یہ میری زندگی ہے۔۔۔ فیصلہ میں کروں گی
لوگ کہتے ہیں سماج بے حس ہو گیا ہے، لوگوں میں پہلے دور کا خلوص اور محبت نہیں رہی۔ لوگ اپنی زندگی میں اتنے مگن ہو چکے ہیں کہ کسی کو کسی کے دکھ سکھ کی پرواہ نہیں رہی ہے۔ اسی وجہ سے سماجی ڈھانچہ بگاڑ کا شکار ہے۔پہلے وقتوں میں بہن ،بیٹیاں سانجھی مانی جاتی تھیں ان کا خیال ہر کوئی رکھتا تھا۔ایک گلی محلے کے بچے سب کے لیے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہوتے تھے اور ان کو مار پیٹ کا حق (سمجھانے کی غرض سے) سب کو ہوتا تھا ۔معاشرے میں احترام تھا خواہ ڈنڈے کے زور پہ ہی تھا۔ابا جی کا تصور کسی ہٹلر سے کم نہیں تھا کہ ان کے گھر آتے ہی سب کونوں کھدروں میں دب جاتے تھے۔ لڑکیوں کا اونچی آواز میں ہنسنا، بات کرنا انتہائی معیوب بات تھی۔ایسے بہت سے قصے کہانیاں بڑے بزرگ اپنے بچوں کو سنا کے شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔آج کی نسل شرمندہ ہونے کی بجائے شکر بجا لاتی ہے کہ وہ دور انہیں نصیب نہیں ہوا ورنہ زندگی ،زندگی کم قید خانہ زیادہ لگتی۔
شاید یہ سب ایسے ہی ہو گا جیسا کہ بتایا جاتا ہے۔ تب لوگوں میں محبت اور خلوص ہوتا ہو گا اور معاشرتی برائیاں نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔کہا جا سکتا ہے کہ اب ایسا نہیں ہے۔قدریں اور ترجیحات بدل چکی ہیں۔وقت کے تقاضوں نے بہت کچھ بدل ڈالا ہے۔لیکن ایک بات نہیں بدلی وہ ہے لوگوں کی دوسروں کی زندگی میں اپنی زندگی سے زیادہ دلچسپی لینا۔عام لوگ دوسرے لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں کیونکہ بات کرنے کے لیے اور کوئی موضوع نہیں ہوتا۔ پیدائش سے لیکر موت تک شاید ہی دنیا میں کوئی انسان ایسا گزرا ہو جسے اس کی عدم موجودگی میں غیر متعلقہ لوگوں نے ڈسکس نہ کیا ہو اور اس کے متعلق اپنی نادر رائے کا اظہار نہ کیا ہو۔
ایسے میں ایک مسئلہ سامنے آتا ہے معاشرے کی رائے کا ،لوگ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں،اور اس خواہ مخواہ کی رائے کی اہمیت کیا ہے؟ دیکھا جائے تو لوگ آپ کے بارے میں رائے کا اظہار تب ہی کرتے ہیں جب آپ خود موجود ہوں یا آپ سے متعلقہ کوئی اور شخص تاکہ وہ رائے آپ تک پہنچ جائے۔ کسی کے بارے میں بھی یہ نقطہ نظر حقیقت پہ کم،ذہنی تخیل اور گمان پر زیادہ مبنی ہوتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ان کی آپ کے بارے میں رائے رکھنا، چاہے وہ حقیقت سے کتنی ہی دور کیوں نہ ہو، بعض اوقات اچھی خاصی مصیبت کا باعث بن جاتا ہے جبکہ بات کرنے والوں کے لیے وہ محض زبان کا چسکا ہوتا ہے۔
روز کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کے خوف سے کوئی نیا کام کرنے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جو سماج کے ان کے لیے تعین کردہ معیار سے باہر نکلنے اور سوال اٹھنے کے ڈر کی وجہ سے زندگی کے متعلق وہ فیصلے کر جاتے ہیں جو انہیں تا حیات گھٹن میں رکھنے کا باعث ہوتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو نفسیاتی دباو اور ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں لیکن کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر پاتے جو جرات مندانہ ہو، معاشرے کے طے کردہ معیارات کے برعکس ہو۔