جے یوآئی کا صد سالہ اجتماع: تلخ حقائق، کڑوے سوالات (2)

حرمین الشریفین کی حفاظت کا مسئلہ واقعی ہر مسلمان کے لیے انتہائی حدتک حساس اور تمام تر اولیت اور اہمیت کا حامل ہے اس میں کسی دورائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن یہاں کچھ سوالات ایسے ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ حرمین الشریفین چونکہ سعودی عرب کی جغرافیائی حدود میں واقع ہیں اس لیے سب سے پہلے یہ تجزیہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ سعودی ریاست، سعودی حکومت اور حرمین الشریفین تین مختلف چیزیں ہیں۔ سعودی ریاست جیسا کہ اس کے نام ’ المملکتہ العربیہ السعودیہ ‘ سے ظاہر ہے ’ خلافت عثمانیہ‘ کے نام سے قائم مسلمانوں کی وحدت سے عرب نیشنلزم کی بنیاد پر الگ ہوئی تھی ۔یہ ریاست آل سعود خاندان کے مستقل حق اقتدار کو تسلیم کرنے کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔ حرمین الشریفین ان کی حفاظت میں قبضے ہی کی صورت میں آیا تھا ۔سعودی ریاست کے وجود میں آنے کے کچھ سیاسی پس منظر اور پھر آل سعود کی طرز حکمرانی کی بھی کچھ تاریخ ہے۔ سیاسی اعتبار سے اس ریاست کی کیا حیثیت ہے اس حوالے سے بر طانیہ کے ساتھ اس ریاست ک۔ معاہدے سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔
سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ
1915ء میں کویت میں شاہ عبد العزیز بن سعود اور برطانوی نمائندہ لیفٹیننٹ کرنل سر پرسی کاکس کے درمیان تحریری طور پر ایک معاہدہ طے پایا۔
اس معاہدے کا متن ملاحظہ فرمائیے:
’چونکہ حکومت عالیہ برطانیہ اور نجد و احسا و قطیف و جبیل اور اس کے ملحق مقامات کے حاکم عبد العزیز بن عبد الرحمان بن فیصل السعود کی خود اور اپنے ورثا اور قبائل کی طرف سے ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ طرفین (برطانیہ اور ابن سعود) میں دوستانہ راہ و رسم کی تجدید ہو جائے اور فریقین کے اغراض و مقاصد کے مضبوط کرنے کے لیے عمدہ تصفیہ ہو جائے، اس لیے حکومت برطانیہ نے سرپرسی کاکس بالقابہ نمائندہ برطانیہ متعینہ خلیج فارس کو سلطان ابن سعود سے مذکورہ بالا مقصد کا ایک معاہدہ طے کرنے کے لیے اپنا وکیل مقرر کیا۔ چنانچہ سر مذکور اور ابن سعود میں حسب ذیل امور پر معاہدہ طے ہوا کہ:
دفعہ نمبر 1
حکومت برطانیہ اعتراف کرتی ہے اور اس امر کے تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں ہے کہ علاقہ جات نجد، احسائ، قطیف، جبیل اور خلیج فارس کے ملحقہ مقامات جن کی حد بندی بعد میں ہوگی، یہ سلطان ابن سعود کے علاقہ جات ہیں۔ اور حکومت برطانیہ اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ ان مقامات کے مستقل حاکم سلطان مذکور اور ان کے بیٹے اور ان کے جانشین ہیں۔ ان کو ان ممالک اور قبائل پر خود مختار حکومت حاصل ہے اور اس کے بعد اس کے لڑکے بالے ان کے صحیح وارث ہوں گے۔ لیکن ان ورثا میں سے ایک کو سلطنت کے لیے انتخاب و تقرری کی شرط یہ ہو گی کہ وہ شخص سلطنت برطانیہ کا مخالف نہ ہو اور مشروط مندرجہ معاہدہ ہذا کی رو سے شخص مذکور برطانیہ کے خلاف نہ ہو۔
