کیا امریکا نے داعش ہی پر بم گرایا؟

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ مئی 2015میں ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ ’بعض مقامات پر داعش کے پمفلٹس ضرور تقسیم کئے گئے لیکن پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں‘۔ تاہم صرف آٹھ ماہ بعد آئی بی کے سربراہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور کو بتایا کہ داعش کا پاکستان میں نیٹ ورک موجود ہے جس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اس دوران لاہور سے خبریں آئیں کہ کچھ مرو خواتین داعش میں شمولیت کے لئے شام جا چکے ہیں۔ ادھر اسلام آباد سے جامعہ حفصہ کے طالبات کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں داعش کی تائید کے ساتھ ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ جن دنوں ملک میں داعش کو لے کرانکار و اقرار کا یہ سلسلہ جاری تھا، انہی دنوں یعنی جنوری 2015 میں سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی نے بی بی سی میں لکھے ایک آرٹیکل میں الزام لگایا کہ’افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیمیں داعش کے بینر تلے کام کر رہی ہیں جو اسلام آباد کی تخلیق کردہ ہیں‘۔ انہوں مزید اضافہ کیا کہ ’ کہ اسلام آباد سابق صدر کرزئی سے کئی بار تاجکستان تک افغانستان کے ذریعے رسائی کی درخواست کر چکا ہے جس سے حامد کرزئی نے بار بار انکار کیا۔ پاکستان ان دہشت گرد تنظیموں کو اپنی فارن پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے‘۔
ادھر دس روز پیشتر افغانستان میں امریکہ نے صوبہ ننگرہار کے اچین اولسوالی(ضلع) میں داعش کے ٹھکانوں پر سب سے بڑا بم غیر ایٹمی MOAB (Massive Ordnance Air Blast) جسے بموں کی ماں بھی کہا جاتا ہے، گرایا۔ امریکہ نے دعوی کیا کہ اس نے یہ بم ننگرہار میں پہاڑوں میں قائم داعش کے غاروں کے نیٹ ورک پر گرایاہے۔ یاد رہے کہ اچین اولسوالی صوبہ ننگرہار کے جنوب میں واقع ہے جو پاکستان کے بارڈر سے بالکل متصل ہے اور اس کا بارڈرخیبر ایجنسی سے ملتا ہے۔ اس بم کے پاکستانی بارڈر کے قریب گرائے اور بارڈر کے قریب داعش کے ٹھکانوں کی موجودگی خود پاکستان کے لئے شدید خطرات کی علامت ہے۔ دوسری جانب اس بم کے حوالے سے افغانستان سے متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔ افغانستان کے دفاعی اداروں نے اس پر کسی احتجاج کے بغیر اس کو داعش کے صفایا کرنے سے تعبیر کیا۔ حامد کرزئی کے علاوہ افغانستان سے اس کے خلاف کوئی مضبوط آواز نہیں اٹھی۔ بم کے نتیجے میں اموات اور نقصانات کی تعداد پر تمام افغان اور عالمی میڈیا نے امریکہ کے جاری کردہ اعداد و شمار پر ہی انحصار کیا۔ پینٹاگون کے جاری کردہ ویڈیو کے علاوہ ابھی تک کسی اور ذرائع نے علاقے کی ویڈیو یا تصاویر حاصل نہیں کیں۔ امریکہ نے بم گرانے کا مقصد داعش کے مضبوط ٹھکانے ختم کرنا بتایا۔ بم گرائے جانے کے چار دن بعد امریکی نائب صدر مائیک پنس نے اچانک کوریا کے Korean Demilitarized Zone زون کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں MOAB گرانے کا مقصد شمالی کوریا کو وارننگ دینا تھا۔ دوسری طرف 14 اپریل کو ماسکو میں بارہ ممالک پر مشتمل افغان امن کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا جس سے امریکہ پہلے ہی شرکت سے معذرت کر چکا تھا۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم اس کانفرنس میں شرکت کا ارداہ نہیں رکھتے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ روس کی خطے میں اثرورسوخ کی یک طرفہ کوشش ہے‘۔

