ادویات پر حلال و حرام کا لیبل لازم ہے


پرفیوم اور ٹشو پیپر وغیرہ جیسی چیزوں پر حلال کا لیبل لگایا جاتا ہے جو کہ عموماً لوگ کھاتے نہیں ہیں۔ پلاسٹک کی اشیا پیٹرولیم سے بنتی ہیں۔ ان پر بھی یہ لیبل آپ نے دیکھا ہو گا۔ ایسی ہی بے شمار اشیا ہیں جن کو آپ کھاتے نہیں بلکہ کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں مگر ان پر حلال کا لیبل لکھا ہوتا ہے۔

لیکن ہم جو ادویات کھاتے ہیں ان پر یہ لیبل نہیں ہوتا۔ حکومت کو اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور ان تمام ادویات پر حرام کا لیبل لگایا جانا چاہیے جن میں حیوانی یا انسانی اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں یا جن میں الکوحل یا دوسری نشہ آور اشیا شامل کی جاتی ہیں۔ آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ خنزیر کو انسانی اعضا سے مطابقت کی وجہ سے ادویات کے تجربات کے علاوہ ادویات سازی کے مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مارفین اور ایسی دیگر ادویات جن کو کھا کر نیند آئے، کیا وہ خمر کے حکم میں نہیں آتی ہیں؟ بیشتر اینٹی بائیوٹک کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے اور ان پر وارننگ درج ہوتی ہے کہ انہیں کھا کر ڈرائیونگ وغیرہ مت کریں۔

مسلمانوں سے حرام اشیا چھپانے کے لئے چاکلیٹ وغیرہ پر تو ای ٹیگ استعمال کیے جاتے ہیں۔ یعنی اجزا کی فہرست میں یہ لکھنے کی بجائے کہ یہ فلاں جانور کی چربی یا دوسرا جزوِ بدن ہے، اس جزو کو ایک کوڈ دے دیا جاتا ہے، مثلاً E123، اور خورد و نوش کی اشیا کے اجزا میں اصل جزو کے نام کی بجائے یہی کوڈ لکھ دیا جاتا ہے۔ لیکن ادویات پر تو سیدھے سیدھے کیمیائی نام لکھے ہوتے ہیں جو عام آدمی کی تو خیر سمجھ میں ہی نہیں آتے ہیں، مگر کوئی ماہر فارماسسٹ یا کیمیا دان بھی انہیں پڑھ لے تو وہ ان کے ماخذ کے بارے میں نہیں جان سکتا۔

ہومیوپیتھک ادویات کا معاملہ تو مزید ٹیڑھا ہے۔ کوئی بھی بوتل اٹھا کر دیکھ لیں، اس پر لکھا ہو گا کہ یہ 98 فیصد الکوحل ہے۔ جبکہ بیئر میں یہ شرح تین سے پانچ فیصد اور کشید کردہ تیز شرابوں میں یہ شرح محض پچیس تیس فیصد تک ہوتی ہے۔ کیا یہ حلال ہو سکتی ہیں؟

بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ادویات کے معاملے میں حرام حلال نہیں دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق یہ بات غلط ہے۔ حرام صرف حالت اضطرار میں ہی جائز ہوتا ہے جب جان پر بنی ہو اور کوئی دوسرا راستہ سامنے نہ ہو۔ عام درد کش ادویات یا دیگر ادویات کے معاملے میں یہ صورت حال درپیش نہیں ہوتی ہے۔ جدید میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ ہفتے میں دو مرتبہ اعتدال کے ساتھ شراب پینا دل اور دیگر اعضائے رئیسہ کے لئے مفید ہے اور اس سے زندگی میں اضافہ ہوتا ہے، تو استغفراللہ کیا طبی بنیاد پر اس حرام شے کو بھی حلال قرار دے دیں؟ ورنہ تو کوئی عادی شرابی اٹھ کر کہے گا کہ اس کے لئے شراب بھی ایک دوائی ہے۔ دوسرا شخص کہے گا کہ جناب خنزیر کے گوشت کو بطور دوا استعمال کرتا ہوں اس لئے روز ایک کلو کھا جاتا ہوں۔

اس طرح لاعلمی کے باعث حرام کھانے کی وجہ سے ہی ہماری اخلاقی حالت ایسی ہو گئی ہے۔ جب خنریز سے اخذ کردہ اشیائے جزو بدن بنیں گی تو کیا ہو گا؟ کیا کھانے والا ان تمام برائیوں میں مبتلا نہیں ہو گا جن کے لئے خنزیر اور اہل مغرب بدنام ہیں؟ حرام کھانے کے نقصانات کے معاملے پر مرحومہ بانو قدسیہ کا مشہور ناول ’راجہ گدھ‘ آپ نے پڑھا ہو گا اور یہ جانتے ہوں گے کہ لقمہ حرام کس طرح جینیاتی تبدیلی کا باعث بن جاتا ہے۔

ادویات کے ذریعے دیا جانے والا یہ زہر ہی ہے جس کی وجہ سے آپ کو مسلمانوں میں اخلاقی زوال کی یہ بدترین سطح دکھائی دیتی ہے۔ جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، مرداروں سے خوردنی تیل بنانا، گدھے کتے خنزیر کا گوشت بے خبر افراد کو کھلا دینا، اپنا کام ایمانداری سے نہ کرنا، دیانت داری اور صداقت سے منہ موڑنا، اور ایسے ہی بے شمار مسائل کی جڑ یہی لقمہ حرام نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

کیا ہم معمولی سا درد اور بیماری برداشت کرنے کو حرام پر ترجیح دینے والی قوم ہیں یا حلال حرام کی تمیز کیے بغیر کھانے والی قوم؟ ہزاروں درد کش اور جراثیم کش ادویات میں سے زیادہ نہیں تو سینکڑوں تو ایسی ہوں گی جو مکمل طور پر حلال ہوں۔ کیا صرف ان کا استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے؟

اسلامی نظریاتی کونسل اور علما کی دیگر تنظیموں کو اس بات کے لئے مہم چلانی چاہیے کہ ادویات پر بھی حلال کا لیبل لگایا جائے۔ جن ادویات پر یہ لیبل نہ ہو ان کو صرف غیر مسلموں کو ہی فروخت کیا جائے اور ان کے لئے خاص پرمٹ کا اجرا کیا جائے۔ صرف فوری طور پر جان بچانے کی خاطر ناگزیر ادویات کو ہی ہسپتال میں داخل شدہ افراد کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar