بنی گالہ کے وکیل کے لئے مشکل دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کے غیرملکی فنڈز کے حصول کے خلاف اور عمران خان کی نا اہلی کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت جاری ہے، اس مقدمے سے کچھ چیزوں کے بارے میں ہمارے گمان اور مشاہدے کو یقین میں بدل دیا ہے۔ مقدمے میں درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ، تحریک انصاف کے وکیل انور منصور اور عمران خان کے وکیل نعیم بخاری عمر کے آخری حصے میں ہیں۔ نعیم بخاری کی شخصیت جوانوں جیسی ہے مگر ان تینوں وکیلوں نے ثابت کردیا ہے کہ ساٹھ برس کے عمر کے بعد یہ پیشہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ آج کی سماعت میں ’مفت‘ میں وکالت کرنے والے نعیم بخاری نے ایسے دلائل دیے کہ ججوں نے ان کی بنیاد پر درجنوں نئے سوالات اٹھا دیے۔ جلدی سے جان چھڑانے والے وکیل سے تین بار ججوں نے کہا کہ اس نکتے سے آگے بڑھنے کی بجائے ہمیں مطمئن کریں۔ سماعت کی تفصیل پڑھیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت شروع کی تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل میں کہا کہ لندن فلیٹ کے لئے آف شور کمپنی بنانے کا مقصد خرید و فروخت میں ٹیکس سے بچنا تھا، فلیٹ آسٹریلیا اور لندن کی کمائی سے خریدا، دوہزار دو کے کاغدات نامزدگی میں نیازی سروسز کمپنی کا اس لیے نہیں بتایا کہ اس کی مالیت صرف نو پاؤنڈ تھی۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ نیازی سروسز کمپنی کے دیگر اثاثے کیا تھے اس کے بارے میں کوئی قانونی دستاویز ہے تو پیش کریں۔ کیا پاکستانی قوانین کے مطابق کیا نیازی سروسز ظاہر کرنا ضروری تھی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کے بارے میں پاکستان کے قوانین کیا کہتے ہیں اس کا بھی جواب دیا جائے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سے پوچھا تھا کہ آف شور کمپنی کیا ہوتی ہے، کیسے بنائی جاتی ہے اس کے بارے میں بھی بتائیں۔

اسی دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کے حکام کو ہدایت کی کہ کمیشن کے پاس اس کیس سے متعلق جتنی بھی درخواستیں زیر سماعت ہیں اور جتنے بھی احکامات کمیشن یا اسلام آباد ہائیکورٹ نے جاری کیے ہیں وہ سپریم کورٹ کو فراہم کیے جائیں۔

وکیل نے کہاکہ عمران خان انیس سو اکیاسی سے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرا رہے ہیں، ٹیکس کی تمام تفصیلات و گوشوارے عدالت کے سامنے سربمہر لفافے میں پیش کروں گا، جج صاحبان جائزہ لے کر مجھے واپس کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ابھی تک آپ نے مہلت کا فائدہ اٹھا کر یہ چیزیں جمع نہیں کرائیں۔ نعیم بخاری نے مزید کہا کہ انیس سو تراسی میں خریدا گیا فلیٹ چونکہ بیرون ملک کمائی سے خریدا گیا اس لیے پاکستان میں ظاہر نہ کیا گیا، اسی طرح دوہزار دو تک عمران خان کسی بھی عوامی عہدے پر فائز نہ تھے، پہلی بار تیس ستمبر سنہ دو ہزار کو ٹیکس استثنا اسکیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خان نے فلیٹ ظاہر کیا تھا، سنہ اکیاسی میں ایک پاؤنڈ بیس روپے کے برابر تھا۔ وکیل نے کہاکہ اگر کوئی شخص غیر رہائشی پاکستانی ہے اور اسے بیرون ملک اثاثے یہاں ظاہر نہیں کرنے ہوتے اور اس کا فیصلہ انکم ٹیکس افسر اس کا پاسپورٹ دیکھنے کے بعد کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ بہتر یہ ہوگا جن نکات پر درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے تھے انہی نکات پر ترتیب سے جوابی دلائل دیں۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے کھڑے ہوکر بولنا شروع کر دیا، کہا کہ عمران خان نے ستانوے میں بھی الیکشن لڑا تھا اور ہار گئے تھے اس وقت کے اثاثوں کی تفصیلات بھی سامنے آنی چاہئیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کا مقدمہ دو ہزار دو کے الیکشن میں نیازی سروسز کمپنی ظاہر نہ کرنے کا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال مسکراتے ہوئے بولے کہ آپ اپنا گول پوسٹ تبدیل کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تشریف رکھیں ضرورت ہوئی تفصیلات منگوا لیں گے۔

وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ عمران خان نے دوہزار دو کے کاغذات نامزدگی فلیٹ اور اثاثے ظاہر کیے تھے انکم ٹیکس گوشواروں میں بھی لکھا تھا اور یہ سب لندن کے ٹیکس سے بچنے کے لئے تھا کیونکہ عمران وہاں کے شہری نہیں تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں تمام تفصیلات سامنے لائیں تاکہ ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو۔ وکیل نے کہا کہ اس کے لئے تفصیلی دستاویز تیار کررہے ہیں اور آئندہ سماعت پر بتائیں گے۔ ایک سوال کے جواب پر وکیل نے کہاکہ غیرملکی آمدن اور اثاثے پاکستان میں ظاہر کرنا پاکستان کے انکم ٹیکس قانون میں ضروری نہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ اس بات کو کنفرم کریں کیونکہ الیکشن کمیشن کے فارم میں معاملہ کچھ الگ نظرآتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس پر مطمئن کریں کیونکہ عمران خان کے بیان حلفی پر سوال اٹھا ہے۔ اثاثوں سے مراد اسٹاک کے شیئرز بھی ہیں، بتائیں کیا وہ ظاہر کیے تھے؟ جسٹس عمر نے کہا کہ اگر نیازی سروسز نے اپنے اثاثوں کے بارے میں لندن میں کہیں کوئی دستاویز جمع کرائی ہو تو وہ بھی دکھا دیں۔ وکیل نے کہا کہ پانامہ پیپرز سامنے آنے کے بعد ایف بی آر آف شور کمپنیوں والے پاکستانیوں کے بارے میں چھان بین کر رہا ہے، اگر عمران خان نے نیازی سروسز بنا کر اور اس کو چھپا کر کوئی غلطی کی ہے تو جرمانہ ہوجائے گا۔ چونکہ نیازی کمپنی کی مالیت صرف نو پاؤنڈ تھی اس لیے عمران خان نے اس کو بطور اثاثہ کوئی اہمیت نہ دی۔ اس کے لئے انکم ٹیکس ماہرین سے مشاورت کرکے عدالت کو مطمئن کروں گا۔

وکیل نے کہا کہ اب بنی گالہ اراضی خریداری پر دلائل شروع کرتا ہوں، بولے، اراضی خریدنے کے لئے عمران خان اور فروخت کنندہ کے درمیان معاہدہ تھا اور یہ کل رقم چار کروڑ 35 لاکھ روپے تھی۔ جس تین سوکنال کے لئے ادا کی گئی اس پر کسی کو اعتراض نہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ آپ سکون سے تفصیلی طورپر بتائیں ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ اس پر عدالت میں بیٹھے افراد کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔

وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ زمین ٹکڑوں میں خریدی گئی اور مختلف اوقات میں انتقال کیے گئے، پہلی ادائیگی 33 لاکھ روپے کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے صرف یہ سمجھنا ہے کہ اس خریداری کے لئے کچھ رقم بطور ادھار لی گئی اور پھر واپس کی گئی، یہ کیسے ہوا کیونکہ درخواست گزار نے اسی بات پر سوال اٹھائے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ لندن فلیٹ کے آخری کرایہ دار نے ایک سال کا کرایہ نہ دیا، فلیٹ کو نقصان پہنچایا اور پھر عدالت میں معاملہ گیا اس وجہ سے فلیٹ فروخت میں تاخیر ہوئی تو بنی گالہ اراضی خریدنے کے لئے عمران نے جمائما سے رقم ادھار لی۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ لندن فلیٹ سے متعلق دلائل دیتے وقت آپ کو یہ حقائق بتانا چاہئیں تھے۔ نعیم بخاری نے کہاکہ بنی گالہ اراضی خریداری کے لئے آخری ادائیگی 23 جنوری دو ہزار تین کو کی گئی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کے دستاویزات کے مطابق اراضی خریداری کے لئے جمائما کی جانب سے رقم 29 جولائی دو ہزار تین میں راشد خان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جب آپ خود کہتے ہیں کہ راشد خان نے صرف ڈاکخانے کاکام کیا خود سے رقم نہیں دی تو پھر بتائیں اراضی کی آخری ادائیگی جنوری میں ہوئی اور لندن سے جمائما کی رقم راشد کے اکاؤنٹ میں جولائی میں کیسے آئی؟ آپ نے کہیں نہیں کہا کہ راشد نے رقم ادا کی اور پھر جمائما نے اسے بھیجی۔

وکیل نے کہاکہ بالکل ایسا ہی ہے، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ راشد خان نے خود سے ادائیگی کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے ثابت کرنا ہے کہ راشد خان نے اکاؤنٹ میں آنے والی جمائما کی رقم زمین کے مالک کو ادا کی۔ چیف جسٹس نے دستاویزات دیکھ کر کہا کہ تین سوکنال میں سے کچھ رقبہ ایسا ہے جس کا انتقال 2005 میں بھی ہوا، معلوم کرکے بتائیں کہ پٹواری کے پاس رجسٹر میں اندراج کب ہواتھا کیونکہ انتقال کا طریقہ کار طویل ہوتا ہے اس لیے بعد میں زمین منتقل ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ شادی کب ختم ہوئی تھی؟ وکیل نے کہا کہ جمائما نے جون دوہزار چار میں طلاق لی تھی۔ جمائما انتہائی دولت مند خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے طلاق کے بعد اراضی واپس کردی۔ عمران نے یہ اراضی صرف جمائما اور بچوں کے لئے لی تھی اس کا اپنا اس میں کچھ نہیں تھا، وکیل نے پھر اپنی مثال دی کہ میرا سب کچھ بیوی کے نام پر ہے اگر گھر سے نکال دیا جاؤں تو کتا بھی میرے پاس نہیں بچے گا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ بظاہر اراضی بے نامی خریدی گئی اورشاید اسی لیے جمائما کی تھی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ ایسا نہیں تھا کیونکہ اپریل دوہزار پانچ میں جمائما نے اٹارنی کے ذریعے اراضی واپس کی اور یہ ہبہ تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر یہ گفٹ یا ہبہ تھا تو اس کی دستاویزات کہاں ہیں؟ نعیم بخاری بولے کہ دستاویزات ابھی تک میرے پاس نہیں ہیں حاصل کرکے بتاؤں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ شروع ہوئے کافی وقت گزر گیا اب تک جمع کرادیتے، آپ کے بہت سے صفحات خالی پڑے ہیں۔ وکیل نے کہاکہ یہ میاں بیوی کے مابین معاملہ ہے۔ جسٹس عمر نے کہا کہ کاغذ جب موجود ہیں تو پھردیکھنے بھی چاہئیں، ہم نے آج آپ کو کئی سوالات سے حیران کیا ہوگا، پھر بولے، فلاں صفحے کو دیکھ لیجیے، یہ آپ کی جمع کردہ تفصیلات ہیں، زمین کا انتقال ہے مگر آپ نے لگتاہے خود بھی نہیں پڑھا، اس پر بھی عدالت کو مطمئن کریں کہ طلاق کے بعد زمین جمائما کے نام کیسے منتقل ہوئی؟ وکیل نے کہا کہ حقیقت یہی ہے کہ زمین بیوی کے لئے ہی خریدی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ محکمہ مال کے ریکارڈ پربھی عدالت کو مطمئن کریں۔

اس موقع پر وکیل اکرم شیخ پھر کھڑے ہوکربولے، راشد خان کے سٹی بنک کے اکاؤنٹ کی تفصیل دس برس پرانی ہے، قانون شہادت کے تحت اس کی تصدیق بھی کرانا ہوتی ہے۔ جسٹس عمر نے کہا کہ پھر آپ کا مقدمہ سول عدالت کو بھیج دیتے ہیں، فی الوقت انہی دستاویزات پر انحصار کریں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بیوی نے شوہر کو اراضی واپس کی ہے، ہم نے صرف قانونی تقاضے کیا ہیں ان کو دیکھناہے کیونکہ عمران خان نے کہا تھا کہ رقم جمائما سے لی اورپھر واپس بھی کی۔ وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ ہم آج ہی لندن میں جمائما سے رابطہ کرکے اس کی تحویل میں موجود ریکارڈ کی فراہمی کی درخواست کریں گے۔ وکیل اکرم شیخ بولے کہ راشد خان اب بنک آف خیبر کے ڈائریکٹر ہیں۔ نعیم بخاری بولے کہ وہ ٹیلی کام کمپنی نیا ٹیل کے چیئرمین بھی ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا راشد خان نے اپنے اکاؤنٹ میں آنے والی زائد رقم عمران خان کو ادا کی؟ اس کا کوئی ثبوت ہے۔ اور اس رقم کی عمران خان کے اکاؤنٹ میں منتقلی کا کوئی ریکارڈ ہے؟ وکیل بولے اس معاملے کو بھی دیکھوں گا۔ چیف جسٹس بولے، کیا یہ سب کچھ ہمیں ہی نہیں دیکھنا پڑرہا؟ سوال اٹھ رہے ہیں۔ نعیم بخاری نے کہاکہ جواب دوں گا۔

درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے پھر مداخلت کی اور بولے کہ یہ وقت ضائع کررہے ہیں، کیس کب کا چل رہا ہے اور یہ جواب دینے کے لئے مہلت طلب کرتے رہتے ہیں، یہ انتہائی نتائج کا حامل معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے وکیل اکرم شیخ کو مخاطب کرکے کہاکہ اس کے سنگین نتائج ہیں مگر یہ سوال آپ کے نہیں، آپ نے تو اس طرح کے دلائل ہی نہیں دیے، یہ تو عدالت کے سوال ہیں، اور ہم ان کے جواب چاہ رہے ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ اکرم شیخ صاحب کو ویسے ہی جلدی ہے، اگر عمران خان کے خلاف درخواست کی سماعت مکمل بھی ہوجائے تب بھی فیصلہ دوسری درخواست کے ساتھ ہی ہوگا جو جہانگیر ترین کے خلاف ہے۔

وکیل نعیم بخاری نے راشد خان کا بیان حلفی پڑھنا شروع کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں جمائما کی جانب سے زائد رقم موصول ہونے کا ذکر ہے اور نہ ہی یہ رقم عمران خان کو منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں سچائی کو ڈھونڈنے کے لئے جو بھی ریکارڈ منگوانا پڑا، اور جس قسم کی ان کوائری کی ضرورت پڑی کریں گے۔ سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).