ملالہ یوسف زئی اور پاکستانی میڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بدھ، اپریل 2017ء کی 12 تاریخ کو سوات سے تعلق رکھنے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو کینیڈین پارلیمنٹ سے خطاب کرنا تھا۔ اس سے پہلے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو نے اسے اپنے ملک کی اعزازی شہریت سے نوازا۔  ملالہ یوسفزئی نے ایہ اعزاز اپنے والدین کی موجودگی میں بخوشی قبول کیا۔ اس کے بعد ملالہ یوسفزئی کو کینیڈین پارلیمنٹ (ہاؤس آف کامنز) سے خطاب کرنا تھا لیکن اس سے پہلے کینیڈین وزیراعظم نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں جسٹن ٹروڈیو نے ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے لئے کوششوں کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

اس کے بعد ملالہ کی باری آئی۔ سٹیج پر ایک ڈائس رکھا گیا تھا جس پر پہلے وزیراعظم نے خطاب کیا اور بعد میں ملالہ کو بھی خطاب کرنا تھا۔ اس تقریب میں سٹیج سیکرٹری کی بجائے جسٹن ٹروڈیو نے خود ملالہ یوسفزئی کو خطاب کی دعوت دی جس پر تمام کے تمام حاضرین اٹھ کھڑے ہوئے اور تالیوں کی گونج میں ملالہ کا والہانہ استقبال کیا۔

ملالہ جب سٹیج پر پہنچی تو تقریباً ایک منٹ تک صرف تالیان ہی تالیاں بج رہی تھی اور وہ بار بار اپنے دوپٹے سے سر ڈھانپ کر لبوں پر “تھینک یو” ہی کہہ رہی تھی۔ سب لوگ بیٹھ گئے اور ملالہ یوسفزئی نے اپنا خطاب شروع کیا۔

اس کا پہلا لفظ تھا”بسم اللہ الرحمان الرحیم”۔ اس کے بعد انگریزی میں بولی “In the name of God the most Merciful the Most Beneficent” ۔ پھر بولی ” گڈافٹرنون، بونجو، السلام علیکم، پخیرراغلئ”۔ اسکے بعد وہ جو بولی وہ حرف بہ حرف یہاں پر تحریر کرنا مقصد نہیں بلکہ موضوع کے اعتبار سے اس کی تقریر کا یہی حصہ کافی ہے۔

انیس سالہ ملالہ یوسفزئی کی پوری تقریر میں نے خود ایک کینیڈین ٹی وی کی لائیوسٹریمنگ پر دیکھی اور سنی جس نے ایک پشتون اور پاکستانی ہونے کے ناطے میرا سر فخر سے بلند کیا۔ ملالہ نے اپنی اس تقریر میں کینیڈین عوام، پارلیمنٹ اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اعزازی شہریت بخشی لیکن اس نے کھلے اور بڑے واضح الفاظ میں کہا “میں بڑے ادب اور احترام کے ساتھ آپ کی شہریت کو قبول کرتی ہوں لیکن میں ایک پشتون اور پاکستانی ہوں”۔ ان الفاظ سمیت ملالہ یوسفزئی کے کئی کہے ہوئے لفظوں پر پورا ایوان کھڑا ہو جاتا، تالیاں بجاتے اور ملالہ کو اپنی تقریر روکنی پڑتی۔

بدقسمتی ہماری یہی ہے کہ جب ٹوئٹر پر کینیڈا میں ٹرینڈ دیکھے تو ملالہ یوسفزئی پہلے نمبر پر موجود تھی لیکن پاکستانی عوام نے شاید ابھی تک اپنی اس ہیرو کو دل سے تسلیم نہیں کیا بلکہ اب بھی بہت سے نام نہاد لوگ اس کے کردارکشی میں مصروف ہے کہ آخر ملالہ نے کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں کہ اس کو اتنی شہرت، عزت اور اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کے لئے صرف ایک سوال، ملالہ نے کچھ نہیں کیا لیکن کیا پاکستان کے لئے یہ اعزاز کم ہے کہ انہی کی شہریت رکھنے والی، انگلینڈ میں رہنے والی نوبل انعام یافتہ لڑکی ابھی تک ہر جگہ، ہر وقت اور ہر تقریب میں یہی کہتی چلی آرہی ہے کہ اسے فخر ہے اپنے پشتون ہونے پر، اسے فخر ہے اپنے پاکستانی ہونے پر۔ کیا پاکستان کے لئے یہ اعزاز کم ہے کہ پوری دنیا میں وہ اپنے ملک کا نام روشن کررہی ہے؟

ایک سوال اور بھی ہے کہ یہاں پر ہزاروں لاکھوں ملالہ موجود ہیں لیکن انہیں تو کوئی کچھ نہیں کہتا، ان کے لئے تو کوئی آواز نہیں اٹھا رہا۔ ان صاحبان گلشن کے لئے صرف یہی الفاظ لکھے جا سکتے ہیں کہ مثبت سوچ، مثبت تنقید اور مثبت کاموں سے ہی ایک قوم اور ایک ملک آگے جا سکتا ہے۔ اگر کوئی مثبت کام کررہا ہے، ملک کا نام روشن کررہا ہے تو انہیں اگر سراہ نہیں سکتے تو کم ازکم ان کی کردارکشی سے پرہیز کریں۔

اس قصے کا دوسرا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستانی میڈیا میں ملالہ یوسفزئی کی تقریر چند ٹی وی چینلز پر صرف “ٹکرز” تک ہی محدود رہی۔ شاید ان کے لئے پاکستان کے بارے میں اچھی خبر اہمیت نہیں رکھتی۔ شاید ریٹنگ سرکار کے لئے پاکستان کا روشن چہرہ، پاکستان کا روشن نام ہضم کرنا مشکل ہے۔

یہ اعزاز صرف ملالہ یوسفزئی، ضیاالدین یوسفزئی، تورپیکئی، خوشحال اور اتل کا نہیں (خوشحال اور اتل ملالہ کے بھائی ہیں)۔ بلکہ یہ اعزاز ہر اس شخص کا ہے جو پاکستان سمیت پوری دنیا میں امن، خوشحالی اور خصوصاً بچیوں کی تعلیم کی اہمیت جانتا اور سمجھ سکتا ہو۔

کچھ ہی دن پہلے ملالہ یوسفزئی کو اقوام متحدہ کی طرف سے “امن کے پیامبر” کا اعزاز بھی ملا لیکن اس پر بھی شاید کچھ لوگوں کے دلوں میں موجود فتور ختم نہیں ہوسکا اور ٹوئٹر پر تو کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے جنہوں نے پوچھا”ملالہ نے آخر کیا کیا ہے جو اتنا سراہا جا رہا ہے”؟ کوئی ان سے کہے کہ سوات پر جو حالات گزرے ان کا ادراک کراچی یا لاہور میں بیٹھا ہوا شخص کبھی نہیں کرسکتا  بلکہ میں تو کہتا ہوں پشاور اور کوئٹہ والے بھی نہیں کرسکتے۔ وہ درد اور خونی راتیں صرف سوات والوں کو ہی یاد ہوگی جب سربازار لوگوں کو قتل کیا جا رہا تھا، سکولوں کو بموں سے اڑایا جارہا تھا، بچیوں کو سکول جانے سے منع کیا جا رہا تھا، ایسے میں اگر گل مکئی نے کچھ لکھا اور پھر اس کو اس کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ موت کے منہ سے واپس آنے والی ملالہ کو یہ اعزازات راتوں رات اور پھولوں پر بیٹھ کر نہیں ملے بلکہ اس کے لئے ملالہ اور اس کے خاندان نے جو مصیبیتیں برداشت کیں اس کا اندازہ نہ تو میں لگا سکتا ہوں نہ کوئی اور۔ اس ماں سے پوچھیے جب اس کی چھوٹی بچی کو ظالمان نے بھرے بازار میں گولیوں کا نشانہ بنایا تو اس کی ممتا پر کیا گزری ہو گی؟ سوالات کے جوابات ہر کسی کے پاس ہوتے ہیں لیکن اب اس بیانیے تو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی اچھا کام کریں تو اگر سراہ نہیں سکتے تو برائے مہربانی چپ ہی رہا کرے اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔

آخر میں پاکستانی میڈیا سے گزارش ہے کہ خدارا پاکستان میں سب کچھ خراب نہیں، یہاں پر بہت کچھ اچھا بھی ہورہا ہے۔ بین الاقوامی طور پر اگر کوئی اس ملک کا نام روشن کررہا ہے تو ان کو بھی کبھی اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحات عطا کیجئیے گا تاکہ لوگوں کے ذہنوں پر کچھ اچھے اثرات بھی پڑیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •