پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم

تشویش کی بات یہ ہے کہ قوم کے درد میں مبتلا بعض نام نہاد دانشوروں اور سیاسی یتیموں کا یہ ٹولہ تو ہیجان میں مبتلا ہے ہی لیکن عقل و شعور سے عاری بعض افراد نے ٹویٹ کی واپسی کے معاملے پر پاک فوج کے سپہ سالار کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک غلیظ مہم شروع کر دی ہے۔ ایسے ایسے گھٹیا الفاظ استعمال کئے جارہے ہیں جو اس کالم میں بیان کرنا ممکن نہیں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ جمہوریت کے لئے اس نیک شگون کو یہ طبقہ پاک فوج کی شکست سے تعبیر کر رہا ہے جو دو ر کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ ایک سرمایہ دار کے نذرانے پر گزار اکرنے والے دانشور نے تو یہاں تک فرما دیا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے آرمی چیف جنرل باجوہ کو نکرے لگا کر ملک کا بہت بڑ ا نقصان کر دیا ہے۔ میراخیا ل ہے یہ بہت نامناسب اور حقائق کے برعکس تجزیہ ہے اور اس طرح کی باتیں کرنے والے تبصرہ نگاروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ آمریت کی چھتری میں پناہ ڈھونڈنے والے غیر مقبول سیاستدان ہوں یا خود ساختہ دانشور اور دفاعی تجزیہ کار ان کی مناسب گوشمالی لازم ہے۔ایک وقت تھا کہ فوجی وردی پہن کر شہر میں نکلنا جوئے شیر لانا تھا ، خدا خدا کرکے فوج کے تشخص کی بہتری کا عمل جاری ہوا ہے تو اس کو جاری رہنا چاہیے۔ ایک ادارہ اگر اپنی غیر ضروری اورغیر پیشہ ورانہ وراثت سے عملی طو رپر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے آئین کی سربلندی کی راہ پر گامزن ہوا ہے تو اس عمل میں اس کی دامے درمے قدمے سخنے مدد کی جانی چاہیے نہ کہ زبان طعن دراز کی جائے۔ خاکسار نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ افراد یا اداروں سے غلطیاں سر زد ہونا عین ممکن ہے لیکن چند جرنیلوں کی بداعمالیوں کا بوجھ پورے ادارے پر ڈالنا انتہائی ناانصافی ہے اورپھر ایک ایسے وقت میں جب وہ ادارہ اپنے آئینی کردار کی ادائیگی اورجمہوریت کی سربلندی کے لئے پرعز م ہے۔
تن پر سجی وردی اور کندھے پر لگے ستارے بہت بھلے لگتے ہیں لیکن سینے پر گولی کھانا کوئی آسان کام نہیں ،پاک فوج ایک ایسی عسکری طاقت ہے جو دنیا بھر میں کم ترین وسائل میں بہترین نتائج دینے کی صلاحیت کا بھرپور مظاہر ہ کر رہی ہے۔ اندرون ملک دہشتگردوں کی بیخ کنی ہو یا سرحدوں پر لاحق خطرات کا مقابلہ پاک فوج نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا بلکہ قدرتی آفات اور مردم شماری جیسے معاملات میں بھی قوم کی بھرپور خدمت کی۔ غلطیاں اپنی جگہ لیکن ایوب خان ، یحیی خان ، ضیا ءالحق یا پرویز مشرف کے کئے کی سزا کسی دوسرے کو نہیں دی جاسکتی۔ وقت گزر گیا اور یہ چاروں آمر اب تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ ایک کمانڈوتو عبرت کا ایسا نشان ہے جس کی ٹانگین وطن واپسی کے تصور سے کانپتی ہیں اوراس میں بہت نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے۔یہ تاریخ کاجبر اور جمہوریت کا حسن ہے جو عوام کے ووٹ کی طاقت سے جنم لیتا ہے ناکہ کسی آمر کے مکے سے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کوپاک فوج کی بدنامی کا باعث بننے والی اس ناپاک سازش کی طرف بروقت توجہ کرنی چاہیے اور جو افراد سوشل میڈیا پر فوج یا اس کے سپہ سالار کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کر رہے ہیں ان کے خلاف سختی سے نمٹنا چاہیے۔وقت آگیا ہے کہ ریاست بروئے کار آئے اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی کی جائے۔ کسی بھی شخص کو چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہواس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ریاست کے اداروں کے خلاف زہر اگلتا پھرے۔ صحافتی حلقوں ، اساتذہ اور دانشوروں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس معاملے میں قوم کی رہنمائی اور تربیت کی ذمہ داری پوری کریں۔ سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والوں کی غالب اکثریت کا تعلق تعلیم یافتہ افراد سے ہے اور اگر قوم کا یہ طبقہ ہی ذمہ داری کا مظاہر ہ نہیں کرے گا تو غربت کی چکی میں پستے بے شمار مسائل سے لڑتے بھولے بھالے عوام سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
حالات سیاسی حلقوں سے جس قدر ذمہ داری اور بالغ نظری کا تقاضا کر رہے ہیں ان پر پورا اترنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے ،کوئی بھی دوسرا راستہ ہمیں امن و خوشحالی اور ترقی کی راہ سے ہٹا سکتا ہے۔ وطن عزیز جمہوریت کی پٹڑی پر رواں دواں ہے اورآئندہ الیکشن اب زیادہ دور نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت ہر ایک کو اپنے کئے کی سزا یا جزا کو قبول کرنا پڑے گا۔ دہشتگردی کے عفریت پر بڑی حد تک قابو پایا جاچکا لیکن لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں پوری طاقت اور بالغ نظری کے ساتھ پائیدار امن اورملکی ترقی کی راہ میں حائل دہشتگردی کے کانٹوں کو چن کر الگ کرنا ہے اور یہ کام اتحاد سے ممکن ہے نہ کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے۔مہنگائی کا جن اس طرح قابو میں نہیں آسکا جس کی عوام کو حکومت سے توقع تھی اور بجلی کا بحران بھی ابھی پوری طرح ختم نہیں کیا جاسکا۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق رواں سال کے اختتام یا آئندہ برس کے اوائل میں قوم کو لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کی خوشخبری سنائے بصورت دیگر عوام بہترین منصف کا کردار ادا کریں گے۔ اپوزیشن کوبھی قومی سیاست میں اپنا کردار مثبت طریقے سے اد ا کرنا چاہیے ،کرپشن کے خلاف بات کرنا سوفیصد درست اقدام ہے لیکن اچھی اور شفاف حکمرانی کی کونپل جمہوریت کے پودے پر ہی پھوٹے گی نہ کہ آمریت کے بدبودار گٹر میں، اس بات کا ادراک جس قدر جلد ہوجائے اچھا ہے کہ ہر مشکل وقت میں ایک نادیدہ ایمپائر کی طرف منہ کر کے دہائیاں دینا بالغ نظری کی نہیں بے وقوفی اورناسمجھی کی علامت ہے۔

