عدالتی فیصلہ اور مہتاب حلوائی کی چم چم
عمومی طور پر جب گھر سے فون آتا ہے تو بندہ سب کام کاج چھوڑ
مالک نے چھٹی دینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ دو دن بعدعدالت عظمیٰ کا پانامہ لیکس پر تاریخی اور صدیوں یاد رہنے والا، فیصلہ آنے والا ہے اگر تم جیسا ماہر چم چم بنانے والا کاریگر چلا گیا تو گاہکوں کی طلب کیسے پوری کی جائے گی۔ جانا ہے تو کام پورے کرکے دو دن بعد جانا تاکہ گاہکوں کو پریشانی نہ ہو۔ مہتابے کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ چھٹی نہیں ملے گی کیونکہ اس کا باپ آفتاب بھی اسی دکان پر زندگی گزار گیا۔ باپ کی اور اچھا اور محنتی کاریگر ہونے کی وجہ سے مہتاب کی قدر مالک کی نظروں میں لا محالہ تھی لیکن دکان کے معاملات خوش اسلوبی سے چلانا بھی اس کی ذمہ داری تھی۔ جواب سن کر مہتابے کے تو ہوش اڑ گئے اور نذیراں کا معصوم چہرہ نظروں کے سامنے آگیا۔
مہتابے کو اپنے ابا کی باتیں یاد آنے لگیں۔ اس کا باپ اکثر روہانسی آواز اور شکل میں بتایا کرتا تھا کہ جس دن سابق منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی اس دن موتی چور کے لڈو اسی نے بنائے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے لڈو پلک جھپکتے بک گئے تھے۔ مالک تو خوش تھا لیکن آفتابے کو بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھاکہ کسی کی موت پر قوم اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے، لڈو کھائے۔ دور آمریت کے اختتام کے بعد تو ہر کس و ناکس نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو سیاسی و ذاتی انتقام سے تعبیر کیا اور بعد میں تو خود عدالت عظمیٰ نے بھی جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا۔
مہتابے نے فیصلہ کیا کہ وہ گاوں اب تو ضرور جائے گا کیونکہ وہ عدالت کے کسی ایسے تاریخی فیصلے کا حصہ نہیں بنے گا جو ملک و قوم کو تاریکی میں لے جائے۔ قوم کو چاہے عقل آئے یا نہ آئے۔ مہتاب نے ان پڑھ ہونے کے باوجود تاریخ سے سبق حاصل کرلیا ہے۔ قوم کب تاریخ سے سبق حاصل کرے گی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

