ہمارا تعلیمی نظام: رٹا بہتر ہے یا جستجو؟
بچپن کے دن بہت خوبصورت ہوتے ہیں ہر فکر ہر پریشانی سے آزاد چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور چھوٹے ہی مسائل لیکن اس وقت بھی ایک حسرت ہوتی ہے کاش ہم بڑے ہو جائیں اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ پڑھائی سے جان چھڑانا ہوتا ہے ہم پڑھنا نہیں چاہتے اور گھر والے ہمیں زبردستی سکول بھیجنے ہیں شاید وہ چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد وقت کے تقاضوں کے ساتھ جدید علوم سے روشناس ہو کر زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے لیکن میرا سوال یہ ہے کیا پاکستان کا تعلیمی نظام طلبہ کو جدید علوم سے مستفید کر رہا ہے؟ کیا طلبہ کو اس انداز سے پڑھایا جا رہا ہے جو انھیں ترقی کی راہوں پر گامزن کر سکے؟ اس کا جواب یقیناً نہیں ہے۔
ایک بچہ سکول کیوں نہیں جانا چاہتا وجہ کیا ہے؟ بچے فطرتاً متجسس ہوتے ہیں وہ نئی نئی چیزوں کو سمجھنا چاہتے آگر ہم کسی دو یا تین سال کے بچے کے ساتھ وقت گزاریں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ ان کے پاس کیسے کیسے انوکھے اور دلچسپ سوالات ہوتے ہیں۔
عموماً ان کے سوال یہ ہوں گے پودے اتنی جلدی بڑے کیسے ہوتے ہیں؟ رات کیا ہے؟ جب دن نکل آتا ہے تو رات کدھر چلی جاتی ہے؟ یہ وہ سوال ہیں جو بظاہر بہت عام نظر آتے ہیں لیکن کبھی آپ نے غور کیا ہے وہی بچہ جب جو یہ سوال کرتا ہے جیسے ہی سکول میں قدم رکھتا ہے وہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی بجائے کتابوں کو رٹنے میں لگ جاتا ہے اس کا مقصد صرف اور صرف 99 ٪مارکس لانا رہ جاتا ہے۔
کیا یہ اس بچے کے ساتھ زیادتی نہیں ہے؟
کیا یہ ہمارے ملک کے ساتھ زیادتی نہیں؟
ہم نے کیوں اپنے تعلیمی نظام کو اتنا گرا دیا ہے؟
میں یہاں عام پاکستانی کی بات کر رہی ہوں پاکستان کے گنتی کہ چند بڑے سکولوں کو چھوڑ کر ہر سکول بس نصاب کو رٹوانے پہ زور دے رہا ہے تاکہ بچہ بس کسی نہ کسی طرح 90 فیصد نمبر کے کر پاس ہو۔
اس میں سب سے بڑا قصور تعلیمی ادارے کا ہے لیکِن میں سمجھتی ہوں یہ ان کا بھی قصور نہیں ہے جس معاشرے میں تعلیم کو کاروبار بنا دیا جائے وہاں اگر یہ سب نہیں ہو گا تو آپ کس چیز کی امید رکھیں گے اور کاروباری افراد کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے۔
انھوں نے وہی پیش کرنا کے جو بکتا ہے۔
مجھے یاد ہے میں نے اک بار اپنے سکول ڈائریکٹر سے بات کی تھی کم از کم بچے کو سائنس اردو میں پڑھائی جانی چاہیے ان کا جواب تھا میں خود یہی چاہتا ہوں لیکن والدین کہتے ہیں انگریزی میڈیم میں بھیجنے کا فائدہ کیا جب اردو پڑھنی ہے۔
یہ ہمارا قومی احساس کمتری ہے جس کو انگریزی نہیں آتی اسے ان پڑھ سمجھا جاتا ہے۔
آج کل پرائیویٹ سکولوں میں سمر کیمپس کا دور دورہ چل رہا ہے سمر کیمپس کا بنیادی مقصد طلبہ کی ذہن سازی کرنا اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے انھیں کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ دلوانا اور ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما صلاحیتوں کو سامنے لانا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سمر کیمپس کا انعقاد کرنا ایک اضافی سکول کھولنا ہی ہے۔
پرائیویٹ سکول میں اس کا بنیادی مقصد فیس کا حصول ہے نہ کہ طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لانا۔
یورپ آج ہم سے آگے کیوں نکل چکا ہے کیوں کے وہ بچوں کو رٹا لگوانے سے زیادہ عملی طور پر کر کے دکھاتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا وقت کا بہترین گھڑسوار گھڑسواری کر کے بنتا ہے نہ کہ گھڑسواری کے طریقہ کار کا رٹا لگا کر۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اور حکومت دونوں کو چاہیے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے کو رٹوانے کی بجائے عملی شکل میں چیزوں کو سمجھایا جائے اس ضمن میں والدین سکولوں کے مالکان اور حکومت سرکاری سکولوں کے ہیڈز کو اس بات کو پابند کرے کہ ہفتے میں کم از کم ایک دن سائنسی مضامین کا کوئی نہ کوئی پریکٹیکل لازمی منعقد کروایا جائے اس سے بچے کا فطری تجسس پروان چڑھے گا اور وہ نت نئی چیزوں کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہے گا اور کائنات کے راز انھیں کو ملتے ہیں جو انھیں تلاش کرتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کائنات میں ڈھونڈنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور آخری بات اس کائنات کو ہمارے لئے مسخر کر دیا گیا ہے اور جو کوئی اس کو تسخیر کرنا چاہے گا تو وہ کر لے گا لیکن اس لیے ہم سب مل کر اس معاشرے اور بالخصوص اپنے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانی ہوگی۔

