دھرنے سے ملنے والی لاش کس کی تھی؟
اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں تیس برس تک ملازمت کرنے والے امان اللہ خان نے Tightrope Walk کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اپنے ذاتی مشاہدات بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر 2001 ء کے ان ہنگامہ پرور دنوں کو یاد کیا ہے جب نیویارک اور واشنگٹن میں دہشت گرد حملے ہو چکے تھے۔ امریکہ نے ردعمل میں افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔ پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات بھڑک اٹھے تھے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ ان دنوں میں جماعت اسلامی کے امیر (تب) قاضی حسین احمد کی امریکی سفیر نینسی پاول سے ملاقات ہوئی۔ قاضی صاحب نے امریکی سفیر کو یقین دلایا کہ وہ امریکہ کے دوست ہیں۔ ان کے امریکہ مخالف بیانات کا مقصد محض عوام کی تالیف قلب تھا۔ یہ پڑھ کر بے اختیار ہندی کہانی کار کملیشور کا افسانہ "لاش” یاد آیا۔۔۔۔ سیاست کا کھیل پاکستان ہی میں نہیں، دنیا میں ہر جگہ ایک ہی طرح سے کھیلا جاتا ہے۔
سارا شہرسجا ہوا تھا. خاص خاص سڑکوں پر جگہ جگہ دروازے بنائے گئے تھے. بجلی کے کھمبوں پر پرچم، دیواروں پر پوسٹر. والنٹیر کئی دنوں سے شہر میں پرچے تقسیم کر رہے تھے. محاذ کی سرگرمیاں تیزی پكڑتي جا رہی تھیں. خیال تو یہاں تک تھا کہ شاید ریلیں ، بسیں اور ہوائی ٹریفک بھی ٹھپ ہو جائے گا. شہر بھر میں بھاری ہڑتال ہوگی اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ جلوس میں حصہ لیں گے. شہر سے باہر ایک میدان میں مکمل شہر ہی بس گیا تھا. دور دور سے لوگوں کی ٹولیاں آ رہی تھیں. کچھ ٹولیاں ٹھیکے کی بسوں میں آئی تھیں. بسوں پر بھی پرچم تھے. کپڑے کی پٹیوں پر تحصیل کا نام تھا. کچھ ٹکڑیوں میں عورتیں بھی تھیں، بچے بھی. عورتیں خالی وقت میں ابھیان گیت گاتی رہتیں. مرکزی کمیٹی نے کچھ نئے نعرے بنائے تھے. ضلع کی سطح کے کچھ لوگ ان نعروں کا ریاض کر رہے تھے. لنگر میں بھاگ دوڑ تھی. شہر کے سب راستے، ہوٹل، دھرم شالائیں، سراے اور معمولی رشتہ داروں کے گھر مظاہرین سے بھرے ہوئے تھے. دو مہینے پہلے درزیوں کو پرچم اور ٹوپی سینے کا ٹھیکہ دے دیا گیا تھا. پرچے اور پوسٹروں کا کام سات چھاپےخانوں کے پاس تھا جن پرچوں پر مانگیں اور نعرے چھپے تھے، وہ سب کے سب مظاہرین کو تقسیم کر دیے گئے تھے.
پولیس کی سرگرمی بھی بڑھتی جا رہی تھی. ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لئے اعلان کرنا شروع کردیا تھا – کہ جلوس والے دن شہری شہر کی کن کن سڑکوں کو استعمال نہ کریں … کہ شہری اپنی گاڑیاں وغیرہ محفوظ مقامات پر رکھیں. جلوس کی طاقت کا انداز لگا کر پولیس کمشنر نے پي ایے سي کو بلا لیا تھا. جن جن سڑکوں سے جلوس کو گزرنا تھا، ان کی عمارتوں پر جگہ جگہ مسلح پولیس تعینات کر دی تھی. سڑکوں کے دونوں جانب صرف وہ پولیس تھی، جس کے پاس ڈنڈے تھے … تاکہ مظاہرین کو تاؤ نہ آئے. یہ سب انتظام پولیس کمشنر نے خود ہی کر لیا تھا.
