23 اپریل: قصہ خوانی بازار کے شہیدوں کا دن
پشاور کا قصہ خوانی بازار اپنی ایک الگ شناخت اور تاریخ رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا بازار تھا جہاں پر دنیا کے مختلف کونوں سے تاجر ایا کرتے اور یہاں چونکہ سرائے ہوا کرتے تھے تو تاجر یہاں قیام کرتے اور یہاں کے قہوہ خانوں میں ایک دوسرے کو اپنے سفر اور اپنے دیس کے قصے کہانیاں سناتے تھے۔ یہ عام روایت تھی۔ یہاں کے قہوہ خانے ہر وقت مُسافروں سے بھرے رہتے جن مُسافروں نے رات نہیں رکنا ہوتا وہ انہیں قہوہ خانوں میں سستاتے اور تھوڑا آرام کرنے کے بعد اپنے اپنے سفر پر نکل پڑتے۔ان قہوہ خانوں میں پیتل کے بڑےبڑے حماموں میں پانی رکھا جاتا اور مٹی کے بنے پیالوں میں قہوہ پیش کیا جاتا تھا۔
ایک شناخت اس بازار کی یہ بھی ہے کہ یہ بازار احتجاج اور ہڑتالوں کے لیے بھی مشہور رہا ہے۔ انگریز کے خلاف جنگ آزادی کی تحریک سے لیکر آج کے تاجروں کی ہڑتالوں تک اس تاریخی بازار میں لوگ اپنے حق کے حصول اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ ڈٹ کر کھڑے رہے ہیں۔ 9/11 کے بعد یہ بازار بم دھماکوں اور ٹارگٹ کی ایک بھیانک شناخت بھی بنا چُکا ہے۔ جنوری 2007 میں سی سی پی او پشاور ملک سعاد اور ڈی ایس پی خان رازق ٹارگٹ کلنگ میں جان کھو بیھٹے۔ 2012 میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایک خود کُش حملے میں اسی بازار میں جان کھو بیھٹے۔ ساؒل 2013 کار بم دھماکے میں 40 لوگوں نے جانیں گوائیں جبکے 100 کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔۔
بھارتی فلمی دنیا کے ستارے یوسف خان یعنی دلیپ کمار صاحب دسمبر1922 میں یہاں پیدا ہوئے۔ انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک میں اس بازار کی یاداشتیں بھی تاریخ کا اہم مگر خون سے بھرا حصہ ہے۔ اس بازار کی روایت مذمت اور مزاحمت کی رہی ہے۔ ان میں اہم ترین واقعہ قصہ خوانی بازار کے شُہدا کا ہے۔


گینے شارپ (Gene Sharp) اپنی سٹڈی "عدم تشدد مزاحمت” میں بیان کرتے ہیں کہ” اس زمانے میں لاہور سے جاری ہونے والے اخبارات کے مطابق یہ قتل عام یوں ہوا کہ جب صف اول کے لوگ گولیوں کی بوچھاڑ سے گرجاتے تو ان کے پیچھے کی صف کے لوگ آگے بڑھ جاتے اور اس طرح اپنی سینے پیش کرکے شہید ہوتے چلے گئے
اس بازار کی تاریخ بدلی نہیں۔ چند دن قبل یہاں پر نوجوان بوڑھے خواتین ہر رنگ و نسل کے لوگ مشال خان کےواقعے پر احتجاج اور مشعل بردار ریلی کرتے دکھائی دیئے۔ چند سال یا پھر صدیاں گزرنے کے بعد شاید اس بازار کی کچھ اور نئی شناختیں بن جایئں لیکن اس کی نام کے ساتھ بندھی تاجروں کی قصہ گوئی کی شناخت، یہاں کے لوگوں کی مزاحمت کے قصے اور شہدا کا واقعہ ان شناختوں میں ہمیشہ یاد رہیں گے۔ اس بازار میں آج بھی اس واقعہ کی یادگار دو مینار کی شکل میں موجود ہے۔ چند سر پھرے نوجوان ہر سال اس یادگار پر جا کر اس واقعے کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور شمعیں جلاتے ہیں۔

