مشال! میں اس قوم کا حصہ ہونے پر شرمندہ ہوں

پھر ایسا کیا ہوا جس نے مشال کو میڈیا کی خبر بنا دیا؟ مشال کی جان لینے والے لوگ اس کے ساتھ پڑھنے والے ساتھی ہیں۔ یہ سب خود کو عاشقانِ رسولﷺ کہتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو اس رسولؐ کا پیروکار بتاتے ہیں جسے اس دنیا میں رحمت للعالمین بنا کر بھیجا گیا تھا۔ ایسا نبیؐ جس کو طائف کے لوگوں نے پتھر مار مار کر لہولہان کر دیا تھا۔ جب جبرائیل نے ان سے پوچھا کہ آپؐ کہیں تو اس قوم کو دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں تو اس پیارے نبیؐ نے کہا نہیں، ہو سکتا ہے اس قوم کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ پر ایمان لے آئیں۔ کیا اتنے صابر نبیؐ کے پیروکار ایسے ہو سکتے ہیں؟
سوشل میڈیا پر مشال خان کے قتل کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے۔ اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ طلبا جو اپنے آپ کو عاشقانِ رسولﷺ کہتے ہیں مشال کی نیم برہنہ اور خون آلودہ لاش پر ٹھڈے مار رہیں ہیں، کوئی اس کے سر پر گملہ توڑ رہا ہے تو کوئی لکڑی کے ٹکڑے سے مار رہا ہے۔ غرض جس کو جتنا موقع مل رہا ہے وہ ثواب کما رہا ہے۔ مشال کو مارنے کے ساتھ ساتھ یہ اللہ اکبر اور نعرہ رسالتﷺ کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔ مشال مر چکا ہے۔ اس کی روح اس کے جسم سے نکل کر اگلے جہاں میں داخل ہو چکی ہے مگر یہ لوگ اب بھی رکنے کو تیار نہیں۔
یہ ویڈیو دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ میرا دل رو رہا ہے۔ میں اس قوم سے تعلق رکھتی ہوں؟ ایسی قوم جو یونیورسٹی جانے کے بعد بھی وحشی کی وحشی رہی۔ ایسی قوم جسے اپنے ایمان کا تو کچھ پتہ نہیں لیکن دوسرے کا ایمان جانچنے کو ہر وقت تیار رہتی ہے۔ ایسی قوم جو توہینِ رسالت کے الزام کا ثبوت بھی نہیں مانگتی اور ملزم کو جہنم پہنچانے فوراً کھڑی ہو جاتی ہے۔ ایسی قوم جو سمجھتی ہے کہ ہمیں اللہ نے لوگوں کو جنت اور جہنم میں بھیجنے کا اختیار دیا ہوا ہے۔ مجھے پہلی بار اس قوم کا حصہ ہونے پر شرم آ رہی ہے۔
ویڈیو میں کئی لوگ ایسے بھی دیکھے جا سکتے ہیں جو اس ظلم کو تفریح سمجھتے ہوئے اپنے اپنے موبائل پر ویڈیو بنانے میں مصروف ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی مشال کو بچانے کے لئے آگے نہیں بڑھا یا ان طلبا کو روکنے کے لئے نہیں بڑھا جو مشال کو مار رہے تھے۔ کسی ایک نے یہ نہیں کہا کہ بس کرو۔ اسے پولیس کے پاس لے چلتے ہیں۔ ایف آئی آر کٹواتے ہیں اور یہ معاملہ قانون پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی ایسا کہے بھی کیوں؟ جو کہے گا وہ بھی ساتھ پٹے گا اور مرے گا۔ ہر ایک کو اپنی جان پیاری ہے۔ چلو اس وقت تو اپنا سوچ لیا پوری زندگی کیسے کاٹو گے؟ جب تھک ہار کر رات میں اپنے آرام دہ بستر پر آؤ گے تو مشال کی چیخیں تمہیں سنائی نہ دیں گی؟ وہ بار بار فریاد کر رہا تھا کہ "مجھ سے زیادہ، رسولﷺ پہ ایمان کسی اور کا نہیں۔۔۔ میں نے کبھی ایسے گناہ کا ارتکاب نہیں کیا۔۔۔ مجھے ہسپتال پہنچا دو” روز رات یہ فریاد تمہارے کانوں میں گونجا کرے گی تب اس کو کیسے ان سنی کرو گے؟ تب تم پچھتاؤ گے کہ کاش میں نے کچھ تو بولا ہوتا۔ کاش کچھ تو کیا ہوتا۔
اس ماں کا سوچو جس نے کتنی محنتوں سے بیٹے کو پالا ہوگا۔ جب اسے اپنے بیٹے کی کٹی پھٹی لاش تھمائی گئی ہوں گی اس کی چیخیں عرش تک گئی ہوں گی۔ اس باپ کا سوچو جو اپنے جوان بیٹے کو دیکھ دیکھ کر جیتا ہوگا جب وہ یہ ویڈیو دیکھے گا اس کا کیا حال ہوگا؟ کیسی قیامت ٹوٹی ہے ان کے گھر پر۔ کس کو اپنا دکھ سنائیں وہ؟ کس سے فریاد مانگیں؟ ڈرو اس دن سے جب فیصلے تم یا میں نہیں بلکہ اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہوں گے تب یہ ماں اپنا مقدمہ لے کر اس بادشاہوں کے بادشاہ کے سامنے آئے گی۔ تب تمہیں کون بچائے گا؟ ڈرو اس دن سے جب مشال کو اپنے حق میں بولنے کی اجازت دی جائے گی۔ ڈرو اس دن سے جب وہ اپنے اوپر ہونے والا ظلم بیان کرے گا۔ اس دن ہم سب کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ ہم سب سے جواب طلبی کی جائے گی۔ میرے پاس تو کئی جواب نہیں ہے۔ تم سب اپنے جواب یاد کر کے آنا۔