دفعہ نمبر 2
اگر کوئی اجنبی طاقت سلطان ابن سعود اور اس کے ورثا کے ممالک پر حکومت برطانیہ کے مشورہ کے بغیر یا اس کو ابن سعود کے ساتھ مشورہ کرنے کی فرصت دیے بغیر حملہ آور ہوگی تو حکومت برطانیہ ابن سعود سے مشورہ کر کے حملہ آور حکومت کے خلاف ابن سعود کو امداد دے گی اور اپنے حالات ملحوظ رکھ کر ایسی تدابیر اختیار کرے گی جن سے ابن سعود کے اغراض و مقاصد اور اس کے ممالک کی بہبود محفوظ رہ سکے۔
دفعہ نمبر 3
ابن سعود اس معاہدہ پر راضی ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ کسی غیر قوم یا کسی سلطنت کے ساتھ کسی قسم کی گفتگو یا سمجھوتہ اور معاہدہ کرنے سے پرہیز کرے گا۔ مالک مذکور بالا کے متعلق اگر کوئی سلطنت دخل دے گی تو ابن سعود فورًا حکومت برطانیہ کو اس امر کی اطلاع دے گا۔
دفعہ نمبر 4
ابن سعود عہد کرتا ہے کہ وہ اس سے پھرے گا نہیں اور وہ ممالک مذکورہ یا اس کے کسی حصے کو حکومت برطانیہ سے مشورہ کے بغیر بیچنے، رہن رکھنے، مستاجری یا اور کسی قسم کے تصرف کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ اور اس کو اس امر کا اختیار نہ ہوگا کہ وہ کسی حکومت کی رعایا کو برطانیہ کی مرضی کے خلاف ممالک مذکورہ بالا میں کوئی رعایت یا لائسنس دے۔ ابن سعود وعدہ کرتا ہے کہ وہ حکومت برطانیہ کے ارشاد کی تعمیل کرے گا اور اس امر کی قید نہیں ہے کہ وہ ارشاد اس کے مفاد کے خلاف ہو یا موافق۔
دفعہ نمبر 5
ابن سعود عہد کرتا ہے کہ مقامات مقدسہ کے لیے جو راستے سلطنت سے گزرتے ہیں وہ باقی رہیں گے اور ابن سعود حجاج کی آمدورفت کے زمانے میں ان کی حفاظت کرے گا۔
دفعہ نمبر 6
ابن سعود اپنے پیشرو سلاطین نجد کی طرح عہد کرتا ہے کہ وہ علاقہ جات کویت، بحرین، علاقہ جات روسائے عرب، عمان کے ان ساحلی علاقات جات اور دیگر ملحقہ مقامات کے متعلق جو برطانوی حمایت میں ہیں، اور جن کے حکومت برطانیہ کے ساتھ معاہدانہ تعلقات ہیں، کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔ ان ریاستوں کی حد بندی بعد میں ہوگی جو برطانیہ سے معاہدہ کر چکی ہیں۔
دفعہ نمبر 7
اس کے علاوہ حکومت برطانیہ اور ابن سعود اس امر پر راضی ہیں کہ طرفین کے بقیہ باہمی معاملات کے لیے ایک اور مفصل عہد نامہ مرتب و منظور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ کویت میں 26 نومبر 1915ء کو طے پایا۔ اس پر سلطان عبد العزیز بن سعود اور برطانوی نمائندہ بی زیڈ کاکس کے دستخط ہیں۔ اور اس کی توثیق ہندوستان میں برطانوی وائسرائے چیمس فورڈ نے 18 مئی 1916ء کو شملہ میں اس پر دستخط ثبت کر کے کی۔ اور اس پر سیکرٹری پولیٹیکل اینڈ فارن ڈیپارٹمنٹ حکومت ہند رے ایچ گرانٹ کے بھی دستخط ہیں۔
اسلام کے نام پر عربوں کو محکوم بنانے والے ’ اجنبی ترکوں‘ سے عرب نیشنل ازم کی بنیاد پر حاصل کی گئی ’ آزادی‘ کا یہ اصل چہرہ تھا مگر اس کے بعد عرب قومیت اور سعود خاندانیت پر مبنی اس نوخیز ریاست کو اچانک ایک ایسے اسلامی کٹر پن نے گھیر لیا کہ’ شرک کے اڈے بننے‘ کی وجہ سے مقدس شخصیات کی قبروں اور مزاروں کے انہدام کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ اس سلسلے پر اہل تشیع حضرات تو برہم تھے ہی، مسلمانوں کے دوسرے حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ لکھنو میں جمعیت خدام الحرمین کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ایک وفد نے حجاز جاکر شاہ عبدالعزیز ابن سعود کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے مئی 1925 میں سلطان ابن سعود کی جانب سے بلائے گئے موتمر ( اجتماع ) میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مفتی کفایت اللہ نے بھی اپنے ایک وفد کی صورت میں شرکت کی تھی اور اس دوران سلطان ابن سعود سے اس وقت ان کی تلخ کلامی بھی ہوئی تھی جب مفتی صاحب نے سلطان سے کہا کہ اگر آپ نے مدینہ میں بھی اسی طرح مقابر و مزارات کو منہدم کرنا تھا جیسا کہ آپ نے مکہ میں کیا تھا تو آپ نے دنیائے اسلام سے یہ وعدہ کیوں کیا تھا کہ ہم اس اجتماع کے فیصلے تک مدینہ میں کوئی قابل شکایت کام نہیں کریں گے؟ سلطان نے کچھ تامل کے بعد جواب دیا کہ میری قوم کے 5 ہزار افراد نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں مقابر و آثار کو منہدم نہ کروں گا تو وہ خود چڑھائی کرکے یہ کام کریں گے۔ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ مبادا وہ مجھ سے زیادہ تخریب کریں گے اس لیے میں نے ان کا مطالبہ پورا کیا۔ اس پر مفتی صاحب نے جواب دیا کہ کیا آپ کو اپنی قوم کا حال معلوم نہ تھا، جب آپ ان کی وحشت و بربریت کو جانتے تھے اوراعلان ملوکیت کے وقت تجربہ کر چکے تھے تو آپ نے اس قسم کا وعدہ کیوں فرمایا؟ ( الجمیعت دہلی، مفتی اعظم نمبر )
مقابر و مآثر کے انہدام کی اس سے پہلے کوئی مثال مسلم تاریخ میں نہیں ملتی حضرت عمر فاروق کے دور میں فتح ہونے والے مصر میں دنیا کا سب سے بڑا ابوالہول کا مجسمہ آج تک کھڑا ہے، غزنی سے سومنات کے بتوں کو توڑنے کے لیے جانے والے محمودغزنوی کے دارالسلطنت غزنی کی سرحد سے لگنے والے بامیان میں قائم بدھ مت کے مجسموں کی جانب بت شکن محمودغزنوی کی توجہ بھی مبذول نہیں ہوئی ۔اس کے بعد طالبان کے ہاتھوں بدھ مت کے مجسموں کے انہدام، داعش کے ہاتھوں انبیا واولیا کے مقابر کو بارود سے اڑانے اور امریکہ کی جانب سے عراق میں مزاروں پر بمباری سے اس سلسلے کا دوبارہ احیا ہوا۔
ایران میں خمینی انقلاب کے بعد ایران اور سعودی عرب نے شیعہ سنی محاذآرائی کو خوب ہوا دی، دونوں کے پاس تیل کے پیسے تھے اور یہ پیسہ جہاں پہنچا وہیں آگ لگا دی، اللہ کے گھروں میں لوگوں کوقتل کیاجانے لگا مگر خود ایران وسعودی عرب کی اپنی سرزمین حرم کی طرح مامون و محفوظ رہی۔
قصہ مختصر اب سعودی عرب کی قیادت میں تین درجن ممالک کا فوجی اتحاد قائم ہواہے جس کی سپہ سالاری جنرل راحیل شریف کریں گے پاکستان میں یہ کہا جارہاہے کہ جنرل صاحب نے یا پاکستان نے اس منصب کو اس شرط کے ساتھ قبول کیاہے کہ انہیں فریقین کے درمیان ثالثی کابھی اختیار ہوگا مگر جب مذکورہ اتحاد کسی خاص ملک کے خلاف تشکیل نہیں دیا گیا ہے تو راحیل شریف صاحب یہ ثالثی کس کس کے درمیان کریں گے اور دوسری بات یہ ہے کہ ثالث کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی غیر جانبداری پر فریقین کو اعتماد ہو مگر آپ فریق بن کر ثالث کس منطق کے تحت بن رہے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ اس جنگی اتحاد کا مقصد کیا ہے؟ اگر ہدف دہشت گردی ہے تو کیا دہشت گردی وہ ہے جس کو امریکہ دہشت گردی سمجھتا ہے یا پھر دہشت گردی وہ ہے جس کو مولانا فضل الرحمن صاحب نے اپنی آخری تقریر میں ریاستی دہشت گردی کا عنوان دیا ہے؟ اگر دہشت گردی ہی ہدف ہے تو کیا اتحاد میں شامل تمام ممالک کو درپیش خطرات کا مشترکہ مقابلہ کیا جائے گا یا صرف سعودی عرب کی حفاظت کی جائے گی؟ اگر بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ اتحاد کا ہدف ہے تو افغانستان اور عراق کے بارے میں اتحاد کی پالیسی کیا ہوگی؟ اور اگر داخلی بغاوت کو دہشت گردی سمجھ کر اسے کچلنا اس اتحاد کا مقصد ہے تو پھر شام کی صورتحال پر اتحاد کی پالیسی کیا ہوگی؟ اور اگر اس اتحاد کا مقصد حرمین کی حفاظت ہے تو سب سے پہلے اس چیز کا تعین ہونا چاہیے کہ حرمین کو درپیش خطرے کی نوعیت کیاہے، یہ خطرہ کس سے درپیش ہے اور اس خطرے کے پیش آنے کے اسباب کیا ہیں؟ اگر واقعی حرمین شریفین کی حفاظت مطلوب ہے تو اس مقصد کے لیے او آئی سی میں شامل تمام ممالک کی فوجوں پر مشتمل مشترکہ فوج تشکیل دینی چاہیے اوراس کی ضروریات کو حج سے حاصل ہونے والے سولہ ارب ڈالر کی سالانہ آمدن سے پورا کرنا چاہیے ۔جب حرمین تمام مسلمانوں کے روحانی مراکز ہیں تواس کی حفاظت کا مالی بوجھ صرف سعودی عرب پر ڈالنا تو زیادتی ہے اور حرمین کے بارے میں اس منصوبہ بندی کے دوران قبلہ اول کی بازیابی کے حوالے سے بھی کچھ سوچنا چاہیے۔
جے یو آئی کے صدسالہ اجتماع میں ان تمام ابہامات کے باوجود ’ لبیک لبیک یا حرمین‘ کا روح پرور شعار بلند کیا گیا اور نعرہ تکبیر کے بعد دوسرا نعرہ جو سب سے زیادہ لگا یا گیا وہ ’ مستقبل کا حکمران، مولانافضل الرحمن‘ کا نعرہ تھا۔ مولاناصاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مجھے کسی مسلک اور فرقے نہیں بلکہ پوری امت کا نمائندہ سمجھا جائے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو سلیم صافی نے اپنے کالم میں لکھا کہ مولانا نے ان سے بات چیت کرتے ہوے کہا کہ شیعہ بھی جمعیت کارکن ہی نہیں بلکہ رہنما بھی بن سکتا ہے، فرقے اور مسلک ک۔ خول سے باہر آنا واقعی ایک خوش آئند اقدام ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ مولانا کو اپنی پارٹی کے منشور پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے جس کی دفعہ نمبر 7 میں کہا گیا ہے کہ ’ صدرمملکت کا مرد اور مسلمان ہونے کے علاوہ پاکستان کی غالب اکثریت اہل سنت کا ہم مسلک ہونا ضروری ہے‘۔ مولاناصاحب نے اپنے خطاب میں کرپشن کے سدباب کا بھی مختصر فارمولہ یہ تجویز کیا کہ اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے جبکہ پہلے ہم یہ سمجھتے تھے کہ اقتدار کی ضرورت صرف اور صرف ’ اسلام کے عادلانہ نظام‘ کے نفاذ کے لیے ہی ہے۔
اجتماع کی برکت سے جناب سراج الحق کے دل میں بھی اللہ نے یہ بات ڈال دی کہ انہوں نے اجتماع میں آکر ایم ایم اے کی بحالی کے بارے میں تمام اختیار مولانافضل الرحمن کے حوالے کردیا اور یہ بات لکھ رکھیں کہ اس اتحاد کی عملی ’ برکت‘ بھی اگلے الیکشن میں قوم کو دیکھنے کو ملے گی۔ جب ایم ایم اے کو غیر فعال کردیا گیا تو اس وقت مولاناصاحب نے ایک سوال اٹھایاتھا کہ کیاوجہ ہے جب مجھ سے ایم ایم اے توڑنے کا تقاضا کیا گیا اور میں نے انکار کردیا تو قاضی صاحب ایم ایم اے سے الگ ہوگئے اور کیا وجہ ہے جب مولانا شیرانی سے جماعت میں الگ دھڑا بنانے کا تقاضا کیا گیا اور انہوں نے انکار کردیا تو بلوچستان میں جے یوآئی نظریاتی گروپ بن گیا۔ اب مولاناصاحب سے سوال پوچھنا چاہیے کہ مولانا شیرانی کو تو جماعت میں الگ گروپ تشکیل دینے کا تقاضا جنرل پرویز مشرف نے براہ راست اور بنفس نفیس کیا تھا تو غالبا ً قاضی صاحب کو بھی پرویز مشرف یا کسی خفیہ ادارے نے ہی ایم ایم اے سے الگ کیا ہو گا تو اب کیاوجہ ہے کہ آپ کے بقول ایجنسیوں کے کہنے پر ایم ایم اے توڑنے والے اب اچانک دوبارہ آپ کے قریب آگئے اور کیاوجہ ہے کہ آپ کے بقول ایجنسیوں ہی کے کہنے پر جماعت توڑنے والا نظریاتی گروپ تو آپ کے قریب آگیا مگر پرویز مشرف کے کہنے پر جماعت توڑنے سے انکار کرنے والے مولانا شیرانی آپ سے دور ہوتے چلے گئے؟
ایسی بڑی بڑی باتیں تو ظاہر ہے ہم جیسے چھوٹوں کے سمجھنے کی نہیں ہوتیں ۔ ہم نے تو اس بابرکت ماحول میں امام کعبہ کی امامت میں نماز ادا کرنی تھی جو ہم نے کرلی، اجتماع کے آخری دن جب نماز کی تیاری کے دوران سٹیج سے یہ اعلان کیاگیا کہ امام صاحب چونکہ مسافر ہیں لہٰذا مقیم حضرات اپنی چاررکعت پوری کرلیں تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے مجھے شاید مفتی سمجھ کر یہ پوچھا کہ کیا میں مسافر ہوں؟ میں نے کہا آپ کہاں سے آئے ہیں تو کہنے لگے تربت سے، تربت کا وہاں سے فاصلہ 1670 کلومیٹرہے۔ اتنے لمبے فاصلے کو سوچ کر میں نے بھی جھٹ سے فتویٰ دے ڈالا کہ جی آپ مسافر ہے ۔مگر ذرایہ بتائیے کہ امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنے کی میری طرح آپ کو بھی بہت خوشی ہوئی ہوگی؟ تو کہنے لگا کہ آپ کیسی بات کرتے ہیں ان لوگوں کے کہنے پر تو میری جان بھی حاضر ہے، تربت سے آنے والا یہ آدمی کوئی سولہ اٹھارہ سال کابچہ تھا، اس کے یہ الفاظ سن کر میرے دماغ کی دیواروں سے کچھ ہی دیر پہلے قائد جمعیت کے تقریر کے یہ الفاظ دوبارہ ٹکرانے لگے کہ ’ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پاکستان کا بچہ بچہ حاضر ہے‘۔


Comments are closed.