خیبرپختونخوا کی شورش، عالمی بساط اور بدلتے سیاسی منظرنامے
خیبرپختونخوا کے پہاڑوں پر بہنے والی ہوا کی سرسراہٹ میں اگر کان لگاؤ، تو تاریخ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ یہی خطہ، جو کبھی سکندرِ اعظم کی فوجوں کی گزرگاہ تھا، کبھی مغلوں کی سلطنت کا دروازہ، اور کبھی برصغیر پر برطانوی سامراج کی پیش بندیوں کا مرکز، آج پھر عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ لیکن اس بار کہانی کچھ اور ہے۔ اس میں صرف بندوقیں اور توپیں نہیں، بلکہ راستے، معدنیات، تجارت، اور بین الاقوامی اتحاد بھی شامل ہیں۔
خیبرپختونخوا میں شورش کے کئی محرکات ہیں۔
تاریخی طور پر قبائلی معاشرت اور برطانوی دور کی ایف سی آر جیسی نوآبادیاتی پالیسیاں جنہوں نے علاقے کو مرکزی دھارے سے الگ رکھا۔
افغانستان میں جاری جنگوں نے ان سرحدی علاقوں کو پناہ گزینوں، اسلحے اور منشیات کی گزرگاہ میں بدل دیا۔
نائن الیون کے بعد امریکی افغان جنگ نے یہاں کی فضا مزید بارود آلود کر دی۔
قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں انضمام بھی اگرچہ ایک مثبت قدم تھا، لیکن مقامی سطح پر انتظامی ڈھانچے کی کمزوری، سیاسی خلا، اور معاشی محرومی نے کئی نئے مسائل کو جنم دیا۔
لیکن اب شورش کی بین الاقوامی وجوہات بھی اتنی ہی اہم ہیں، جتنی مقامی۔ اور یہی نکتہ اکثر تجزیوں سے غائب رہتا ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ نے عالمی بساط پر کئی مہرے بدل دیے۔ مغرب اور روس کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے چین اور روس کو مزید قریب کر دیا۔ چین پہلے ہی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے وسط ایشیا، پاکستان، اور گوادر کو جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اب روس بھی مغربی پابندیوں کے باعث متبادل تجارتی راستے تلاش کر رہا ہے، جس میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت غیرمعمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔
حال ہی میں پاکستان اور روس کے درمیان ریل سروس کا معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
چین اور روس کے درمیان تجارت کے لیے پاکستان کا زمینی راستہ، افغانستان کے ذریعے وسط ایشیا تک جا سکتا ہے۔
اس تمام منصوبے میں خیبرپختونخوا اور سابقہ فاٹا علاقے گیٹ وے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ وہ زاویہ ہے جو خیبرپختونخوا کی شورش کو محض مقامی مسئلہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے بین الاقوامی جیو پولیٹیکل سازشوں کا حصہ بنا دیتا ہے۔
سیدھی بات یہ ہے کہ کچھ طاقتوں کو چین، روس اور پاکستان کا اتنا قریب انا بالکل پسند نہیں ہے۔ اگر اس خطے میں امن قائم ہو جاتا ہے تو روس اپنی توانائی کی منڈیاں کھول سکے گا۔
چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو تیزی سے آگے بڑھے گا۔
پاکستان خطے کا ٹرانزٹ حب بن جائے گا، جس سے نہ صرف اقتصادی استحکام بلکہ سیاسی اہمیت بھی ملے گی۔
یہ سب کچھ بعض بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے، بالخصوص وہ جو خطے میں انڈیا کو توازن کا ستون سمجھتے ہیں۔ بھارت کے لیے بھی یہ خوش کن بات نہیں کہ روس اور چین پاکستان کے ذریعے جڑ جائیں۔ اس صورت میں شورش اور عدم استحکام کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کچھ بین الاقوامی طاقتوں کا ایک ممکنہ حکمتِ عملی بن سکتا ہے۔
عالمی میڈیا میں خیبرپختونخوا کی شورش کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی اسی مقصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے تاکہ سرمایہ کاری اور تجارت خوف کی نذر ہو جائے۔
حالیہ دنوں میں روس نے افغان طالبان کی حکومت کو باضابطہ تسلیم کر لیا۔ اس کے پیچھے بھی مفادات کا جال چھپا ہوا ہے۔ روس چاہتا ہے کہ وسط ایشیا سے افغان سرزمین کے ذریعے تجارت ممکن ہو۔
امریکہ اور یورپ کو خطے میں قدم نہ جمانے دیے جائیں۔
جنوبی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا جائے۔
اگر افغانستان میں استحکام آتا ہے، تو یہ راستے کھل سکتے ہیں۔ لیکن اگر خیبرپختونخوا یا بلوچستان میں شورش رہے، تو یہ سارے منصوبے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ خیبرپختونخوا صرف جغرافیائی اہمیت نہیں رکھتا، بلکہ وسائل کی دولت بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ حالیہ عرصے میں مرکز کی طرف سے مائنز اینڈ منرلز بل پر کام ہو رہا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہوتا ہے، تو معدنی وسائل پر وفاقی کنٹرول مضبوط ہو جائے گا۔ اس پر خیبرپختونخوا میں تحفظات ہیں کہ اس بل سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع کم ملیں گے۔
وسائل کا مالی فائدہ مرکز کو جائے گا، صوبے کو نہیں۔
شورش اور احساس محرومی مزید بڑھ سکتے ہیں۔
یہ بھی ایک ایسا پہلو ہے جو شورش کے محرکات میں ایندھن ڈال سکتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ خیبرپختونخوا میں شورش کیوں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم عالمی کھیل کو سمجھ کر کوئی جامع حکمت عملی بنا سکتے ہیں؟ اس کا حل محض سیکورٹی آپریشنز میں نہیں، بلکہ معاشی ترقی میں ہے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ہے۔
وسائل کی شراکت منصفانہ بنانے میں ہے۔
علاقائی تعاون کو فروغ دینے میں ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، لوگوں کے دل جیتنے میں ہے۔
خیبرپختونخوا کی سرزمین بہت کچھ جھیل چکی ہے۔ اب یہ محض پاکستان کا سرحدی صوبہ نہیں، بلکہ ایشیائی تجارت اور بین الاقوامی تعلقات کا سنگم بنتا جا رہا ہے۔ شورش کا خاتمہ صرف مقامی نہیں، بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی لازم ہے۔
آج جب آپ کسی خبر پر نظر ڈالیں کہ خیبرپختونخوا میں دھماکہ ہوا، یا حملہ ہوا تو صرف اسے مقامی دہشت گردی کا مسئلہ سمجھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔ بلکہ اس کے پیچھے بہت بڑی عالمی کہانیوں اور ریشہ دوانیوں پر غور کریں۔ اور اگر ہم نے بروقت اس کہانی کو سمجھ کر حکمت عملی نہ بنائی، تو روس، چین اور پاکستان کے قریب آنے کا خواب ایک بار پھر بارود کے دھوئیں میں گم ہو جائے گا۔
جو نہ صرف روس اور چین کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ پاکستان کے معاشی مفادات کے بھی خلاف ہے۔ یہ خطہ اب عالمی تجارت، معدنیات اور اسٹرٹیجک اتحادوں کا محور بن چکا ہے۔ یہاں امن ہو گا، تو پاکستان کی معیشت بھی ترقی کر سکتی ہے۔ یہاں شورش رہی، تو نہ صرف مقامی لوگ متاثر ہوں گے، بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات بھی دوبارہ ٹکرا سکتے ہیں۔


