کنڈیارو سے گوادر تک، محنت کش کا لہو ارزاں ہے

اس مزدوری کی مد میں ملنے والی رقم سے کچھ امیدیں بندھی ہوتی ہیں، کچھ ضروریات کے پورا ہونے کی توقع ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی آنکھوں میں کچھ خواب ہوتے ہیں، کچھ ارادے جو باندھے ہوں، جن کی تکمیل کی خواہش ہو۔ وہ دعائیں جو ان کی سلامتی کے لیے کی جاتی ہیں، وہ آنسو جو ان کی یاد میں آنگن میں بیٹھے بہائے جاتے ہیں، وہ امید جو کسی کے لوٹ آنے کی ہوتی ہے، وہ توقعات جو اُس سے لگائی ہوتی ہیں، یوں اچانک بلاجواز کسی سے جینے کا حق چھین لینا، اس سے بڑا جرم اور کیا ہو سکتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والے بھی اس اچانک ہو جانے والے سانحے کو بھلا نا پائیں، اور جو مارا گیا شاید اس کی آنکھوں کی حیرت کبھی بھلائی نہ جا سکے کہ اسے کس جرم میں مارا گیا۔ ایسے اچانک مرنے والوں سے سیّد کاشف رضا کی ایک نظم یاد آتی ہے
اچانک مر جانے والوں کے نام
موت ایک اہم کام ہے
اسے یک سُو ہو کر کرنا چاہیئے
یا سارے کام نمٹا کر
کسی کاروباری سودے سے پہلے
انتخابی مہم کے دوران
اور نظم کے وسط میں
موت نہیں آنی چاہیئے
موت سے پہلے
ارادے پورے کر لینے چاہیئں
انہیں دریا میں پھینک دینا چاہیئے
یا انہیں وصیّت میں لکھ دینا چاہیئے
ایسا کرنے والے
اُداس ہو کر مرتے ہیں
اور اُن کی موت
اُتنی افسوسناک نہیں ہوتی
جتنی اُن کی
جو موت سے پہلے اپنے کام نہیں نمٹاتے
اور حیران ہو کر مر جاتے ہیں

