ننھا افضل، بڑا صاحب اور معجزے سے ٹپکتا لہو

باپ کے پاس جھوٹی تسلیوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا۔ روز اس کو یہ آس دیتا کہ پتر آج چودھری سے کچھ رقم ادھار مانگوں گا۔ کرمو افضل کے داخلے کے لیے کئی بار چودھری سے بات کر چکا تھا۔ پر ہر بار انکار کا ہی منہ دیکھا۔ ۔
روز جب گھڑی صبح کے سات بجاتی تو افضل اس مٹی کی ڈھیری کی طرف تیزی سے بھاگتا جو اسکول کے بالکل سامنے تھی۔ اس کی رفتار اس قدر تیز ہوتی جیسے اس کی کوئی گاڑی چھوٹنے والی ہے۔
گھر سے جو دوڑ لگاتا تو مٹی کی ڈھیری پر پہنچ کر ہی دم لیتا۔ اس کے ہم عمر بچے دو برس سے اسکول جا رہے تھے۔ روزانہ بچوں کو اسکول جاتے دیکھنا اس کی عادت بن چکی تھی ۔ پھر مٹی کے ڈھیر سے چھوٹے پتھر چنتا۔ ایک ایک کر کے کنکریوں کو زمین پر پھینکتا۔
زمین پر پتھر مارنا بے سبب نہ تھا۔ دراصل جتنی بار اس کے دل میں اسکول جانے کی خواہش مچلتی اتنی ہی زور سے کنکر زمین پر دے مارتا۔ بچوں کے کندھوں پر لٹکے ہوئے بستوں کو دیکھتا تو اپنے کندھے کو اسی طرح جھکا کر چلنے لگتا۔ کتنے بچوں کے ساتھ اس طرح چلتا ہوا اسکول کے گیٹ تک جا پہنچتا۔ اسکول کے دروازے سے پلٹتا تو اپنے آپ سے یہ سوال کرتا کہ جانے کب اسکول کا دروازہ اس کے لیے کھلے گا؟ آدھی چھٹی کے وقت اپنے ہاتھ میں روٹی کے اوپر اچار کی پھانک لیے پھر مٹی کی ڈھیری پر کھڑا ہو جاتا۔ ادھر اسکول کے بچے اپنا کھانے کا ڈبہ کھولتے تو ادھر افضل بھی اپنی بند مٹھی کھول کر اچار روٹی کا مزا لیتا۔ اس کے بعد پھر اپنی حسرتیں اپنے دامن میں سمیٹے گھر کی راہ لیتا۔
اس دن بھی افضل گھر واپس آیا تو کرمو کو دیکھتے ہی آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنا سوال دوہرا دیا۔ کرمو کو افضل کا سوال از بر تھا اور 
افضل یہ باتیں سنتے ہی اپنے باپ کے پیچھے چھپ گیا۔ چودھری کے یہ جملے کرمو کے دماغ میں ہتھوڑے بن کر لگ رہے تھے۔ کرمو "جی جو حکم سرکار” کے علاوہ کچھ کہنے کی ہمت نہ جتا پایا تھا۔ واپسی پر کرمو نے افضل کو سمجھایا کہ پتر اب تو اسکول جانے کا خواب نہ دیکھا کر۔ ہمارے پاس اسکول کی فیس دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ میں کھیتوں میں ہل چلاتا ہوں۔ دو وقت کی روٹی مشکل سے نصیب ہوتی ہے یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ سوہنا رب اگر کوئی معجزہ ہی کرے تو تیری یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے۔
افضل کو معجزے کا مطلب نہیں آتا تھا اس لیے پوچھ بیٹھا "ابا یہ کیا ہوتا ہے۔”
کرمو نے آسمان کی طرف دیکھا اور گہری سانس لے کر بولا "بس پتر یہ سمجھ لے کہ جب ہر طرف سے امید ختم ہو جاتی ہے تو رب سوہنا ہم جیسوں کی مدد کر دیتا ہے۔”
افضل کے لیے یہ خبر ایک نئی امید تھی ” ٹھیک ہے ابا کل سے میں اللہ سے پھر اس ہی موج موج جی زے (معجزے)کی دعا کروں گا۔”

"افضل پتر تو کدھر لے کر جا رہا ہے”
"ابا تو نے کہا تھا کہ کوئی موج،موج جی۔۔۔۔۔”
"ہاں پتر، معجزہ ہی ہوگا تو تو پڑھ سکے گا۔” ابا نے لمبی آہ بھری اور کہا۔
“تو پھر یہ موج موج ہونے والا ہے۔”
کرمو کو کچھ سمجھ نہ آیا اور اسی دوران افصل تیزی سے اپنی باپ کو کھیتوں سے گھسیٹتا ہوا چودھری کی حویلی تک لے آیا۔
کرمو حویلی کو دیکھتے ہی بولا "اوئے جھلیا اب یہاں کیا لینے آیا ہے”
"نہ ابا نہ میں کچھ لینے نہیں دینے آیا ہوں”
کرمو کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ "کیا دینے آیا ہے پتر”
افضل کرمو کو کھینچنے ہوئے چودھری کی گھاس کاٹنے کی مشین کے سامنے لے آیا۔ اور بولا "اپنا ہاتھ۔”
کرمو کو ابھی بھی کچھ سمجھ نہ آیا پر افضل بولتا گیا۔
"ابا تو میرا ہاتھ اس مشین سے کاٹ دے۔ اس کے بعد شامو کی طرح ہمارے گھر بھی بڑا صاحب آئے گا ۔میری اسکول کی فیس دے گا اورمیری پڑھائی کا سارا خرچہ اٹھائے گا۔ پھر ابا میں اسکول جا سکوں گا۔ ابا پھر وہ موج موج ہو جائے گا۔ ہے نا”

