ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آواز روکنا ظلم ہے
وہ ہر لحاظ سے دوسروں سے مختلف ہیں۔ یادداشت، ذہانت اور مباحثے کی صلاحیت بے پناہ۔ بولتے وقت مختلف مذہبی کتابوں کے حوالے ایسے دیتے ہیں جیسے سپر کمپیوٹر کھلا ہو۔ کتابوں کے ابواب کے نام اور آیات کے نمبر تیزی سے بتا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ روایتی تعلیم میڈیکل کی اور تقابل ادیان کا مضمون احمد دیدات سے سیکھا۔ شیخ احمد دیدات فرمایا کرتے تھے کہ جو کچھ میں نے40 سال میں جانا اور سمجھا۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے صرف چار سال میں حاصل کر لیا۔ یہ ذاکر نائیک پر اﷲ کا خصوصی کرم ہے۔ اﷲ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو وہ اﷲ کے دین کے لئے مختص کئے ہوئے ہیں۔ اب تک ان کی تبلیغ سے ہزاروں ہندو، دلت اور عیسائی مسلمان ہو چکے ہیں۔ جب بھی کوئی مرد یا عورت اسلام کے دائرہ میں آنا چاہتا ہے تو وہ بیانگ دہل ہر ایک سے پوچھتے ہیں کہ آپ پر کوئی معاشرتی یا مالی دباؤ تو نہیں ہے؟ آپ اپنی رضا سے دین اسلام کے حصار میں آرہے ہیں؟۔ اس صورت حال کو تمام دنیا میڈیا پر دیکھ رہی ہوتی ہے۔ جیسے ان کے پروگراموں میں ڈسپلن دیکھنے میں آیا۔ اس سے پہلے کبھی کسی بھی جماعت میں دیکھنے میں نہ آیا۔ لائنیں جو عمودی ہوتی ہیں اور متوازی بھی۔ ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کا جدید ترین نظام کسی بھی تنظیم میں یوں نہ دیکھا گیا۔
پہلے انہوں نے IRFکے نام سے ادارہ بنایا اور پھر پیس ٹی۔ وی کو انگلش، اردو، بنگلہ اور چینی زبانوں میں پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنایا۔ ان کے طریقے کے مطابق 10 کروڑ لوگوں تک بیک وقت اور بلا واسطہ دین کی دعوت پہنچتی تھی۔ ان کے قائم کردہ اسلامک انٹرنیشنل سکولوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ بھارت سے باہر بہت سے مسلم ممالک میں تعلیمی ادارے قائم ہو چکے تھے۔ تیزی سے پھیلتے دین اسلام کے اس موثر پیغام کو مودی سرکار برداشت نہ کر سکی۔ ایک سال پہلے ڈھاکہ ریسٹورنٹ میں ہونے والے واقعہ کو بھارتی حکومت نے بہانہ بنایا۔ عالمی مبلغ اسلام پر بے شمار الزامات لگائے گئے۔ یہ کہ دھماکہ کرنے والے ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔ ساتھ ہی منی لانڈرنگ کا کیس بنا دیا گیا۔ اور یہ بھی کہ وہ بھارت میں فرقہ وارانہ اختلافات کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ تمام باتیں جھوٹ پر مبنی تھیں۔ انڈین ایجنسی NIAنے FIR درج کرا دی۔ سمن جاری ہونے شروع ہوئے اور آخر میں اب ریڈوارنٹ جاری کرکے انٹرپول سے رابطہ کی کوشش جاری ہے۔
جب ذاکر نائیک پر ریاست کی طرف سے الزامات لگنے شروع ہوئے تو وہ پہلے ہی سعودی عرب میں تھے۔ عرب امارات، انڈونیشیاءاور اب 
ایک خطرہ البتہ بہت شدید ہوگا اگر بھارت نے اقوام متحدہ کے ارکان سے ملکر کر عالمی پابندیاں لگادیں۔ تو پھر اس عالمی مبلغ اسلام کا کام ضرور متاثر ہو گا۔ مسلم ممالک کو اقوام متحدہ میں ایسی پیش کردہ قرارداد کو مسترد کروانے کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ ان کی تقریروں، لیکچرز، آڈیوز اور ویڈیوز سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ بھارت میں فرقہ واریت اور دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے جب بھی پیغام دیا صرف اور صرف امن کا پیغام دیا۔ آپس میں مل جل کر رہنے کا درس دیا۔ ان کی ایک ایسی ویڈیو بھی دیکھی گئی کہ جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کے مسلمان اور ہندو اگر آپس میں متحد ہو کر رہیں تو بھارت بہت جلد دنیا کی سپر پاور بن سکتا ہے۔ خودکش دھماکوں کی مذمت انہوں نے اپنے پروگراموں میں کئی دفعہ کی۔ فرانس اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کی خصوصی مذمت کی گئی۔ انہیں چند سال پہلے سعودی عرب کی طرف سے دین اسلام کی خدمات پر”کنگ فیصل ایوارڈ”دیاگیا۔ ملائیشیا کے مسلمانوں نے بھی ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے خصوصی ایوارڈ سے نوازا۔ وہ قرآن و سنت کے حوالوں سے اسلام کی دعوت کو پھیلا رہے ہیں۔ انہیں انگریزی کے علاوہ بہت سی زبانوں پر دسترس حاصل ہے۔ تیزی سے انگریزی بولتے بولتے وہ اچانک قرآنی آیت کا بالکل درست حوالہ دیکر اپنے موضوع کو واضح کردیتے ہیں۔
مسلمانوں میں ایک ترتیب سے قرآن پڑھتے ہوئے حفاظ تو بہت دیکھے ہیں لیکن موضوع سے متعلقہ قرآنی آیات و صحیح حدیث کے حوالے 

