کہاں تک سنائیں

یہ بات تو طے ہے۔ دنیا بے شک سیکڑوں ملکوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر ملک میں کسی نہ کسی قسم کی اچھی بری حکومت ہے۔ لیکن حقیقت میں، پچھلے پانچ ہزار برس سے، دنیا ایک ہی ملک ہے اور اس ملک پر آمرانہ طرز کی حکومت ہے اور یہ آمرانہ حکومت مردوں کی ہے۔ قبلِ تاریخ زمانے میں، جس کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں، صورتِ حال کیا تھی، ہمیں نہیں معلوم۔ بعض محققین کی طرف سے دعوے

Read more

جی میں کس کا تصور آ گیا

اس سے پہلے شاہد ملک کے کالم پڑھنے کو ملے تھے۔ اب ان کی ایک اور کتاب سامنے آئی ہے جو خاکوں پر مشتمل ہے۔ اخباروں کے لیے کالم لکھنے میں یہ دقت ضرور ہے کہ کالم کے لیے جگہ مقرر ہوتی ہے۔ دو تین سطریں کم یا زیادہ ہو جائیں تو مضائقہ نہیں۔ بعض اوقات کالم کے آخر میں “جاری ہے” لکھ کر اسے طول دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہ مضمون کی شکل اختیار کر لیتا ہے

Read more

غلام عباس کے افسانے: حاصل ہے پشیمانی

غلام عباس ان با کمال فکشن نگاروں میں شامل ہیں جن کے افسانے ہر نئے افسانہ نگار کو ایک مرتبہ غور سے پڑھنے چاہئیں۔ چاہے وہ ان کی طرح حقیقت پسندانہ روش اختیار کرنا چاہتا ہو، چاہے کسی نئے رنگ کو اپنانے کے لیے کوشاں ہو، غلام عباس سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتا ہے۔ غلام عباس کی زبان اور بیانیہ قابلِ توجہ ہیں۔ یہاں صفائی اور سادگی سے واسطہ رکھا گیا ہے۔ ان کے ہاں کوئی عبارت آرائی نہیں،

Read more

دولھا

تحریر: ناڈین گورڈیمر (جنوبی افریقہ) مترجم: محمد سلیم الرحمٰن اُس سہہ پہر اس نے آخری بار اپنے سرِراہ ڈیرے میں قدم رکھا۔ صفائی ستھرائی کے لحاظ سے کوئی گھر کبھی اس ڈیرے کے پاسنگ کو نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اردگرد کی کھلی جگہ میں ریت ہموار کرکے بچھا ہوا، پانی کے ڈرم ترپال کے نیچے دھرے، گرمی سے بچاؤ کی خاطر خیمے کے پردے گرے ہوئے۔ تیس گز پرے ایک کالی عورت گھٹنوں کے بل جھکی مکئی کوٹتی ہوئی اور

Read more

غازی صاحب کا شہد کا چھتّا

برصغیر پاک و ہند میں خطوط لکھے جانا کا سنہرا دور 1857ء کے بعد شروع ہوا اور تقریباً 2000ء میں تمام ہوا۔ سیل فون، ای میل وغیرہ جیسی جدتوں اور بدعتوں کی موجودگی میں اب کون خط لکھنے کا تکلف کرے گا۔ دنیا کے ہر گوشے میں آپ جس سے چاہیں، جب چاہیں، فی الفور مخاطب ہو سکتے ہیں۔ یہ سہولتیں، یہ رعایتیں پہلے کہاں تھیں۔ ان چیزوں کو ایجاد کرنے والے یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوں گے:

Read more

محمد عمر میمن …. اور ادیبوں کا شیش محل

محمد عمر میمن مدت سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ شاید ایک صدی ہونے کو آئی۔ لیکن ٹھیریے۔ بہت سنجیدہ آدمی ہیں۔ بگڑ نہ جائیں۔ کم از کم پچاس برس سے امریکہ میں ٹکے ہوے ہیں۔ اب تو پروفیسر امیریطس بھی ہو گئے۔ اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو میں بہت تراجم کیے۔ اس لحاظ سے اس وقت اردو دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ انتظار حسین، عبداللہ حسین اور نیر مسعود، پر خاص طور پر مہربان رہے۔ پہلے

Read more

نفسیات کی خورد بین اور شاعری

عنبرین منیر نے ایک خاصے مشکل اور بہت مبسوط موضوع سے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ اس موضوع سے انصاف کرنے کے لیے ایک کتاب ناکافی ہے۔ بہرحال، ان حدود کا خیال رکھنا ہو گا، جو مصنفہ کے مدِ نظر رہیں۔ یہ تحقیقی مقالہ ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے کے لیے قلم بند کیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے اسے تشفی بخش جائزہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ جن شاعروں کا یہاں ذکر ہے، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر دس بارہ سربرآوردہ شاعروں کے کلام کو سامنے رکھا جاتا، تو کام بہتر ہو سکتا تھا، آسان شاید پھر بھی نہ ہوتا۔ جو بھی سہی، مصنفہ کی محنت کی داد دینی چاہیے۔

Read more

یاد کرنے کے سو بہانے ہیں

عباس اطہر سے پہلی ملاقات 1961 میں ہفت روزہ ”نصرت“ کے دفتر میں ہوئی جو لاہور ہوٹل کے پاس تھا۔ میں حنیف رامے کے معاون کے طور پر ہفت روزہ سے منسلک تھا۔ ہر شمارے میں دو صفحے شاعری کے لیے مختص تھے۔ اب یاد نہیں کہ عباس اطہر کی کتنی نظمیں ”نصرت“ میں شائع ہوئیں۔ ایک دن عباس میرے پاس آیا تو خوش معلوم نہ ہوا۔ کہنے لگا کہ ”میں نے جو نئی نظم لکھی ہے وہ حنیف صاحب

Read more

فوٹو گرافی کے بارے میں چند باتیں

جینے کا مطلب کیا ہے، جینے سے کیا مراد ہے؟ زندہ رہنے کے لیے، دوسروں سے نباہ کرنے کی غرض سے روز طرح طرح کے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ جو بہت سی باتیں ذہن میں آتی ہیں اُن میں سے کسی ایک کو ہم چُن لیتے ہیں۔ زندگی یوں نظر آتی ہے جیسے چُناوٹوں کا کوئی اٹمبار ہو۔ اچھی یا صحیح چناوٹیں، بری یا غلط چناوٹیں۔ بعض دفعہ ہم پوری طرح سوچ سمجھ کر کچھ چنتے ہیں۔ بعض اوقات اس

Read more

انیسویں صدی میں اُردو ناول

1857ء میں جو کچھ پیش آیا، اسے خواہ کسی عنوان سے یاد کیا جائے، غدر یا بغاوت یا جنگِ آزادی، اس نے مسلمانوں کو بالخصوص مایوس اور شرمندہ کیا۔ بعض اسے رضائے الٰہی سمجھ کر صابرانہ انداز میں چپ ہو گئے۔ بعض نے اپنی شکست کے اسباب پر غور و خوض کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ضرور ہماری ثقافت میں، جس کا ادب ایک اہم حصہ تھا، کوئی بنیادی نقص ہے اوراس کی اصلاح ناگزیر ہو چکی ہے۔

Read more

روٹھی دنیا سے راضی کہانیاں

کہانی ملا نہیں کرتی، اسے بھگا کر لانا پڑتا ہے۔ اس کے گھر کے صحن میں، جو دنیا سے بھی زیادہ وسیع ہے، قدم رکھو تو وہ بالوں میں کنگھی کرتی نظر آئے گی۔ بالوں میں پھولوں کی جگہ ستارے دمکتے دکھائی دیں گے۔ تم کہو گے: ”میرے ساتھ چلو۔ ‘‘ وہ کہے گی: ”چلو۔ ‘‘ کہانی کو بھگا لینے کے شوقین کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہے گا۔ وہ اسے گھر لے آئے گا۔ اس رات اسے اتنی

Read more

یاد رکھنے کے بہانے

خواجہ محمد ذکریا نے جن صاحبان کی آنکھیں دیکھی ہیں، جن سے پڑھا اور سیکھا ہے، فیض حاصل کیا ہے۔ اب ان کی مثال ملنی مشکل ہے۔ یہ نری قنوطیت کا اظہار نہیں، حقیقت کا اعتراف ہے۔ تعلیمی میدان میں ہم مسلسل زوال آمادہ ہیں اور کہا نہیں جا سکتا کہ پستی کی یہ رو کہاں جا کر تھمے گی۔ زکریا صاحب کے کئی پہلو قابلِ ذکر ہیں۔ وہ اچھے استاد ہوں گے۔ اس بارے میں کچھ کہنے سے قاصر

Read more

تحصیل…  ایک غیر سرکاری تحقیقی مجلّہ

پاکستان کی علمی فضا، اگر ایسی کوئی فضا ہے، سائنسی یا انسانی علوم کے لیے ساز گار نہیں۔ مولوی عبدالحق نے پاکستان آکر دوسہ ماہی رسالوں کی اشاعت کا آغاز کیا تھا۔ ایک سائنس سے اور دوسرا معاشیات سے متعلق تھا۔ وہ چند شمارے ہی شائع کر سکے۔ یا تو قارئین نے دلچسپی ظاہر نہیں کی یا ان موضوعات پر باقاعدگی سے لکھنے والے دستیاب نہ ہو پائے۔ سائنس داں یا ماہر معاشیات ہونا الگ بات ہے اور سائنسی یا

Read more

محمد عمر میمن (2018-1939)

یاد نہیں آتا کہ محمد عمر میمن کو علی گڑھ میں کبھی دیکھا ہو۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ابھی سکول میں تھا اور میں یونیورسٹی میں۔ البتہ اس کے والد عبدالعزیز میمن کو بارہا دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا اور ان کا بطور عالم شہرہ بھی سنا۔ ان کے علم و فضل کی کوئی صحیح تصویر اس وقت میرے ذہن میں نہ تھی۔ البتہ دوسروں کی طرح ان کی خست کے بارے میں مشہور جھوٹے سچے

Read more

’’فرہنگ آصفیہ‘‘ نئے لباس میں

ابتدا میں اُردو کی جو لغات سامنے آئیں، وہ غیر ملکیوں، بالخصوص انگریزوں کی مرتب کی ہوئی تھیں۔ جو قابلِ ذکر لغات ہیں وہ گلکرسٹ ، شیکسپیئر، فوربس، فیلن اور پلیٹس نے تیار کیں۔ انہوں نے مقامی زبان دانوں سے بھی مدد لی۔ انگریزوں کو لغت نویسی کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کا کچھ اندازہ ہمیں ہے۔ لیکن اُردو بولنے والوں نے اس طرف توجہ کیوں نہ دی، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ یہ بھی نہیں

Read more