حقِ حکمرانی (ایک خاص تحریر)


موجودہ دور میں انصاف، انسانی حقوق، بہتر طرز حکمرانی جمہوریت کا بڑا چرچا ہے ۔ ہر سال لاکھوں کروڑوں فنڈ خرچ کر کے ان کے متعلق سیمینارز منعقد کئے جاتے ہیں ۔ان کو منانے ہر سال کئی ایام مقرر ہیں ۔ مغرب کی بہتر طرز حکمرانی کی ہر کوئی مثالیں دے رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کا بڑا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سب باتیں صرف باتیں ہی ہیں ۔ اور عملی میدان میں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔

روز ٹی وی ٹاک شوز ہو رہے ہیں جس میں ہر ایک اپنے آپ کو حکمرانی کے لیے سب سے موزوں ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہر شخص کا دعویٰ ہے کہ صرف اسے ہی حکمرانی کا حق حاصل ہے وہ بہتر طریقے سے عوام کی خدمت کر سکتا۔ اس کے پاس تمام مسائل کے حل کا بہترین فارمولہ موجود ہے ۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو رونے لگے کہ میں اس قابل نہیں اور مجھ سے حق حکمرانی ادا نہ ہو سکے گا۔ وہ بار بار التجا کر رہا تھا کہ مجھے خلیفہ نہ بنایا جائے۔

لیکن آج حالات کیا ہے ۔ حکمران بننا تو چھوڑئیے ایک معمولی ایم پی اے اور ایم این اے اور وزیر و مشیر بننے کے لیے آدمی کیا کچھ کرنے پر راضی نہیں ۔ جھوٹ ، دھوکہ ، فریب اور دوسرے لوگوں کو شیطان اور اپنے آپ کو فرشتہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ خود سارا دن جلسے جلوسوں میں اپنی تعریفیں کرتا ہوا نہیں تھکتا۔ اگرچہ دانشوروں کے بقول اس شخص سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں جو خود اپنی زبان سے اپنی تعریف کر تا ہو۔

جمہوریت کے موجودہ سیٹ اپ میں ایک شخص نہ صرف خود کو نمایاں کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے بلکہ اپنے آپ کو لوگوں کا نجات دہندہ تصور کرتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کی توجہ کا مرکز ہو اور سب ان کے پیچھے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلتا پھرے۔ خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ ’’حکومت کے منصب کے لیے ایسا شخص سب سے زیادہ موزوں ہے کہ جب وہ اس منصب پر فائز نہ ہو تو قوم کا سردار نظر آئے اور جب اس پر فائز ہو جائے تو انہی میں سے ایک فرد معلوم ہو۔‘‘لیکن یہاں تو وہ الیکشن کے دوران تو وہ کسی حد تک ایک عام آدمی ہی نظر آتا ہے لیکن پاس ہونے کے بعد وہ آسمانوں میں رہتا ہے اور زمین پر آنا وہ اپنی توہین سمجھتا ہے ۔

ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اپنی برادری ، قوم اور علاقے کا نمائندہ بننا چاہتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے کچھ ضروری لوازمات بھی ہیں۔ بقول ایک دانشور کے ’’جو لوگ قوم کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں انہیں سب سے پہلے اپنے نفس کے بت کو توڑنا ہوگا۔ انہیں ذاتی مفاد کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنا پڑے گا۔ جو لوگ اس ضروری تیاری کے بغیر قوم کی رہنمائی کے میدان میں داخل ہوں۔ وہ قوم کے مجرم ہیں نہ کہ قوم کے رہنما۔‘‘

موجودہ زمانے میں ہر ایک خود کو حکمران بنانے کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ عوام سے تو وہ کہتا پھیرتا ہے کہ وہ صرف خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہے لیکن تھوڑا سا عہدہ ملنے کے بعد بھی ان کی طرز زندگی میں وہ شاہانہ تبدیلیاں آجاتی ہے کہ ایک عام آدمی کا اس کے قریب سے گزرنا بھی محال ہوجاتا ہے ۔ ہزاروں کا بینک بیلنس کروڑوں تک جا پہنچتا ہے اور اس کا لائف سٹائل مکمل طور پر تبدیل ہوجاتا ہے ۔ جبکہ اس کے مقابل ہمارے اسلاف کو ایسا موقع مل جاتا ہے تو اس کی طرز زندگی شاہانہ ہونے کی بجائے حقیقی طور پر خادم خلق کا روپ اختیار کر لیتے ۔

Facebook Comments HS