میں نے ہم سب پر لکھنا کیوں پسند کیا؟

گزشتہ دنوں مولانا محمداحمد لدھیانوی کے ساتھ نشست کی روداد اور ان کا نقطہ نظر شایع ہوا تو ایک عام قاری کی طرح میں نے بھی اس کو پڑھااور ان کے تازہ موقف کو جان کر حیرت بھی ہوئی کہ بے شمار انسانی جانوں سے کھیلنے کے بعد راہ راست پر آنے کی نوید سنا رہے ہیں۔ ذہن میں مولانا کے متعلق تو بے شمار سوال ابھرے لیکن ہم سب کی ادارتی پالیسی کے حوالے سے کوئی سوال نہیں ابھرا۔ صحافی کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ کسی بھی مکتب فکر کے رہنما سے ملاقات کرے اس کا موقف پیش کرے اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دے۔ صحافی کی ذمہ داری یہیں تک ہے۔ امید ہے کہ ’ہم سب‘ پر ہر مکتب فکر کی شخصیات کے بارے میں پڑھنے کو ملتا رہے گا۔
ادارتی ٹیم کا کوئی بھی رکن یا عام قاری کسی بھی تحریر سے اختلاف، حمایت یا تائید کا حق رکھتا ہے۔ اس اختلاف، حمایت یا تائید پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنا مکالمہ کہلاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مکالمہ کی روایت کیونکہ مستحکم نہیں ہے اس وجہ سے دوران مکالمہ پڑھے لکھے افراد بھی اختلاف کی صورت میں انتہا پسندی کا رویہ اپنا لیتے ہیں اور دوران مکالمہ غیر جانبدار شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ شاید ان افراد میں کوئی ذاتی رنجش ہے۔ انتہا پسندی کسی بھی طبقے یا مکتب فکر میں ہو، معاشرے میں انتشار پیدا کرتی ہے۔ اختلاف کی صورت میں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ کسی بندے کی ذات سے نفرت کا تاثر نہ ابھرے بلکہ یہ محسوس ہو کہ ہم آپ کے نقطہ نظر سے اختلاف رکھتے ہیں، آپ کی ذات سے نہیں۔
مولانا کے انٹرویو کی مخالفت میں بھی تحریریں شایع ہوئی ہیں۔ اگر یہ تحریریں بھی انتہا پسند جذبات لیے ہوئے ہوں تو کسی بھی مکتب فکر کی شخصیت کو انتہا پسند کہنے کا حق، ہم خود کھو بیٹھیں گے۔ اختلاف کیجیے، اپنا نقطہ نظر پیش کیجیے، اپنے موقف کومنوانے کی کوشش کیجیے کہ یہ آپ کا بنیادی حق ہے۔ لیکن اپنے خیالات کسی پر ٹھونسنا بھی انتہا پسندی کہلائے گا۔ ادارتی ٹیم کا کوئی رکن ہو یا لکھاری و قاری سب اپنا نقطہ نظر پیش کریں لیکن خدارا خود پر انتہا پسند ہونے کی تہمت نہ لگوائیں۔ میں نے ’ہم سب‘ پر لکھنا اسی لیے پسند کیا کہ یہاں سب کے نقطہ نظر کا احترام کیے جانے کی ریت ہے۔ اس ریت کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ دعا ہے کہ ’ہم سب‘ کی ترقی کا یہ سفر ہموار خطوط پر آگے کی طرف بڑھتا جائے۔