اس منظر نامے سے کچھ نتائج نکلتے محسوس ہوتے ہیں۔ ایک طرف امریکہ نے ماسکو میں منعقد ہونے والے امن کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا اور دوسری جانب کانفرنس سے ایک دن پہلے افغانستان میں سب سے بڑا بم گرایا۔ جس کا ایک فوری نتیجہ تو یہ نکلا کہ عالمی میڈیا پر امن کانفرنس کی خبروں پر MOAB کی خبریں بھاری رہیں اور امن کانفرنس کے حوالے سے میڈیا خاموش رہا۔ دفاعی معاملات سمجھنے والے ذرائع اسے روس کے لئے ایک پیغام قرار دے رہے ہیں کہ امریکہ روس کی افغانستان میں بطور اسٹیک ہولڈر کردار کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
ا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر کا بیان بھی کم بیش یہی کچھ واضح کر رہا ہے۔ تاہم اس کے برعکس افغانستان میں موجود روس کے سفیر Alexander Mantytskiy نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’روس افغانستان میں کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں رکھتا اور نہ ہی ہم امریکہ کے ساتھ افغانستان میں کوئی مقابلہ کرنا چاہتے ہیں‘۔ ایسے میں سوال جنم لیتا ہے کہ کیا امریکہ نے واقعی داعش پر ہی بم گرایا تھا؟ اس کا جواب فی الحال پردہ ¿ اخفا میں ہے۔
البتہ پاکستانی سرحد کے قریب اس بم کا گرنا اور پاکستانی سرحد کے قریب داعش کے ٹھکانوں کا ہونا پاکستان کے لئے بہت سارے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ بدقسمتی سمجھ لیجیے کہ قومی منظرنامے پر شدت پسندی اور دہشتگردی کے حوالے قوم کا اجتماعی موقف کبھی یکسو نہیں رہا۔ اے پی ایس پشاور کے خون آشام بربریت کے بعد جب قومی اسمبلی میں اکیسویں آئینی ترمیم پر بحث شروع ہوئی تو کچھ پاکیزہ روحیں بضد ہوئیں کہ دہشت گردی کی تعریف میں سے مذہبی شناخت کا لفظ ہٹایا جائے۔ ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ نے تو تجاہل عارفانہ اور حسن تغافل کے امتزاج کا کمال دکھایا اور فرمایا کہ ٹی ٹی پی نامی کوئی چیز نہیں پائی جاتی یہ صرف میڈیا کی تخلیق ہے۔ ایک اور صاحب چوہدری نثار علی خان ہمارے ملک کے وزیر داخلہ کے منصب پر براجمان ہیں۔ حکیم اللہ محسود اور ملا اختر منصور ڈورن حملوں میں مارے گئے تو چوہدری صاحب نے دونوں مواقع پر اسے امن پر حملہ قرار دیا۔ حال ہی کا واقعہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی مسکراتی تصاویر میڈیا کی زینت بنی ہیں۔ معلوم نہیں یہ مجہول اصطلاحات المعروف ’اچھے طالبان‘ اور ’برے طالبان‘ کس زرخیز ذہن کی کرشمہ سازی ہے مگر واقعہ ہے کہ یہ اصطلاحات بہرحال مجرد نہیں ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ایسی مخلوق پائی جاتی ہے۔ یقین نہ آئے تو رانا ثنا اللہ اور چوہدری نثار علی خان صاحب سے پوچھ لیجیے۔ ہا ںیہ معلوم ہے کہ داعش کسی مخلوق کا نام ہے جن کو اسلام آباد میں قائم مدرسے کی طالبات بھی پاکستان آنے کی دعوت دے رہی ہیں اور قوم کی بیٹی نورین لغاری بھی ان سے متاثر ہو کر لاہور میں ایسٹر کے موقع پر خود کش دھماکے کا ارداہ رکھتی تھی مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں لیا جا سکتا کہ داعش پاکستان میں موجود ہے۔

