مال روڈ کی ایک جھلک


لاہور شہر میں رہنا، اس پر دہائیوں پہلے لکھی گئی تحریروں کو پڑھنا اور ان جگہوں پر خود کو روک کر ماضی و حال کو محسوس کرنا بڑی دلچسپ بات ہے۔ اس شہر کا ہر کوچہ اپنے اندر صدیوں کی تاریخ رکھتا ہے جو تہذیب کے عروج و زوال کا ایک طویل منظر پیش کرتا ہے۔

ایسے ہی مال روڈ جسے شاہراہ قائداعظم بھی کہتے ہیں ریاست پاکستان میں اکیسویں صدی کے طبقاتی تضاد کا آئینہ ہے جس کی زنجیر آج بھی انگریزوں کے ہاتھ میں ہے۔

مال روڈ فورٹریس سٹیڈیم سے شروع ہوتی ہے، لاہور میوزیم اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سامنے ختم ہوجاتی ہے۔ اس کو 1851 میں لیفٹیننٹ کرنل نیپئر نے اپنی زیر نگرانی تعمیر کروایا۔ یہ روڈ پنجاب کی حکومت اور لاہور کنٹونمنٹ کے درمیان ایک بریج کا کام دیتی رہی  ہے لیکن جدید دور اور بیک ڈور ڈپلومیسی کی وجہ سے اس بریج کی ذمہ داریوں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

میں اس روڈ پر پچھلے تین سال سے یونیورسٹی پہنچنے کی غرض سے سفر کر رہی ہوں۔ یہ دریا کی سی روانی سے بہتا ہے جس میں پہلے پہل پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے لیکن آخر تک پانی کی مقدار اور بہاؤ دونوں نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔ یہ سڑک جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے انسانی معاشرے کو اعلیٰ، متوسط، اور نچلے طبقے میں تقسیم کرتی چلی جاتی ہے۔ اپر مال سکیم سے لوئر مال سکیم تک اور جم خانہ کلب سے انارکلی تک زندگی ہر مختلف زاویہ سے جنبش دینی نظر آتی ہے۔

اس کا اصل آنگن اپر مال سکیم ہے جس میں یہ صوبہ پنجاب کے جاگیردار طبقے کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس آنگن میں پہلے پہل ایک طرف مکان ہیں ان میں سے کچھ حکومت پاکستان نے آزادی کے بعد انڈیا سے آنے والے اعلیٰ طبقے کو الاٹ کر دیے اور کچھ انہی کے ہم پلہ لوگوں کی ملکیت ہیں۔ دوسری طرف جم خانہ کلب ہے جو انہی لوگوں کو آسائش اور تفریح و مشغلہ کا ساماں فراہم کرتا ہے۔ آگے بڑھیں تو ایک طرف سول سروسز اکیڈمی ہے جہاں ہماری ریاست اپنے بیوروکریٹس تیار کرتی ہے اور دوسری طرف ایچیسن میں سیاستدان۔

اس سے اگلے حصے میں انہی لوگوں کو ذریعے معاش فراہم کرنے کے لیے پنجاب کے حکومتی دفاتر ہیں جن میں

گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، اور نیشنل سکول آف پبلک پالیسی سر فہرست ہیں۔ پی۔ سی ہوٹل سے لے کر گورنر ہاؤس تک ہر لمحہ ہمہ تن گوش پنجاب پولیس کا ہونا اور پروٹوکول کے گزرتے وقت ٹریفک اشاروں کا بند ہونا اس سوال کا مکمل جواب ہے کہ حفاظتی اقدامات کس طرح رکھے جاتے ہیں۔ جب بھی کوئی اندورنی یا بیرونی ممالک سے سیاسی شخصیت کا قیام ہوتا ہے تو پی۔ سی کے سامنے کے روڈ کو بند کر کے اس کے اردگرد شیلڈ لگادی جاتی ہیں اور ساتھ کانٹے دار تار بچھا دی جاتی ہے تاکہ کوئی غیرقانونی شخص آگے نہ بڑھ سکے۔ اور ان کو راستوں سے گزارتے وقت کسی ہنگامی صورت سے بچانے کے لیے سکیورٹی میں پنجاب پولیس کے علاوہ ایک ایمبولینس اور فائر برگیڈ عملہ بھی شامل ہوتا ہے۔ ایسے ہی اگر کسی جلوس کو مخصوص حدود سے آگے بڑھنے سے روکنے کا حکم صادر ہو تو پولیس کو لاٹھیاں اور شیلڈ لیے کھڑے پایا جاتا ہے۔

یہ درست ہے کہ ان حفاظتی اقدام سے عام شہریوں کے روز مرہ کے معاملات میں خلل آتا ہے اور عوام اس کو حکومتی نا اہلی سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کی ضرورت بھی بجا ہے۔ میں نے دوران سفر جب بھی اسی غرض سے راستوں کو بند پایا تو مسافر شہریوں کو کہتے سنا ہے کہ

جب موت آنی ہے تو آ ہی جانی ہے

لیکن حقیقتاً یہ ایک ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاص طور پر بیرون ممالک سے آئے ہوئے ریاستی مہمانوں کو تحفظ فراہم کرے کیونکہ اقوام عالم کو اس کے بغیر اعتماد میں نہیں لیا جا سکتا۔

لاہور شہر میں جب بھی کوئی احتجاج ہوتا ہے تو اس کا پڑاؤ گورنر ہاؤس کے سامنے ضرور ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کے پاس یہ ایک ایسا در ہے جس پر دستک ان کی آواز ایوان بالا تک پہنچا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ گورنر ہاؤس سے آگے عام طور پر کسی جلوس کو بڑھنے ہی نہیں دیا جاتا ہے۔ میں نے اس کے آگے صرف ایک ہی جلوس جاتے دیکھا ہے جو کہ 9 مئی کے نام سے مشہور ہے۔ طلباء و طالبات یا مزدور عوام کے احتجاج اکثر چیئرنگ کراس سے ہی واپسی کا رخ کر لیتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ اور اس کے اردگرد کالے کورٹ میں ملبوس وکلاء کی چہل قدمی یہاں عدالتی نظام کے وجود کا ثبوت ہے۔ لیکن اس عمارت کے سامنے لوگوں کو فائلوں کے ساتھ انصاف کی تلاش کی خاطر گھنٹوں دھکم پیل کرتے دیکھنا کورٹ کچہری کے دھکوں کا بھر پور اندازہ دلاتا ہے۔

انارکلی بازار آج بھی انارکلی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہاں پہنچ کر یہ طبقاتی تضاد مزید واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں ایک طرف کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور میو ہسپتال ہے جہاں غریب عوام اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف وہی عوام اپنی دو دقت کی روٹی کے عوض ذریعے معاش تلاش کیے ہوئے ہیں جہاں پاکستان بھر سے حصول تعلیم کی خاطر آئے طلباء ان کا وسیلہ بنتے ہیں۔ لاہور کو طلباء کی صنعت بھی اسی لیے کہا گیا ہے کہ یہاں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک سے بھی علم کے متلاشی آتے ہیں۔ اس کے بر عکس اسی روڈ پر پنجاب یونیورسٹی اور این۔ سی۔ اے کالج کے طلباء درج بالا لوگوں کی زندگیوں کی نقش بندی کرتے اور ساز دیتے نظر آتے ہیں جبکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی آب و ہوا ان کی زندگیوں کو لفظوں میں پرو کے ایک داستان کا روپ دینے میں بے مثال ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس جدید دور میں بھی انارکلی بازار میں دیواروں کے ساتھ سمجھی کتابیں اپنی قدر آپ سنبھالے ہوئے ہیں۔ جو گزرتے لوگوں کو نا چاہتے ہوئے بھی رک کر دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ مزید براں ہر اتوار کے دن انارکلی بازار میں نئی پرانی کتابوں کی نمائش ہوتی ہے جہاں طلباء کے علاوہ ادھیڑ عمر کے مرد و خواتین کو کتابیں خریدتے دیکھنا یہ باور کرواتا ہے کہ انسان کو کتاب کی خوشبو لگنے کی کوئی عمر قید نہیں۔

انہی بازاروں میں فٹ پاتھ پر منشیات کے عادی لوگوں کا دن رات ایک ایک لمحے کو سسکتے ہوئے گزارنا معاشرے کو مزید پست درجے میں تقسیم کر دیتا ہے۔

اختصار کے ساتھ بیشک مال روڈ ملک کی آدھی اور پنجاب کی پوری حکومت چلا رہا ہے اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا عکس ہے لیکن اس کی فضا اور اس کا گزرنے والوں کو دینے والا احساس اپنی مثال آپ ہے۔

Facebook Comments HS