لیکن ان کے اپنے لیے فرحت اور سکون کا باعث ہو اوران کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی لا سکے۔ لوگ کیا کریں کہ خوف ایک ایسا عفریت ہے جو لاکھوں خوابوں کو نگل لیتا ہے۔ ایک بے بنیاد خوف، اس سماج کا خوف جسے اپنی زندگی کی اہمیت کا اندازہ نہیں، جسے یہ علم نہیں کہ زندگی کے محدود عرصہ وقت میں اس کی اپنے لیے کیا ذمہ داریاں اور کیا حقوق ہیں، جو یہ تک نہیں جانتے کہ وہ وقت جو بے کار کی ٹوہ اور تجسس کی نذر کرتے ہیں اس وقت میں اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ مشورے کا ہے۔ بالکل مفت مشورے، چاہے مشورہ مانگا جائے یا نہ مانگا جائے لیکن دینے والے قیامت کا حوصلہ رکھتے ہیں، دے کے رہتے ہیں اور اس یقین کا شکار ہوتے ہیں کہ اسے مانا بھی جائے گا۔ بچے کا نام کیا رکھا جائے، تعلیم کے لیے بہتر مضامین، شعبہ زندگی کا تعین، شادی، بچے غرض ہر موقع ہر مرحلہ زندگی میں مشوروں کی پٹاری حاضر ہے۔ درحقیقت زندگی ایک ایسا امتحان ہے جو ہر فرد کے لیے الگ قسم کا پرچہ مقرر کرتا ہے۔ ہر انسان کے اپنے حالات اور واقعات ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے قریب ترین لوگ بھی آگاہ نہیں ہوتے۔ ایسے میں ہر فرد وہی کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے لیے قدرے آسانی کا باعث ہو لیکن مفت مشورہ دینے والے یہ بات نہیں سمجھ سکتے۔ آپ کو کیا کھانا اور پہننا چاہیے سے لیکر آپ کے خیالات کیا ہونے چاہئیں تک ہر بات کے لیے مشورہ حاضر ہے۔ مشورہ دینے والا اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر مفت مشورے سے نوازتا ہے۔ اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے شکار کے حالات کا تجزیہ کرے اور ان کو مد نظر رکھتے ہوئے مشورہ دے۔ اس کے بعد اگر مشورہ مان لیا جائے اور نتائج بر عکس نکلیں تو ان کو بھگتنا کس کو پڑتا ہے؟ اسی کو جو مشورے کا شکار ہوا ہو، تجویز دینے والا اتنا کہہ کر کنی کترا جاتا ہے کہ جو مجھے صحیح لگا کہہ دیا تھا۔ باقی سمجھنا اور عمل کرنا آپ کا فیصلہ تھا۔ اس میں اس دباؤ اور اصرار کا ذکر کہیں نہیں ہوتا جو مشورہ دیتے ہوئے اختیار کیا گیا تھا۔ زندگی میں اچھا یا برا جو بھی ہواس کا سامنا انسان کو خود کرنا پڑتا ہے۔
رشتوں ناتوں کی اہمیت اپنی جگہ، ان کے دیے گئے ساتھ اور حوصلے کی قدر ضروری ہے۔ لیکن حتمی طور پہ زندگی کے ہر فیصلے کے نتائج کا سامنا انسان کو خود ہی کرنا پڑتا ہے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مشورے سنیے، لوگوں کی اپنے بارے میں رائے کو سن لینے میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن کیجیے وہی جو آپ کو صحیح لگے کیونکہ آپ کے اپنے سوا کوئی نہیں جانتا کی زندگی آپ سے کیا سلوک روا رکھے ہوئے ہے آپ سے کیا چاہتی ہے۔یہ آپ ہی بہتر سمجھتے ہیں اور اسے اپنے انداز سے ہی بہتر اور موثر طور پر ڈیل کرسکتے ہیں۔

