وزارت داخلہ کا ‘سنہری اقدام’، بھارتی پراپیگنڈا اور ۔۔غیر ملکی احمق سیاح!

لیکن یہ غیر ملکی کون ہیں؟ یہ انتہائی احمق طبقہ ہے۔ اس احمق طبقے کے ایک فرد سے ملیے ۔۔
ایک جرمن صاحب ہیں جو تین دفعہ گلگت اور سکردو اسلام آباد سے پیدل گئے ہیں۔ پاکستان پر تین کتابیں جرمن زبان میں لکھیں ۔ ایک کتاب کے نام کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے۔”کون کہتا ہے پاکستان خطرناک ملک ہے؟” یہ صاحب تمام گلیشئرز پر ٹریکنگ کر چکے ہیں۔ پہاڑوں کے دیوانے ہیں ۔
میری ان سے ایک دفعہ مفصل ملاقات ہوئی۔ سیاحت کے فروغ پر بات چل نکلی۔ ان کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ صاف دکھائی دینے لگی۔ فرمانے لگے ۔۔پاکستان کسی صورت سیاحت کا فروغ نہیں چاہتا؟
میں نے کہا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ہم کوششیں کر رہے ہیں لیکن آپ کو معلوم ہے کہ نائن الیون کے بعد سیاحت کی صنعت متاثر ہوئی ہے۔۔۔
جرمن صاحب نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔ کہنے لگے۔۔اچھا تو آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں غیر ملکی کسی ڈر کی وجہ سے نہیں آ رہے۔ میں نے کہا بالکل ۔۔ایسا ہی ہے ۔ایسے حالات میں کون آئے گا؟
ان کا جواب آج بھی ذہن میں گونجتا ہے ۔۔شرمندہ کرتا ہے۔

میں نے پوچھا پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
کہنے لگے ۔۔وجہ جاننے کے لیے آپ کو غیر ملکی بننا پڑے گا۔غیر ملکی بن کر سیاحتی ویزہ کے لیے درخواست دینی پڑے گی اور گلگت بلتستان جانے کا ارادہ ظاہر کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ میں پاکستان پر تین کتابیں لکھ چکا ہوں ۔ میں سمجھا شاید میرا یہ قدم پاکستان کو پسند آئے گا اور پاکستان میرا دوسرا گھر ثابت ہو گا جہاں میں آ جا سکوں گا۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ کتابیں ہی سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہونا شروع ہو جائیں گی۔ ان کو ڈر ہے کہ ان کتابوں سے اور سیاح آنے کی درخواستیں دیں گے اور درد سری بڑھتی چلی جائے گی۔وہ گلگت بلتستان میں سیاحوں کی درد سری نہیں بڑھانا چاہتے۔
میں نے کہا ۔۔آپ کو ہمارے خطے کے حالات کا معلوم ہے کہ یہاں بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور مسئلہ کشمیر کی وجہ سے چوکنا رہنا پڑتا ہے (اس وقت اقتصادی راہداری نہیں آئی تھی)
جرمن صاحب ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پھٹ پڑے۔۔ کچھ خدا کا خوف کریں ۔ آپ کے ہاں حالات خراب ہیں یا مقبوضہ کشمیر میں۔ میرے جیسے کسی سیاح کو لداخ یا سری نگر جانے کے لیے کبھی اتنا ذلیل نہیں ہونا پڑتا۔ ہاں جہاں بہت زیادہ حالات کشیدہ ہو جائیں اس طرف جانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن آپ لوگ اپنا موازنہ بھارت سے نہ کریں۔ بھارت کے پاس مقبوضہ کشمیر میں ساری آبادی اس کے خلاف ہے ۔ آزادی چاہتی ہے۔ حالت جنگ میں ہے۔ آپ کےہاں ساری آبادی آپ کی ہمنوا ہے بلکہ سب سے زیادہ اپنے ملک سے محبت کرنے والے پاکستانی میں نے اسی علاقے میں دیکھے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ آپ سیاحت کا فروغ کسی صورت بھی نہیں چاہتے ۔ جس سیزن میں چار فالتو غیر ملکی سیاح آ جائیں آپ کے ماتھے پر سلوٹیں آ جاتی ہیں اور کوئی ایسی نئی پالیسی لے کر آ جاتے ہیں جس سے یہ کم بخت اگلے سال گلگت بلتستان نہ آ ئیں۔۔

"اب کسی بھی غیر ملکی سیاح کو جی بی جانے کے لئے وزارت داخلہ سے این او سی لینی ہوگی،
سیاحوں کو این او سی کے لئے چھے ماہ پہلے درخواست دینی ہوگی،(سیاحوں کا دماغ خراب ہے)
اس سے قبل یہ این او سی گلگت بلتستان کونسل دیتا تھا،
وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں ہوم سکریٹری کو ہدایات جاری کر دی”
دوسری طرف ترجمان گلگت بلتستان حکومت نے کہا ہے کہ ہم وفاق سے اس پابندی پر بات کریں گے ۔ یہ ہماری روزی روٹی ہے سیاحت ہمارا واحد ذریعہ روزگار ہے۔
ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے بیان سے لگتا ہے کہ مقامی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ بلکہ بادشاہ سلامت (جنہیں شاید گلگت بلتستان کے جغرافیہ تاریخ اور سیاحتی مقامات کا صحیح علم بھی نہ ہو) نے اپنے طور ہی شاہی فرمان جاری کر دیا ہے۔
شناخت دینے کے نام پر آپ نے صوبائی اختیارات کا ڈھونگ رچایا۔ شناخت کا بحران تو حل نہیں ہوا ہاں اس بہانے آپ نے سبسڈی واپس لینا شروع کر دی۔ تعلیم اور سیاحت کے میدان میں گلگت بلتستان کی نسلوں کی سرمایہ کاری ہے۔ کیا جمہوری روایات ایسی ہوتی ہیں؟ وہاں کے ٹور آپریٹرز اور ٹوارزم کمپنیز (جن کی بہترین ساکھ ہے) سر پیٹ رہی ہیں۔ کسی ملک کے سیاحوں کا ٹور بک ہوتا ہے ۔ آنے کی تاریخ کا تعین ہوتا ہے اور پھر۔۔ان غیرملکیوں کی ای میل آ جاتی ہے کہ ہمیں ویزہ نہیں مل رہا یا رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اس لیے ہم نیپال یا بھارت جا رہے ہیں۔
چلیے مان لیا آپ کے سیکیورٹی کے مسائل ہوں گے۔ تو کیا ہمارے پاس کسی مسئلے کو روکنے کا ایک ہی حل رہ جاتا ہے۔۔ پابندی لگا دو۔۔ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی۔۔ موبائل پر پابندی۔۔ یو ٹیوب پر پابندی وغیرہ وغیرہ۔۔ اور کتا کنویں سے نہیں نکالنا۔
گلگت بلتستان کے نام کو بھارت اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ حال ہی میں جنیوا میں اقوام امتحدہ کے سالانہ کنونشن کے موقع پر پورے جنیوا میں کسی گمنام ”فرینڈز آف گلگت بلتستان” نامی تنظیم کی جانب سے بھارت نے جا بجا بینر لگائے جن کی عبارتوں کا مفہوم یہ تھا کہ گلگت بلتستان میں پاکستان نے ظلم کی انتہا کر دی۔ چلیے اس حرکت سے بھارت کی اپنی ہی بھد اڑی۔ لیکن بہت سے ایسے لوگ جو گلگت بلتستان کو نہیں جانتے یا پاکستان کو نہیں جانتے کیا وہ اس پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوئے ہوں گے؟

اگر کہیں غیر ملکی جاسوسوں کا خطرہ ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے جاسوسی کر رہے ہیں تو ان کو پکڑیں ۔ اپنی نااہلیت کا بدلہ گلگت بلتستان کے شہریوں سے کیوں لے رہے ہیں؟
سندھ یا خیبر پختون خوا میں جانے کے لیے چھ ماہ پہلے سے این او سی حاصل کر نے کی شرط کیوں نہیں ہے؟
بجائے اس کے کہ آپ گلگت بلتستان کو سیاحوں کی جنت بنا کر بھارتی پروپیگنڈے کا جواب دیں آپ الٹا پابندی لگا کر بھارتی مقاصد کو کامیاب کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
اور اگر آپ نے اپنی روش نہیں بدلنی تو۔۔۔۔ وزارت سیاحت بند کریں۔۔ ان کے غیر ملکی دورے بند کریں۔۔ کروڑوں اربوں روپوں سے ہونے والے سیمینار اور تقریبات جو سیاحت کے فروغ کی خاطر سجائی جاتی ہیں بند کریں ۔۔۔
کوئی ایک ڈرامہ ضرور بند کریں۔۔