اپنے اس خاص انتظام کی خبر دینے کے لئے جب پولیس کمشنر وزیر اعلی کے پاس پہنچا تو اس کا سارا طنطنہ خود ہی ختم ہو گیا. وزیر اعلی کے چہرے پر کوئی فکر یا پریشانی نہیں تھی. وہ ہمیشہ کی طرح خوش و خرم تھے. وزیر داخلہ آہستہ آہستہ مسکرا رہے تھے. وزیر اعلی نے کچھ کہا تو پولیس کمشنر نے تفصیل دینی شروع كي- دو ہزار لوکل فورس ہیں، پانچ سو پي ایے سي، چار سو ڈسٹرکٹ سے آیا ہے، تین سو ریلوے کا ہے، اسّی جوان جیل سے اٹھا لئے ہیں، دو سو ہوم گارڈ! ان میں سے آٹھ سو آرمڈ ہیں. ہر پولیس چوکی پر آنسو گیس کا انتظام ہے. سولہ سو لاٹھیاں گزشتہ ہفتے آ گئی تھیں. ساڑھے چار سو کا فورس بنا وردی کے ہے.
پولیس کمشنر سب بتاتا جا رہا تھا، پر وزیر اعلی خاص تجسس سے نہیں سن رہے تھے. وزیر داخلہ بھی بہت دلچسپی نہیں لے رہے تھے. کمشنر کچھ حیران ہوا. اس نے ایک لمحے رک کر ان دونوں کی طرف دیکھا تو وزیر اعلی نے اپنا چشمہ صاف کرتے ہوئے کہا، ‘خوامخواہ آپ نے اتنی طوالت کی. ‘
ان مخالف جماعتوں کا کچھ بھروسہ نہیں … اگر ہم انتظام نہ کریں تو …’ کمشنر کہہ رہا تھا.
‘مورچہ پرسکون رہے گا.’ ‘ وزیر داخلہ نے کہا.
‘کیا پتہ. کمشنر بولا، ‘مجھے تو …’
وزیر اعلی نے بات کاٹ دي- ‘بہت اودھم نہیں مچےگا. بس ذرا غنڈوں پر نظر ركھئےگا …
‘ ‘غنڈے تو تین چوتھائی سے زیادہ پکڑ لئے گئے ہیں … یہ تو تین دن پہلے ہی کر لیا گیا تھا. کچھ آج دوپہر بند کر دیے جائیں گے. ”
‘ٹھیک ہے.’ ‘
‘تو میں اجازت لوں؟’ کمشنر نے پوچھا.
‘ٹھیک ہے’، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ، ‘عقل سے کام لیجیے گا. میرے خیال سے آپ جلوس کے كرتا دھرتاؤں سے ملتے ہوئے نکل جائیے. تینوں یہیں ایم یل ایے ہاسٹل میں ٹکے ہوئے ہیں …
‘جی مجھے معلوم ہے، پر شاید اب تک وہ اپنے پنڈال میں چلے گئے ہوں گے ….’ کمشنر نے ذرا ہچکچاتے ہوئے کہا، ‘اور وہاں جاکر ملنا … میرے خیال سے ٹھیک نہیں ہو گا …’
"وہ یہیں ہوں گے … ارے بھئی، آپ کو معلوم نہیں، ان میں سے کئی تو میرے ساتھ جیل میں رہے ہیں. بڑے آدرش وادی آدمی ہیں … تیز اور بےلاگ. ایسے مخالف کو تو میں سر-آنکھوں پر بٹھاتا ہوں. ان کی بس ایک ہی کمزوری ہے- نیند! آپ ان کے سر پر نگاڑا بجائیے، پر وہ نہیں اٹھ سکتے. جیل میں بھی یہی عادت تھی. ستیہ گرہ کی تحریک کے دنوں میں بھی! انہیں نیند پوری چاہئے … اب وہیں ہوں گے … ‘ وزیر اعلی نے تعریف کرتے ہوئے مزید کہا،’ اب محاذ کا معاملہ ہے، اس لئے شاید وہ ملنے نہ آئیں، نہیں تو ہمیشہ آتے ہیں … انتہائی عمدہ آدمی ہے. بھئی، میں تو ان کی بڑی عزت کرتا ہوں. ”
‘اس پارٹی بازی اور سیاست کو کیا کہا جائے … کانتی لال جی کو تو حکومت میں ہونا چاہئے تھا …’ وزیر داخلہ نے بڑے دکھ سے کہا.
‘بالکل … وزیر اعلی بولے،’ دیکھتے جائیے، مل جائے تو ٹھیک ہے … میرا سلام کہئے گا. نہ ہوں تو پنڈال جانے کی ضرورت نہیں ہے … ‘
پولیس کمشنر نیا تھا. بہت ہچکچاتے ہوئے بولا، ‘مورچےوالے شاید آپ کا پتلا بھی جلائیں گے، اس کے بارے میں …’
"ارے ٹھیک ہے، جلانے دیجئے … اس سے آپ کے قانون کو کیا نقصان ہوتا ہے. جو ان کے دل میں آئے کرنے دیجئے، آپ اپنی نگرانی رکھیں، صرف، آپ کی یہی ذمہ داری ہے. وزیر اعلیٰ نے کہا اور کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے.
چار بجے چوک میدان سے جلوس چل پڑا. مورچہ زبردست تھا. سب سے آگے پرچم اور بگل تھے. ان کے پیچھے ابھیان گیت گانے والوں کی ٹولی تھی. اس کے پیچھے مطالبات کی تختیاں پکڑے عورتوں کی ٹولی تھی. اس کے پیچھے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین تھے. جگہ جگہ سے آئے ہوئے لوگ سب ٹوپیاں لگائے تھے. ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے پرچم یا مطالبات کی تختي پکڑے تھے. مورچہ بہت شان سے چل رہا تھا. قطاروں کے دونوں طرف کندھوں سے لاؤڈ اسپیکرز لٹکائے نعرے دینے والے رضاکار تھے. بیچوں بیچ جھنڈوں سے آراستہ جیپ پر کانتی لال ، ان کے ساتھی رہنما اور چند اہم لوگ تھے. مورچہ بڑھتا جا رہا تھا. ہر کوئی حیران تھا. پتہ نہیں، اتنے لوگ اچانک کہاں سے نکل پڑے تھے. تماش بین شہریوں کی قطاریں جھنڈے والي پولیس کے پیچھے سے حیرت سے جھانک رہی تھیں. سچ مچ یقین نہیں ہوتا تھا کہ اتنی تعداد میں لوگ ابھی زندہ ہوں گے کہ وہ اب بھی ان طریقوں پر انحصار کرتے ہوں گے. شاندار اور امنڈتا ہوا پرجوش جلوس اپنی پوری طاقت سے بڑھتا جا رہا تھا. بڑے اخباروں کے فوٹو گرافر عمارتوں پر چڑھ چڑھ کر ہر موڑ پر جلوس کی تصاویر کھینچ رہے تھے. چند غیر ملکی فوٹوگرافرز اس تاریخی محاذ کو دیکھ کر حیران تھے. وہ جمہوریت کی طاقت کے بارے میں ایک آدھ فقرا بول کر اپنے کام میں مشغول ہو جاتے تھے. وہ زیادہ تر قبائلیوں والی ٹولی کی تصاویر اتار رہے تھے. سرکاری فلمز ڈویژن کے کیمرہ مین اپنا کام کر رہے تھے. لمبی سڑک پر جاتے ہوئے جلوس کا منظر پوشیدہ تھا. لاکھوں پیر ہی پیر… لاکھوں سر ہی سر. ہزاروں پرچم اور جوش سے بھرے نعرے … بپھرتا ہوا جم غفیر اور انسانی سروں کا سمندر. کہیں اس کا پتا نہیں چل رہا تھا کہ یہ جلوس شروع کہاں سے ہے اور کہاں پر ختم. میلوں تک پھیلا ہوا یہ جلوس…….
تبھی اچانک گڑبڑ شروع ہو گئی … جلوس کے اگلے حصے میں بھگدڑ مچ گئی. اور ساتھ ہی لوٹ مار شروع ہو گئی . چاروں طرف بدحواسی کا عالم . عمارتوں کی کھڑکیوں اور دکانوں کے دروازے پر پتھر برسانے کی آوازیں آنے لگیں . جلوس دوڑتی-بھاگتی چیختی-چلاتی بدحواس اور اندھی بھیڑ میں بدل گیا. ارد گرد شدید بدامنی پھیل گئی. پھر دھوئیں کے بادل اٹھے … کچھ آگ کی لپٹیں دکھائی دیں. توڑ پھوڑ کی گونجتی ہوئی آوازیں اور گھبراہٹ بھری چیخیں آئیں اور گولیاں چلنے کی چٹختی ہوئی تڑتڑاهٹ سے ماحول میں سنسنی پھیل گیی. دھوئیں کے سمندر میں جیسے لاکھوں لوگ ڈوب رہے ہوں اور ابھر رہے ہوں . گرتے-پڑتے اور بھاگتے ہوئے لوگ. کچلے اور رگیدے ہوئے لوگ … ہنکارے ، چیخیں، دھماکے، شور اور تڑتڑاهٹ. دیکھتے دیکھتے سب کچھ ہو گیا. سڑکوں پر صرف جوتے-چپلیں، جھنڈے اور مطالبات کی تختیاں رہ گئیں. پھٹے کپڑے، ٹوپیاں، ٹوٹے ڈنڈے اور پھٹی ہوئی جھنڈیاں . کچھ پتہ نہیں چلا کہ یہ سب کیسے ہوا. کیوں ہوا؟
پولیس کی گاڑیوں میں فسادی اور زخمی بھرے گئے. زخمیوں کو ہسپتال میں پہنچا دیا گیا. فسادیوں کو دس میل لے جا کر چھوڑ دیا گیا. وہ غنڈے نہیں تھے، غنڈے پہلے سے بند تھے. چوٹیں بہتوں کو آئی تھیں. وہ آپس میں کچل گئے تھے. پولیس نے گولی چلائی ضرور تھی، پر ہوائی فائر کئے تھے. اس گولی سے ایک بھی آدمی زخمی نہیں ہوا تھا. صرف ہاتھ بازو ٹوٹے تھے. سارا شہر حیران رہ گیا تھا. غنیمت تھی کہ اتنے بڑے حادثے میں صرف ایک لاش گری تھی. وہ لاش بھی بالکل سالم تھی. اس کو نہ گولی لگی تھی، نہ وہ کہیں سے زخمی تھی. پولیس نے لاش کے ارد گرد ڈیرہ ڈال لیا تھا . پولیس کا کہنا تھا کہ لاش کانتی لال کی ہے. کانتی لال نے یہ سنا تو حیران رہ گئے.
بھگدڑ اور اس شدید بھیانک حادثے سے خوفزدہ ہوکر کچھ دیر بعد وہ لاش کو دیکھنے پہنچے. لاش کو دیکھتے ہی کانتی لال نے جوش سے بھرے لہجے میں کہا – "یہ وزیر اعلیٰ کی لاش ہے. ‘
جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ بھی پہنچ رہے تھے. انہوں نے یہ خبر سنی تو سہمے ہوئے پہنچے. غور سے لاش کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولے ‘یہ میری نہیں ہے.’ ‘
)ہندی سے ترجمہ: علی نثار(
ہندی کہانی کار کملیشور 1932 میں پیدا ہوئے۔ 2007 میں انتقال کیا۔ افسانہ لکھا، ناول لکھے، فلم کی کہانی لکھی۔ ہندی زبان میں نئی کہانی تحریک کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔


