’’سب رنگ‘‘ کا بازی گر…! شکیل عادل زادہ کے ساتھ گزارے لمحے

شکیل عادل زادہ، دیو مالائی سا ایک کردار۔ دیو مالائی کردار پہ لکھنا کتنا مشکل عمل ہوگا؟ یہ شکیل عادل زادہ پر لکھتے احساس ہوتا ہے۔ آپ یہ نہیں سمجھ پاتے، کس کرامت کا بیان پہلے کیا جائے اور کس معجزے کو کہاں لایا جائے۔ میں اس روز اُردو بازار سے ہوتا ہوا، یہاں آیا تھا۔ دو تین شاپنگ بیگز میں کتابیں تھیں۔ حسن ہاشمی اور شکیل عادل زادہ نے جاننا چاہا کہ میں نے کون کون سی کتابیں خریدی ہیں۔ ابن ِصفی کا ’’عمران سیریز ‘‘ میرے بچپن کا عشق ہے۔ ان دنوں میں عمران سیریز کے وہ ناول جمع کرتا پھر رہا تھا، جو میرے خزانے میں نہ تھے۔ میںعمران سیریز کے ناول دکھاتے جز بز ہواکہ کہیں میرے ذوق کا مذاق نہ اڑایا جائے، لیکن اس وقت حوصلہ ہوا، جب شکیل عادل زادہ کہنے لگے، کہ ابن ِصفی کا اُردو پہ بہت بڑا احسان ہے، وغیرہ۔ باتوں باتوں میں سب رنگ کے حالیہ شمارے کی بابت پوچھاکہ کیسا تھا؟ میں نے برملا کہا کہ اس بار کا شمارہ اس معیار کا نہیں تھا، جس کی توقع کی جاتی ہے۔ شکیل عادل زادہ ترنت بولے: آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اس بار کا شمارہ واقعی اچھا نہ تھا۔ مجھے اپنے کہے پر پشیمانی ہوئی۔ یہ میرا پہلا سبق تھا۔

میرے اولین سوالوں میں ایک یہ تھا کہ کورا کون ہے؟ اس کا جواب مجھے ایک وقت حسن ہاشمی نے دیا تھا، لیکن بوجوہ یہاں تذکرہ نہیں کر رہا، پھر میں نے یہ پوچھا کہ بازی گر کے بِٹھل آپ ہی ہیں ناں؟ میرا یہ خیال ہے کہ شکیل عادل زادہ کو بِٹھل ہی ہونا چاہیے، وہ بابر زمان خان نہیں ہو سکتے۔ تیسرا سوال جو مجھے یاد ہے، وہ یہ تھا کہ بابر کو کورا کبھی نہیں ملے گی، ناں؟ شکیل بھائی نے بڑے تیقن سے فخریہ کہا، بالکل نہیں۔ میری یہی خواہش تھی کہ بابر کو کورا کبھی نہ ملے، اب مجھے زریں کی فکر ہوئی اور زریں؟ زریں کا کیا ہوگا؟ زریں ،بازی گر کے یادگار کرداروں میں سے ایک حسین کردار، اسے بابر زماں خان سے محبت ہے۔ مجھے کورا سے زیادہ زریں سے محبت ہے۔۔۔ ان ملاقاتوں میں بہت سے لمحے ہیں، جنھیں ایک ترتیب سے بیان کرنا میرے لئے تو ممکن نہیں۔ ایک بار کہنے لگے، شادی کا انسٹی ٹیوٹ جس نے بھی بنایا، بہت ظلم کیا۔ سب کو آزادی ہونی چاہیے تھی، جس سے اور جب چاہے تعلق قائم کر لے۔ یہ سن کر، میرے کان غصے سے لال ہو گئے، میں نے انتہائی بد تمیزی سے سوال کیے، انھوں نے کمال تحمل سے جواب دئیے، یہ دوسرا موقع تھا کہ مجھے اپنے سوال پہ پشیمانی ہوئی۔ مختلف لوگوں سے ایک ہی سوال کرتے پایا، شادی سے کیا راحت ملی؟ مجھ سے بھی پوچھا، میرا جواب تھا، بچے۔ اثبات میں سر ہلایا، خاموش رہے۔
کیسے سب رنگ کے حقوق فروخت ہوئے، کیسے شکیل بھئی اس ادارے سے الگ ہوئے، وہ بھی آنکھوں دیکھا ہے۔ یہاں شکیل بھئی کے لکھے شذرے یاد آتے ہیں، جس میں وہ کہتے ہیں، سب رنگ فرد ہے، ادارہ نہیں۔ فرد الگ ہوا، تو سب رنگ ماند پڑ گیا۔ جب نور الہدیٰ شاہ نگران حکومت میں وزیر ہوئیں، تو ان کی کوششوں سے سب رنگ ایک بار پھر شکیل عادل زادہ کے نام ہوا۔ آج اگر ان کے لئے سب رنگ کورا ہے، تو یہ وہ بابر زمان خان ہیں، جو کورا کا گھونگٹ اٹھاتے لرزتے ہیں، ان کے چاہنے والے زریں کے مانند ہیں، جن کے لئے سب رنگ بابر زماں خان ہے اور وہ اس کی ایک جھلک کے منتظر۔۔۔!

