استاد جھنڈے خاں: ایک بے مثل نغمہ کار

انگریزی عہد میں عوام کے ذوق موسیقی کی تسکین کے لئے تھیٹر میں زیادہ سے زیادہ موسیقی شامل کی جانے لگی۔ پارسی تھیٹرِیکل کمپنیوں میں جو گانے پیش کئے گئے ان کی بنیاد ہماری کلاسیکی موسیقی یعنی راگ راگنیوں پر ہی ہوتی تھی اس سے ہماری موسیقی میں نئے انداز کے گانے کااضافہ ہوا۔ تھیٹر کی موسیقی میں راگ راگنیوں اور تالوں کے ساتھ نئے نئے اور کامیاب تجربے کےے جانے لگے۔
ممتاز دانشور موسیقار شاہد احمد دہلوی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ”تھیٹرِیکل کمپنیوں میں تلاش کرکے اچھے ایکٹروں کے ساتھ ساتھ اچھے موسیقار اور موسیقی ساز رکھے گئے۔ ان سے ڈرامے کے مختلف مواقع دے کہ دھنیں بنوائی گئیں۔ منشیوں یا شاعروں سے ان دھنوں پر بول کہلوائے گئے۔ کبھی دھن پہلے بنائی گئی اور کبھی بول پہلے کہلوائے گئے اور دونوں کا امتزاج اس طرح کیا گیا کہ تاثر دو آتشہ ہو جائے۔ بیتاب اور احسن ہی کے زمانے میں آغا حشر نے اپنی جنبش قلم سے جادو کرنے شروع کر دئےے تھے۔ آغا حشر نظم ونثر دونوں پر پوری قدرت رکھتے تھے۔ اُنہوں نے جہاں دوسرے موسیقاروں سے اپنے ڈراموں کے گانوں کی دھنیں اپنی نگرانی میں بنوائیں وہاں ایک بے مثل نغمہ کار و نغمہ ساز اُستاد جھنڈے خاں کو بھی اُنہوں نے ہی تلاش کیا۔ اُستاد جھنڈے خاں تھیٹرکی موسیقی میں غیر فانی یاد گاریں چھوڑ گئے۔ اس عظیم فن کار کا انتقال 10 اکتوبر1951ء کو ہوا۔“
عظیم موسیقار استاد جھنڈے خاں کا اصل نام میاں غلام مصطفی تھا۔ ان کا تعلق جموں کے ایک گاﺅں کوٹلی اوکھلاں سے تھا۔ اُنہوں نے برال 
استاد جھنڈے خاں نے اسٹیج اور تھیٹر کے ختم ہونے کے بعد فلموں کی موسیقی کی طرف توجہ دی اور 1931ء میں دیوی دیویانی، 1932ء میں رادھا رانی، 1934 میں ویر ببرووھان، 1936ء میں پربھوکا پیار، 1943ءمیں شہنشاہ اکبر جیسی تیس سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ اپنی زندگی اہم موڑ پر 1941ء میں استاد جھنڈے خاں نے بے مثل فنی کرشمہ بھی کر دکھایا اور ہدایتکار کیدار شرما کی فلم”چترلیکھا“ جو باکھ وتی چرم ورما کے اسی نام سے لکھے ناول پر مبنی تھی۔ اس فلم کی تمام دھنیں ایک ہی راگ بھیرویں میں ترتیب دیں۔ بھیرویں جسے بذاتِ خود ایک ٹھاٹھ تسلیم کیا جاتا ہے۔بھیرویں راگنی کے نام سے موسوم ہے بھیرویں سمپورن یعنی سات سروں کی راگنی ہے۔ اس راگنی میں تمام تر سُر کومل یعنی اُترے ہوئے لگتے ہیں۔ فلم میں سُر ایک ہی تھے لیکن استاد نے اسکے زیر و بم میں ایسا تنوع رکھا کہ محسوس ہی نہ ہوتا تھا کہ سننے والا ایک ہی راگ سن رہا ہے۔استاد جھنڈے خاں نے اپنے فنی کمالات سے فلمی موسیقی کو بامِ عروج پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کرکے خوب عزت و شہرت کمائی۔ برصغیر کی فلمی موسیقی میں انکے فنی اجتہادات رہبری کی حیثیت رکھتے ہیں۔Duke Ellingtonکی یہ بات استاد جھنڈے خاں کی فنی مہارتوں کو دیکھ کر خوب یاد آتی ہے کہ :
The wise musicians are those who play what they can master.
قیام پاکستان کے بعد استاد جھنڈے خاں ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہوئے۔ وہیں آخری سال گذارے اور گوجرانوالہ میں ہی 11 اکتوبر 1952ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ شاہد دہلوی نے ان کی تاریخ وفات10اکتوبر1951ءلکھی ہے جو کہ درست نہیں۔ ”قند“ کے ڈرامہ نمبر1961میں ایوب اولیا نے استاد جھنڈے خاں پر اپنے مضمون میں تاریخِ وفات 11اکتوبر1952ءرقم کی ہے جوکہ درست ہے۔

