چوہوں کی خرید اور گدھوں کی فروخت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیبر پشتونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے چین کو گدھوں کی برآمد کا معاہدہ کیا کیا، کہ سوشل میڈیا اس کے پیچھے ہی پڑ گیا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تائید تو ہونی چاہیے۔ دیکھیں انہوں نے خیبر پشتونخوا میں تبدیلی کا نعرہ لگا کر الیکشن میں حصہ لیا اور وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جہاں تک میری سمجھ ہے انہوں نے دو کام ایسے کیے جو پہلے کبھی کسی نے نہیں کیے یا کسی کا اس جانب دھیان ہی نہیں گیا۔

پہلا کام، جو ماضی میں کسی حکومت نے نہیں کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے عوام سے چوہے خریدنے کا فیصلہ کیا اور ایسا کرکے کے دکھایا۔ یہ اور بات ہے کہ لوگوں نے اسے کسی اور زاویے سے دیکھا اور اچھالا۔ دوسرا احسن اقدام چین کے ساتھ حالیہ معاہدہ ہے جس کے تحت خیبر پشتونخوا حکومت چین کو گدھے برآمد کرکے کثیر زر مبادلہ کمائے گی۔ مخالفین جو بھی کہیں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور مرکزی قیادت کو داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ کرکے دکھایا۔

یہ گدھے پہلے بھی خیبر پشتونخوا میں پائے جاتے تھے، چوہے بھی آزادانہ حرکت کرتے ہوئے نظر آتے تھے، لیکن کسی کی کیا مجال کہ وہ گدھوں کو چین برآمد کرکے ان کی ناراضگی کا خطرہ مول لے یا چوہوں کی سر کی قیمت مقرر کرکے سیاسی مخالفین کو تنقید کا موقع دیں۔ ایسا کام انقلابی پروگرام رکھنے والے سیاست دان ہی کر سکتے ہیں۔ بلاوجہ تنقید کسی سیاسی کارکن کو زیب نہیں دیتی۔ اب دیکھیں ناں، بجلی کی خالص منافع کی مد میں جو رقم وفاق پر واجب الادا ہے اسے وصول کرنے کی کیا ضرروت ہے۔ صوبے کی پانی پر اختیار مانگنا قومی یکجہتی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے، تمباکو کا ٹیکس وفاق سے لینا اسے کمزور کرنے کی سازش ہو گی۔ کرکوری کی گیس صوبے کے عوام کو دینے کا مطالبہ کرنا ملکی معیشت کو داؤ پر لگانے سے کم نہیں۔ این ایف سی ایوارڈ میں تیاری کرکے جانے کی کیا ضرورت ہے، وہ تو ویسے بھی ملنا ہی نہیں ہے۔ ایسے حالات میں یہی دو انقلابی کام رہ گئے تھے جو انہوں نے کر کے دکھا دیے۔ ویسے معیشت ہی سب کچھ ہوتی ہے پھر چاہے وہ گدھوں کو برآمد کرنے سے ہی کیوں نہ مضبوط بنے۔

پرویز خٹک صاحب سے ایک سوال بنتا ہے کہ جو کام چین والے ہمارے گدھوں سے لیں گے وہ کام ان کی حکومت اپنے صوبے میں اپنے لاڈلے گدھوں سے کیوں نہیں لیتی۔ لگتا ہے پرویز خٹک صاحب کے پاس چوہوں کی کمی تھی اس لیے علانیہ اس کی خرید کی اور گدھوں کی ان کے پاس بڑی کھیپ موجودہے اس لیے انہیں فروخت کرنے پر اتر آئے ہیں۔ ان کے اس اقدام سے گدھوں کی بین الصوبائی تجارت بھی متاثر ہو گی۔ لاہور میں گدھوں کی بڑی ڈیمانڈ ہے لیکن پرویز خٹک صاحب اس معاملے میں بڑے ضدی نکلے وہ گدھوں کی لاہور سمگلنگ رکوا کر ان لوگوں کو تڑپانا چاہتے جو گدھوں کاگوشت کھا کر تحریک انصاف پر تنقید کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ اسی وقت ممکن تھا کہ گدھوں کی کسی اور ملک کے ساتھ تجارت کی جائے۔

مورخ لکھے گا کہ پاکستان کے ایک صوبے میں ایسے حکمران بھی گذرے تھے جنہوں نے چوہے خریدے اور گدھے فروخت کیے، لہذا ہم ایسے تاریخی کام پر یہ نعرہ لگانے پر مجبور ہیں کہ، پرویز خٹک قدم بڑھاؤ: گدھے بکنے کو تیار ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).