شہری تنہائی بمقابلہ دیہی سادگی: ایک افسوسناک تضاد


کہتے ہیں انسان سماجی حیوان ہے، مگر وقت کے ساتھ ہم نے سماج کو، تعلق کو اور احساس کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ آج جدید شہروں کی چمک دمک، بلند و بالا عمارتوں، فلیٹس اور اپارٹمنٹس نے ہمیں سہولت تو دی، مگر ہم سے ہمارا خلوص، ہمارا رشتہ، اور ہمارا ”ہمسایہ“ چھین لیا۔

ایک دیہاتی گاؤں میں آج بھی جب کوئی فرد ایک دن گھر سے باہر نہ نکلے، تو اگلے دن اس کے دروازے پر کوئی نہ کوئی دستک دیتا ہے۔ ”بابا خیریت تو ہے؟“ ”اماں نظر نہیں آئی آج، طبیعت تو ٹھیک ہے؟“

یہ سوالات بظاہر چھوٹے ہیں، مگر انسانیت کی بنیاد ہیں۔ ان سوالوں میں خلوص ہے، درد ہے، اور وہ رشتہ ہے جو دیوار کے اُس پار بسنے والے کو اپنا سا بنا دیتا ہے۔

مگر کراچی جیسے بڑے شہروں میں، جہاں لوگ ایک ہی فلیٹ میں برسوں ساتھ رہتے ہیں، وہاں یہ ”دستک“ عنقا ہو چکی ہے۔

چند ہفتے قبل پاکستان کی ایک مشہور اداکارہ کی لاش ان کے گھر سے ملی۔ چھ ماہ تک کسی نے دروازہ نہ کھٹکھٹایا، نہ آواز دی، نہ خبر لی۔ جب مالک مکان کو کرایہ نہ ملا، تب پولیس نے دروازہ توڑا۔

افسوس! یہ کوئی بے نام فرد نہ تھی، لاکھوں کی پسندیدہ فنکارہ تھی، مگر انسانوں کے سمندر میں تنہا ڈوب گئی۔

یہ وہی شہر ہے جہاں موبائل، وائی فائی، اور سوشل میڈیا کی تیز دنیا ہے، مگر انسان دل کی دنیا سے کٹ چکا ہے۔

یہاں آس پاس کے فلیٹس میں کون زندہ ہے، کون مردہ، کسی کو پروا نہیں۔
یہاں زندگی صرف مصروفیت کا نام ہے، محبت اور تعلق کا نہیں۔
شاید اسی لیے دیہات کی زندگی، اس کی سادگی، اس کے رشتے، اس کا خلوص آج بھی لاکھ درجے بہتر ہے۔
وہاں لوگ تعلیم میں پیچھے ہو سکتے ہیں، مگر انسانیت میں ابھی باقی ہیں۔

وہاں نہ فیس بُک ہے، نہ انسٹا، مگر ایک ”اماں“ کی خیر خبر، ایک ”چاچا“ کی طبیعت کا حال، ہر دل میں بسا ہوتا ہے۔

آج ہم سب کو رک کر سوچنا ہو گا:
کیا جدید زندگی ہمیں وہ سب کچھ دے پائی ہے، جو ایک سادہ گاؤں کا دروازہ دے دیتا ہے۔ ”خیریت تو ہے نا؟“

Facebook Comments HS