عبداللہ حسین سے ایک نصف صدی پرانا نایاب انٹرویو

جواب: مجھے جو بات سب سے اہم معلوم ہوتی ہے، وہ خودداری یا غیرت مندی کا مسئلہ ہے۔ ہمارے مزدور اور مکینک اور مستری خودداری کے احساس کو کھو چکے ہیں۔ اس کے برعکس امریکی مزدور بڑے خوددار ہوتے ہیں۔ اس خودداری کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری اور مستعدی سے کرتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دن میں جتنا کام ان کے ذمے ہو وہ اسے ختم کر کے جائیں۔ آج کا کام کل پر چھوڑنا۔۔۔ یہ انہیں نہیں آتا۔ دراصل اپنی عزت آپ کرنے کا احساس ہی ایسی چیز ہے جو ہمیں راستبازی سے فرائض انجام دینا سکھاتا ہے، جو آدمی غیرت مند ہو وہ اس امر کی تاب نہیں لا سکتا کہ کوئی دوسرا اس کی بے عزتی کرے۔ اس کی ہر ممکن کوشش یہی ہو گی کہ وہ کام کو خوش اسلوبی سے انجام دے اور افسرانِ بالا کو بگڑنے کا موقع نہ دے۔
سوال: آپ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے مزدور خوددار نہیں ہیں اور امریکی مزدور خوددار ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
جواب: امریکا کے معاشرتی طبقوں کے معیارِ زندگی میں فرق تو ضرور ہے مگر بہت بڑا فرق نہیں۔ مثلاً فیکٹری کے افسر کار میں بیٹھ کر کام پر آتے ہیں۔ اکثر مزدور بھی اپنی کاروں میں کام پر آتے ہیں۔ افسروں اور مزدوروں دونوں ہی کے گھروں میں ٹیلی وژن، ریفریجریٹر اور ٹیلی فون وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ اس بنا پر نہ تو افسر مزدوروں کو بہت گھٹیا اور حقیر مخلوق سمجھتے ہیں اور نہ مزدور افسروں کو اَن داتا۔ خاصا برابری کا سلوک ہوتا ہے۔ مزدوروں کو انسان سمجھا جاتا ہے۔
سوال: گویا آپ کے نزدیک یہ ایک معاشری مسئلہ ہے؟
جواب: میرے نزدیک تو یہ صنعتی مسئلہ ہے۔
سوال: وہ کیسے؟
جواب: سنیئے، افسر مزدوروں کو آدمی نہیں سمجھتے۔ مزدور بھی خود کو آدمی نہیں سمجھتے۔ کام سے جی چرانا ان کی عادت بن جاتا ہے۔ مارپیٹ، ڈانٹ پھٹکار کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان باتوں سے تو صرف غیرت مند آدمی ہی گھبراتا ہے۔ جب مزدور کام نہیں کرتے تو اس سے کارگزاری پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ در حقیقت جب تک یہ یہ صورتِ حال نہیں بدلے گی ہماری صنعتی کارگزاری دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے ہمیشہ پست رہے گی۔
میری رائے میں معیارِ زندگی کو بلند کرنا بہت بعد کی بات ہے۔ سب سے پہلے ہمیں سلیم الطبع انسان بن کر اپنا معیارِ طرز عمل بلند کرنا چاہیے۔ جب تک ہم فیکٹری میں کام کرنے والوں کو یہ باور نہیں کرائیں گے کہ وہ انسان ہیں اور باعزت آدمی ہیں ہماری صنعت و حرفت خاطر خواہ ترقی نہیں کر سکے گی۔ پہلے ان کی خودداری بحال کیجئے، پھر معیارِ زندگی بلند کرنے کی فکر کی جا سکتی ہے۔
سوال: خودداری کے فقدان کا نکتہ آپ نے اچھا ڈھونڈا۔ کیا اسی کے اثرات آپ کو ہماری معاشرتی زندگی میں بھی نظر آتے ہیں یا یہ کیفیت 
جواب: میرا خیال ہے کہ یہ ہماری معاشرتی زندگی پر بھی محیط ہے اور ایک نوعیت کا ذہنی مزاج ہے جس میں بزرگ اور اعلٰے طبقے کے لوگ اپنے چھوٹوں یا ادنیٰ طبقے کے لوگوں کا وجود تسلیم کرنے سے یا اس وجود کو کوئی اہمیت دینے سے منکر ہو جاتے ہیں۔ اپنے سے چھوٹوں کو بے حقیقت سمجھنے کا یہ چکر بچپن میں گھر سے شروع ہوتا ہے اور سکولوں اور کالجوں تک چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ آدمی ذہنی طور پر ۔۔۔ رہ جاتا ہے۔
بچے کا سب سے فطری جذبہ تجسس ہے۔ وہ ہر چیز کے بارے میں کچھ نہ کچھ جاننا چاہتا ہے۔ ہمارے ملک میں عموماً ان سوالات کے جوابات نہیں دیے جاتے۔ بچے کو جھڑک یا ٹال دیتے ہیں۔ یہ تو بچپن کی بات تھی۔ لڑکپن میں کسی معاملے یمں لڑکے یا لڑکی کی رائے کو وقیع سمجھنا تو درکنار سننے کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا، چاہے وہ رائے بڑوں کی رائے سے زیادہ وزن دار ہو۔ سکولوں اور کالجوں میں بھی استاد اور پروفیسر شاگردوں کے سوالات اور آراء کا کم ہی احترام کرتے ہیں۔ اس سے خودداری مجروع ہوتی ہو یا نہ ہوتی ہو خود اعتمادی میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
امریکا میں اپنی ذات کے اظہار کو کچلا نہیں جاتا۔ میں نے وہاں سکول کے طالب علموں کو اپنے استادوں سے اس طرح سوال کرتے دیکھا ہے کہ اگر ویسی ہی بات کوئی طالب علم یہاں اُستاد سے پوچھ بیٹھے تو اُستاد ہمیشہ کے لیے اس کا دشمن بن جائے۔
میری یہ باتیں شاید کچھ دُوراز کار معلوم ہوں اس لیے میں اس کا ثبوت خود ’’نصرت‘‘ ہی سے پیش کروں گا۔ اسی سال نصرت کے ’’شمارۂ آزادی‘‘ میں کرنل محمد خاں کا، جو خود ماہر تعلیم ہیں، مضمون ’’جب لفیٹنی نازل ہو گئی‘‘ چھپا تھا۔ اس کے ایک حصے کو میں اپنی تائید میں پیش کر سکتا ہوں۔
’’لیکن ہم نے اپنے استادوں کی نسبت اپنے انگریز ہم جماعتوں سے وہ کچھ یکھا جس کی آج تک خبر نہ تھی۔۔۔ یوں تو ہم سب برابر تھے لیکن 
تو یہ تھے وہ دو مسائل جو میری نظر میں اہم ہیں: خودداری کی کمی! خود اعتمادی کی کمی!
٭٭٭ ٭٭٭
(عبداللہ حسین سے یہ انٹرویو محمد سلیم الرحمٰن نے لیا اور یہ ہفت روزہ ’’نصرت ‘‘ میں 25دسمبر 1961 کے شمارے میں شائع ہوا)

