طلبہ تنظمیوں میں تصادم، ذمہ دار کون؟

کسی بھی باشعور ملک میں طلبا تنظیموں کا کردار انتہائی اہم اور معاشرے کیلئے فعال مانا جاتا ہے۔ انتظامی طور پر طلبا تنظیمیں اپنی اپنی جامعات میں ہر فعال کمیٹی کا حصہ ہوتی ہیں۔ جن کا مقصد طالبعلموں کے مسائل ان کی سوچ ان کے تعلیمی فنڈزکا استعمال ہوسٹلوں میں ان کی الاٹمنٹ، جامعہ میں کینٹینوں پر میسر کھانا اس کی کوالٹی، ٹرانسپورٹ کے ذرائع، ٹیکسوں کی کٹوتی، سے لیکر غریب طلبا کو مالی معاونت فراہم کرنا داخلے کے دنوں میں نئے آنے والے طالبعلموں کی رہنمائی کرنا سے لیکر سماجی بہبود کے کاموں میں حصہ داری تک تنظیموں میں شامل طلبا کا کردار کو واضح کرتی ہے۔
اب اگر طلبا تنظیمیں ایک دوسرے پر اسلحہ اور ڈنڈا اٹھاتی ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جو امور طلبا تنظیموں کا خاصہ ہوا کرتے تھے اب وہ صرف مار دھاڑ یا گالی گلوچ تک ہی محدود ہوگئے کیا اب کبھی میں مذہب کے نام پر اور کبھی لسانیت کے نام پر اپنے ہی ساتھیوں کو تکلیف پہنچانے پر تیار ہوں جسمانی طور پر تو جن طلبانے زخم کھائے سو کھائے ایک بڑی تعداد ایک ایسے طلبا کی بھی تھی جن کو ایک گھنٹے کے اندر اندر ہوسٹلوں کو خالی کرنے کا حکم دے کر بے گھر کر دیا گیا۔ جامعہ قائد اعظم اپنے مخصوص کوٹہ سسٹم کی وجہ سے چاروں صوبوں کی نمائندگی رکھتے ہوئے طلبا کی ایک بڑی تعداد سموئے ہوئے ہے۔ جو میلوں دور سے تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں۔ ڈگری کا خواب لیکر آنے والے طلبا میں کچھ تو ایسے ہیں کہ مہینوں گھر نہیں جا پاتے۔ وسائل کی کمی اور فاصلے ان کو ہوسٹلوں تک ہی محدود رکھتے ہیں اور گھر والوں سے دور مذہبی اور ثقاقتی تہوار ایک دوسرے کے ساتھ ہی مناتے ہیں ایسے میں ایک گھنٹے کا وقت دے کر اور غیر معینہ مدت کیلئے تعلیمی ادارے کو بند کرکے معصوم طلبا کا مستقبل داﺅ پہ لگایا گیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا جو اسلحہ ایک دوسرے پر اٹھایا گیا ایک ہی دن میں طلبا تک پہنچ گیا اور جس لسانیت کو بنیاد بنایا گیا۔ اس کیلئے برداشت کا عمل کس نے پیدا کرنا تھا؟
مشال اگر مذہب کے نام پر قتل ہوا تولسانی بنیاد پر یہ طلبا بھی تو ایک دوسرے کی جان کے درپے ہو گئے۔ پڑھے لکھے۔ لوگوں کا کردار اگر یہی ہے تو جامعات کی تربیت یہ گہرا سوال اٹھتا ہے۔ معاف کیجئے گا۔
کون سی تربیت ہم تو تعلیم کے نام پر ڈگریاں بیچ رہے ہیں۔
استاد جب یہ سمجھے گا کہ نوٹس رٹوا کر میرا فرض ادا ہو گیا اور تربیت جائے بھاڑ میں، یا پھر یہ کہ ایسے استاتذہ جو ذاتی پسندیدگی پر ڈیپارٹمنٹ میں ایسے علوم پڑھا رہے ہوں گے۔ جن پر ان کی گرفت ہی نہیں تربیت کہاں سے ہوگی۔ جہاں گاﺅں کا ماسٹر اپنے شاگرد سے ذاتی کام لیتا آپ کو برا لگتا ہے وہاں جامعات میں شاگرد استادوں کے پرچے چیک کرتا اسمائنمنٹ کے نمبر لگاتا استادوں کے ذاتی کام کرتا اور جواباً ذاتی پسندیدگی پر نمبر حاصل کرتا نظر آئے گا تو تربیت جائے تیل لینے۔
جب لسانیت کے نام پر طلبا، استادوں کو ایک دوسرے سے مسابقت میں نظر آئیں گے تو طلبا کیا سیکھیں گے۔ برداشت کا عمل جو استاد کو سکھانا چاہیے تھا۔ استاد خود اس سے بے بہرہ نظر آئیں گے۔ تو شاگرد کہاں سے فیض یاب ہوں گے۔
نوجوانوں کو قصور مت دیجئے یہ تو مہرہ ہے سیاسی بڑوں کا جو بے روزگاری کے دور میں نوجوانوں کو اسلحہ، روپے پیسے، کو گلیمر بنا کر ان مہروں کا استعمال کرتے ہیں۔ قصور تو ان استادوں کا ہے جنہوں نے تربیت سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ بات بھی آپ کے گوش گزار کرتی چلوں کہ جامعہ قائد اعظم میں کونسلوں میں موجود طلبا مخصوص لسانی گروہوں کے ممبر ز بھی نہیں ہیں۔ حالیہ تصادم کو ہی لیجئے۔ کہا گیا سندھی اور بلوچ کونسل کی لڑائی ہوئی ہے۔ سندھی کونسل میں بہت سے ممبران ایسے ہیں جو والدین کی طرف سے جنیاتی طور پر بلوچ ہیں مگر سندھ میں رہتے ہیں۔ اسی طرح الٹ کر لیجئے۔ سندھی ہیں مگر بلوچستان میں رہتے ہیں۔ تو پھر کبھی لسانی اور کبھی جغرافیائی حدود بندی پر طلبا اپنی شمولیت کو کونسلوں کا حصہ بناتے ہیں۔
تو پھر لڑائی کیسی جب ہم یہ مان لیں کہ ہم سندھی بلوچ ہیں اور پنجابی، پٹھان ہیں۔ ہم قائدین ہیں ہم پاکستان ہیں۔
