہاں سب خراب ہے، تو آپ میں اور ایک عام آدمی میں کیا فرق رہا؟ جنہوں نے کبھی دعویٰ ہی نہ کیا کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں۔
اکثر اداروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی ٹیم ناکام ہوتی ہے، تو ٹیم لیڈر اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتا ہے : ”مجھے ناکامی فلاں بندے کی وجہ سے ہوئی، فلاں نے وقت پر کام نہیں کیا۔“ لیکن اصل باصلاحیت فرد وہ ہوتا ہے جو غیر تربیت یافتہ افراد کو سکھاتا ہے، انہیں تربیت دیتا ہے، اُن میں صلاحیت منتقل کرتا ہے۔ یہ صلاحیت صرف موزوں ماحول میں نہیں ناپی جاتی۔ سازگار حالات تو کسی کسی کو ملتے ہیں : کسی کو خاندانی پیسہ، کسی کو با اثر رشتہ دار، کسی کو مددگار دوست یا تعاون کرنے والی فیملی۔ لیکن اصل امتحان تب ہوتا ہے جب آپ کو یہ سہولیات میسر نہ ہوں اور پھر بھی آپ اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر حالات کو قابو میں لائیں۔
اکثر اوقات ایک فرد کو کوئی ٹاسک دیا جاتا ہے، وہ فون کرتا ہے، میسج کرتا ہے، لیکن متعلقہ شخص کا جواب نہ آنے پر یہ فرض کر لیتا ہے کہ وہ تعاون نہیں کرنا چاہتا۔ نتیجتاً وہ ناکام ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف، ایک باصلاحیت فرد ایسے حالات میں متبادل ذرائع اپناتا ہے، دفتر یا گھر کا چکر بھی لگا لیتا ہے، تو پتا چلتا ہے کہ متعلقہ فرد کا فون خراب تھا یا وہ لاعلم تھا۔ اور کام فوراً مکمل ہو جاتا ہے۔
اداروں میں اکثر یہ رویہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ صرف یہ جملے دہراتے ہیں : ”میں نے کال کی تھی“ ، ”ای میل کر دی تھی“ ، ”فائل رکھ دی تھی“ ، ”میں نے پہنچا دیا تھا“ ۔ لیکن اصل کام جو مطلوب تھا، وہ مکمل نہیں ہوتا کیونکہ اطلاع موثر انداز میں نہیں دی جاتی، فالو اپ نہیں کیا جاتا، نتیجہ حاصل کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی۔ محض یہ کہنا کہ ”میں نے تو بتا دیا تھا“ صلاحیت نہیں کہلاتا۔ اصل صلاحیت یہ ہے کہ آپ نتیجہ دے سکیں، راستہ نکال سکیں اور کام کو انجام تک پہنچا سکیں، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔
قومیں ایسے ہی تباہ ہوتی ہیں۔ جب اچھے لوگ چپ ہو جائیں، جب قابل لوگ فرار ہو جائیں، جب نیک لوگ میدان چھوڑ دیں اور برے لوگ اپنی جڑیں گہری کر لیں۔
یہ واقعہ میرے لیے محض ایک نشست نہیں تھا بلکہ ایک آنکھ کھول دینے والا سبق تھا۔ حاجی صاحب کی زبان میں شاید فلسفے کی چاشنی نہ ہو، لیکن ان کی بات سیدھی دل میں جا لگی:
”بزدلی اور آسانی کی راہ اختیار کرنا صلاحیت نہیں، صلاحیت تو وہ ہے جو بگڑوں کو سنوار دے۔“
اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں، اگر ہم اس نظام کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں میدان میں رہ کر لڑنا ہو گا۔ مزاحمت کرنی ہوگی۔ اپنی نسلوں کے لیے راستے کھولنے ہوں گے، نہ کہ دروازے بند کر کے خود نکل جانا ہو گا۔

