دولھا

تحریر: ناڈین گورڈیمر (جنوبی افریقہ) مترجم: محمد سلیم الرحمٰن اُس سہہ پہر اس نے آخری بار اپنے سرِراہ ڈیرے میں قدم رکھا۔ صفائی ستھرائی کے لحاظ سے کوئی گھر کبھی اس ڈیرے کے پاسنگ کو نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اردگرد کی کھلی جگہ میں ریت ہموار کرکے بچھا ہوا، پانی کے ڈرم ترپال کے نیچے…

Read more

غازی صاحب کا شہد کا چھتّا

برصغیر پاک و ہند میں خطوط لکھے جانا کا سنہرا دور 1857ء کے بعد شروع ہوا اور تقریباً 2000ء میں تمام ہوا۔ سیل فون، ای میل وغیرہ جیسی جدتوں اور بدعتوں کی موجودگی میں اب کون خط لکھنے کا تکلف کرے گا۔ دنیا کے ہر گوشے میں آپ جس سے چاہیں، جب چاہیں، فی الفور…

Read more

محمد عمر میمن …. اور ادیبوں کا شیش محل

محمد عمر میمن مدت سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ شاید ایک صدی ہونے کو آئی۔ لیکن ٹھیریے۔ بہت سنجیدہ آدمی ہیں۔ بگڑ نہ جائیں۔ کم از کم پچاس برس سے امریکہ میں ٹکے ہوے ہیں۔ اب تو پروفیسر امیریطس بھی ہو گئے۔ اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو میں بہت تراجم کیے۔ اس لحاظ…

Read more

نفسیات کی خورد بین اور شاعری

عنبرین منیر نے ایک خاصے مشکل اور بہت مبسوط موضوع سے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ اس موضوع سے انصاف کرنے کے لیے ایک کتاب ناکافی ہے۔ بہرحال، ان حدود کا خیال رکھنا ہو گا، جو مصنفہ کے مدِ نظر رہیں۔ یہ تحقیقی مقالہ ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے کے لیے قلم بند کیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے اسے تشفی بخش جائزہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ جن شاعروں کا یہاں ذکر ہے، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر دس بارہ سربرآوردہ شاعروں کے کلام کو سامنے رکھا جاتا، تو کام بہتر ہو سکتا تھا، آسان شاید پھر بھی نہ ہوتا۔ جو بھی سہی، مصنفہ کی محنت کی داد دینی چاہیے۔

Read more

یاد کرنے کے سو بہانے ہیں

عباس اطہر سے پہلی ملاقات 1961 میں ہفت روزہ ”نصرت“ کے دفتر میں ہوئی جو لاہور ہوٹل کے پاس تھا۔ میں حنیف رامے کے معاون کے طور پر ہفت روزہ سے منسلک تھا۔ ہر شمارے میں دو صفحے شاعری کے لیے مختص تھے۔ اب یاد نہیں کہ عباس اطہر کی کتنی نظمیں ”نصرت“ میں شائع…

Read more

فوٹو گرافی کے بارے میں چند باتیں

جینے کا مطلب کیا ہے، جینے سے کیا مراد ہے؟ زندہ رہنے کے لیے، دوسروں سے نباہ کرنے کی غرض سے روز طرح طرح کے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ جو بہت سی باتیں ذہن میں آتی ہیں اُن میں سے کسی ایک کو ہم چُن لیتے ہیں۔ زندگی یوں نظر آتی ہے جیسے چُناوٹوں کا…

Read more

انیسویں صدی میں اُردو ناول

1857ء میں جو کچھ پیش آیا، اسے خواہ کسی عنوان سے یاد کیا جائے، غدر یا بغاوت یا جنگِ آزادی، اس نے مسلمانوں کو بالخصوص مایوس اور شرمندہ کیا۔ بعض اسے رضائے الٰہی سمجھ کر صابرانہ انداز میں چپ ہو گئے۔ بعض نے اپنی شکست کے اسباب پر غور و خوض کیا اور اس نتیجے…

Read more

روٹھی دنیا سے راضی کہانیاں

کہانی ملا نہیں کرتی، اسے بھگا کر لانا پڑتا ہے۔ اس کے گھر کے صحن میں، جو دنیا سے بھی زیادہ وسیع ہے، قدم رکھو تو وہ بالوں میں کنگھی کرتی نظر آئے گی۔ بالوں میں پھولوں کی جگہ ستارے دمکتے دکھائی دیں گے۔ تم کہو گے: ”میرے ساتھ چلو۔ ‘‘ وہ کہے گی: ”چلو۔…

Read more

یاد رکھنے کے بہانے

خواجہ محمد ذکریا نے جن صاحبان کی آنکھیں دیکھی ہیں، جن سے پڑھا اور سیکھا ہے، فیض حاصل کیا ہے۔ اب ان کی مثال ملنی مشکل ہے۔ یہ نری قنوطیت کا اظہار نہیں، حقیقت کا اعتراف ہے۔ تعلیمی میدان میں ہم مسلسل زوال آمادہ ہیں اور کہا نہیں جا سکتا کہ پستی کی یہ رو…

Read more

تحصیل…  ایک غیر سرکاری تحقیقی مجلّہ

پاکستان کی علمی فضا، اگر ایسی کوئی فضا ہے، سائنسی یا انسانی علوم کے لیے ساز گار نہیں۔ مولوی عبدالحق نے پاکستان آکر دوسہ ماہی رسالوں کی اشاعت کا آغاز کیا تھا۔ ایک سائنس سے اور دوسرا معاشیات سے متعلق تھا۔ وہ چند شمارے ہی شائع کر سکے۔ یا تو قارئین نے دلچسپی ظاہر نہیں…

Read more