ہسپتال کی وپچار کتائیں۔۔۔ نیز غریب آدمی بیمار نہ ہوا کرے


پہلے ماما قادر کی کتھا سنیں اس کے بعد اپنی بھی عرض کرتے ہیں۔ شام سے سر میں درد تھا۔ رات کو بڑھتے بڑھتے زیادہ ہو گیا اور فجر تک شدید۔ مولوی گلزار کی گولیاں بھی نہیں تھیں۔ یہ مولوی گلزار ہمارے گاﺅں میں ایک مشہور زمانہ ڈاکٹر کم حکیم کم پیر صاحب ہیں۔ بازار سے انواع و اقسام کی درد والی گولیاں اور اینٹی بائیوٹکس لا کر پیس دیتے اور اس میں سپیستان، گئوزبان، اجوائن، الائچی اور سارے الا بلا ملا دیتے۔ ایک گولی شافی علاج۔ ہوا یہ کہ اسلام آباد آتے ہوئے ژوب کے ناکے پر مولوی گلزار کی گولیوں کو سونگھ سونگھ کر سنتری بھائیوں نے مشکوک قرار دے دیا اور مال مسروقہ سمجھ کر ضبط کر لیں۔ اپنا شہر تو تھا نہیں کہ ڈاکٹر مسکین علی بی ایس سی، ایم ڈی، ایم اے، ایل ایل بی، آر ایم پی (چوبیس گھنٹے) کے کلینک کی راہ لیتے۔ مسکین علی کو ان کے ابا وکیل بنوانا چاہتے تھے تاکہ تربوروں (شریکوں) کے ساتھ کچہری کچہری کھیل سکیں مگر بدبخت مسکین انقلابی تھا۔ افغانستان بھاگ گیا۔ مدت بعد وہاں سے ایم ڈی کی ڈگری لے کر آ گیا۔ ہائے مگر ہاتھ میں اللہ نے کیا شفا بخشی تھی۔ ایک ٹیکہ اور ایک سرخ یا نارنجی رنگ کا مشکیزہ لگاتے اور مریض فوراَ ٹھیک۔ وہ بھی صرف دو سو روپے میں۔

ادھر اسلام آباد میں نہ ڈاکٹر مسکین ہے اور مولوی گلزار۔ اس لئے بڑے ہسپتال جانا پڑا۔ ہسپتال پہنچا تو ایمر جنسی میں لٹایا گیا۔ ایک ڈاکٹر صاحب ڈیڑھ عدد نرسوں کے ساتھ تشریف لائے (مطلب ایک پوری تھی جبکہ دوسری آدھی برابر سمجھ لیں)۔ ڈاکٹر صاحب نے طویل تفصیل پوچھی۔ مرحوم والد صاحب کے بیماریوں اور ان کے دواﺅں کے نام تک پوچھے۔ آدھی نرس کو ہوا چیک کرنے والی مشین پر لگا دیا جو ہمارے بازو میں ہوا بھرنے لگیں جبکہ پوری نرس نے ہمارے بغل میں ایک شیشے کی پنسل تھما دی۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب سے گزارش کی کہ سر جی، ڈاکٹر مسکین علی ہمیں ایک سرخ انجکشن لگاتے ہیں تو ہم فوراَ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بڑے برہم ہوئے کہ یہ سرخ انجیکشن کیا بلا ہے۔ اس بیچ آدھی نرس نے ہوا والی مشین ہٹائی اور ڈاکٹر سے کہا کہ سر ،160/110 ۔ اک کھلبلی سی مچ گئی۔ ہمارے منہ میں فوراً ایک مچھلی کے تیل والی گولی رکھی گئی جو ہم نے باڈی بلڈر حضرات کو کھاتے دیکھا تھا۔ دل ہی دل میں سوچا کہ شاید ہوا چیک کرنے والی مشین آئل گیج بھی چیک کر سکتی ہے ۔ ممکن ہے تیل کم ہوا ہو ۔ معاملہ مگر بڑھتا گیا۔ ایک لحیم و شحیم صاحب آئے جس کے ہاتھ میں ایک عجیب و غریب مشین تھی جس میں تاریں ہی تاریں تھیں۔ ایسی مشین ہم نے میٹرکس فلم میں دیکھی تھی۔ ہمیں لگا کہ شاید اب ہماری گردن میں پمپ لگا کر تیل پورا کیا جائے گالیکن انہوں قمیض ہٹا کر پہلے سینے پر گوند ملی اور پھر اور پر ربڑ کے آدھ کٹے سکواش گیند چپکا دیئے۔

قصہ مختصر ڈاکٹر نے بتایا کہ ہمارا خون 160 کلومیٹر کی رفتار سے بہہ رہا ہے اور 110 کلو میٹر کی رفتار سے واپس آ رہا ہے جس کو بلڈ پریشر کہتے ہیں۔ ہم تھوڑے پریشان ہوئے کہ بیمار ہیں مگر دل ہی دل میں خوش بھی ہوئے۔ خوش اس لیے کہ بیماری بڑے لوگوں کی تھی اور فائدے کافی تھے۔ ہم نے اپنے چچا کو اس سے بے پناہ فائدے اٹھاتے دیکھا تھا۔ پورا گاﺅں ان سے خوف کھاتا تھا کہ ان کو بلڈ پریشر ہے اور کوئی پلٹ کر جواب بھی نہیں دیتا تھا۔ چچا مرحوم جانتے بوجھتے وہ بھی کہہ جاتے تھے جو عام حالات میں نہ کہہ پاتے اور بعد میں کہتے کہ اس بلڈ پریشر نے ساری دنیا کو ہمارا دشمن بنا رکھا ہے۔ خوشی مگر اس وقت خاک ہوئی جب دو گھنٹے بعد دوبارہ ہوا والی مشین سے تیل پانی چیک ہوا تو پتہ چلا کہ ہم تو ٹھیک ہو گئے ہیں۔ اب یوں تھا کہ ایک مچھلی کے تیل والی گولی، تیل ہوا چیک کرنے والی مشینیں اور دو انجکشن وہ بھی بغیر رنگ کے، کچھ روئی، دو سنی پلاسٹ اورڈاکٹر کے فیس کی پرچی جب ہمیں تھمائی گئی توہم کو مبلغ پانچ ہزار روپے پاکستانی رائج الوقت ادا کرنے پڑے۔ کاﺅنٹر والے بابو سے پوچھا کہ بھائی صاحب یہ پانچ سو روپے کس چیز کے لکھے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ رجسٹریشن کے ہیں۔ ہم بولے اردو میں کیا مطلب ہوا؟ بولے آپ کا ہسپتال میں اندارج ہوا ہے۔ ہم بولے تو اس کے پانچ سو روپے کیوں؟ بولے سر یہ تو ہسپتال کی  Formalityہے۔ ہم نے پھر پوچھا کہ اردو میں کیا مطلب ہوا؟ انہوں کچھ سوچا اور پھر بولے اردو میں معلوم نہیں ہے۔

اب ایک اور کتھا سن لیجیے۔ کافی عرصے سے بائیں پاﺅں کے انگوٹھے والا ناخن گوشت میں دھنس جاتا تھا۔ کچھ عرصے تک تو ناخن کسی نہ کسی طرح کاٹتا رہا لیکن اس کے بعد درد کی شدت اتنی زیادہ ہو گئی کہ خود کاٹنا مشکل ہو گیا۔ ایک مشر سے مشورہ کیا تو اس نے پیڈی کیور نامی ایک فارمولا بتایا۔ آسان فارسی میں مطلب یہ تھا کہ آپ کسی بڑے سے سیلون جا کر ایک صاحب سے دو ہزار روپے میں ناخن کٹوا لیں مگر درد اتنا ہی ہونا ہے جتنا آپ کو خود کاٹتے ہوئے ہوتا ہے۔ معاملہ جب بگڑ گیا توحضرت گوگل کی راہ لی کہ اس ناخن کا کیا علاج ہے۔ وہاں معلوم ہوا کہ اس ناخن والی بیماری کو ingrown Toenail کہتے ہیں۔ علاج ایک معمولی سی سرجری تھی جس میں انگوٹھے کو معمولی نشہ دے کر ناخن کو دونوں اطراف سے ہلکا ہلکا جڑ تک کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ناخن اطراف کی جانب نہیں بڑھتا۔ صحت کے معاملات میں ہم مشیر خاص (بقول وسی مشر) سے مشورہ کرنا ازحد ضروری سمجھتے ہیں۔ مشر کو فون کھڑکایا۔ مشر نے کوئی دو منٹ بعد فون کیا کہ اسلام آباد میں فلاں ہسپتال میں فلاں ڈاکٹر صاحب ہیں۔ ان سے رابطہ کر لیں اور فلاں ڈاکٹر صاحب کا ریفرنس دے دیں۔ ہسپتال بہت معروف ہے۔ ٹیلی فون پر سوموار ایک بجے ڈاکٹر صاحب کا اپوائنٹمنٹ المعروف نمبر دیا گیا۔

ایک بجے ہسپتال پہنچا۔ انہوں نے کہا فیس جمع کروا دیں۔ فیس پچیس سو روپے تھی۔ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی فیس تو دو ہزار روپے ہے مگر پانچ سو روپے ہسپتال کی وہی ہے Formality جو ماما قادر کو بھی ادا کرنی پڑی تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں بھیج دیا گیا جہاں ایک خاتون براجمان تھیں۔ خاتون کاغذوں کے ایک پلندے کے ساتھ سامنے آ کر بیٹھ گئیں اور انٹرویو شروع کر دیا۔ آپ کو کون کون سی بیماری آج تک ہوئی ہیں؟ آپ کے خاندان والوں کو کون کون سی بیماریاں ہوئی ہیں؟ آپ سیگریٹ پیتے ہیں؟ الغرض ایک لمبی فہرست تھی۔ عرض کیا خاتون محترم ڈاکٹر صاحب کو صرف ناخن دکھانا ہے۔ کچھ ناپسندیدہ انداز میں خاتون نے گھورا اور پھر گویا ہوئیں، I know, but you know the formalities۔ ماما قادر والی شرارت سوجھی۔ عرض کیا یہ فارمیلیٹیز کیا ہوتی ہیں؟ اس بار تھوڑے درشت سے لہجے میں گویا ہوئیں۔ ہاسپٹل کی فارمیلیٹیز ہیں سر۔ عرض کی میں جانتا ہوں محترمہ۔ میں صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ فارمیلیٹیز کو  اردو میں کیا کہتے ہیں؟ خاتون تھوڑی جز بز ہوئیں اور بولیں اردو میں مجھے نہیں معلوم۔

خیر اس کے بعد خاتون نے ماما قادر کی طرح ہمارا تیل پانی بھی چیک کیا اور کہا کہ آپ ویٹ کیجیے ابھی ڈاکٹر صاحب آپ کو بلاتے ہیں۔ اس کے بعد خاتون واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئیں۔ موبائل نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا اور گوگل کھول کر اس میں Formalities in urdu ٹائپ کیا۔ اسی لمحے ان کو خیال آیا کہ میں بھی ایک اچھے پاکستانی کی طرح ان کے موبائل سکرین کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا۔ اسی لمحے میں ہم دونوں کے چہروں پر ایک ایک شرمندہ سی کھسیانی مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔ میں موبائل دیکھنے پر شرمندہ اور وہ Formality کی اردو دیکھنے پر شرمندہ۔ اس بیچ ڈاکٹر صاحب نے بلایا۔ ناخن پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی۔ فرمایا۔ ایک ہلکی سی سرجری درکار ہے۔ ناخن کو دونوں سائیڈوں سے کاٹنا پڑے گا۔ عرض کیا کب کرنی ہے سرجری؟ فرمایا ابھی کرنا چاہتے تو ابھی کر لیں۔ ہم تیار بیٹھے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ٹھیک ہے آپ دوسرے کمرے میں بیٹھی اسسٹنٹ سے مل کر Formalities پوری کر لیں ابھی کر دیتے ہیں سرجری۔ خاتون نے کاغذ پر کچھ حساب کتاب کیا اور کہا، آپ کاﺅنٹر پر اڑتیس ہزار روپے جمع کرا دیں۔

باہر آکر مشر کو فون کیا کہ حضرت! آپ کے ڈاکٹر کا ریفرنس دینے کے بعد بھی ڈاکٹر صاحب ناخن کاٹنے کے اڑتیس ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔ کیا مشورہ ہے؟ فرمانے لگے پاگل تونہیں ہو گئے؟ واپس نکلو۔ کہیں اور سے کٹوا لیں گے۔ خاتون کے دفتر واپس گیا۔ ان سے عرض کیا کہ محترم خاتون! میں ذرا ” وپچار کتائیں“ پوری کر آﺅں تو پھر علاج کرواتا ہوں۔ ٹکر ٹکر دیکھنے لگیں۔ حیرت سے گویا ہوئیں، وپچار کتائیں!

عرض کیا، جی محترمہ۔ گوگل پر Formalities کا اردو ترجمہ ’ وپچارکتائیں“ ہے۔

کیا ہی بہتر ہو جو غریب آدمی کبھی بیمار نہ ہوا کرے۔ بدقسمتی سے اگر بیمار ہو تو ڈاکٹر مسکین سے ایک عدد رنگین انجکشن جو دراصل سٹیرائڈز کے انجیکشن ہوتے ہیں لگوا کر آدھی طبعی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، یا پھر اپنے پورے مہینے کی کمائی پرائیویٹ ہسپتالوں کی وپچار کتاﺅں کی نذر کر دے۔ وہ پیشہ جو انسانی خدمت کے ماتھے پر جھومر تھا اب کمائی ایک بدترین ذریعہ بن چکا ہے۔ دو ہفتے پہلے کی بات ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب کے بجلی کا بل بیس ہزار روپے آیا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کیسکو والے میٹر ریڈر بہت کرپٹ ہیں۔ اگر ان کو ماہانہ آپ دو ہزار روپے الگ سے دے دیں تو آپ کا بل کبھی آٹھ ہزار روپے سے زیادہ نہیں آئے گا۔ آئیں مل کر ملک کے حکمرانوں کے بدعنوانی کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ آئیں مل کر دہائی دیتے ہیں کہ اس ملک میں اگر اسلام پوری طرح نافذ ہوتا تو ڈاکٹر سے لے کر کلرک تک سب ایماندار ہوتے۔

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah