قبولیت کی گھڑی
اس بات کو تقریباً ساٹھ برس ہونے کو آئے ہیں۔ میں پہلی جماعت کا نتیجہ سن کر جب سکول سے واپس آیا تو دادا جان نے پوچھا کہ کیا نتیجہ آیا ہے تو میری زبان سے نکلا: فیل تے آپاں کدی ہوئے نئیں۔ (فیل تو ہم کبھی ہوئے نہیں) اس پر دادا جان نے اپنے مخصوص انداز میں کہا: سوری دا۔ پہلی جماعت پاس کرکے آیا ہے اور کہتا ہے کہ فیل تو ہم کبھی ہوئے نہیں۔ کہا جاتا ہے بعض گھڑیاں قبولیت کی ہوتی ہیں۔ شاید وہ کوئی ایسی ہی گھڑی تھی۔ اس کے بعد ساری تعلیمی زندگی میں ہر امتحان پہلی ہی کوشش میں پاس کیا، اگرچہ کبھی کوئی امتحان پوری تیاری کے ساتھ نہ دیا تھا۔
اس کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ مجھے تیسری جماعت سے ہی کورس کے علاوہ کچھ نہ کچھ پڑھنے کا چسکا لگ چکا تھا اور نصاب کی کتابیں اچھی نہ لگتی تھیں۔ البتہ تیسری جماعت کی ایک کتاب بہت پسند آئی جس کا نام اردو کی اضافی کتاب تھا۔ اضافی شاید اس لیے کہا جاتا تھا کہ اس کا امتحان نہیں ہوتا تھا۔ وہ کتاب بہت دلچسپ تھی اور اس میں شامل کہانیاں بہت عمدہ تھیں۔ عنترہ کی بہادری، مارکو پولو کا سفر، انسپکٹر دلاور جیسے عنوانات آج بھی یاد ہیں۔ ایک دن ہم گراونڈ میں بیٹھے اس کتاب میں مارکوپولو کا سفر پڑھ رہے تھے۔ میں ماسٹر صاحب کی کرسی کے بالکل ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ سبق میں ایک لفظ آیا شرابور۔ ماسٹر صاحب نے اس کے معنی پوچھے۔ میں نے جواب دیا شراب پیے ہوئے۔ سب ہم جماعت ہنس پڑے اور ماسٹر صاحب نے میرے سر پر ایک ہلکی سی چپت رسید کی۔ ایک لڑکے نے بتایا کہ اس کے معنی بھیگا ہوا بتائے۔
پرائمری سکول سے پاس ہو کر جب سرٹیفکیٹ لیا تو مجھے پتہ چلا کہ میری تاریخ پیدائش 26 مئی کے بجائے 26 اگست 1951 لکھی ہوئی ہے۔ میں نے ہیڈ ماسٹر صاحب سے بہت کہا کہ یہ تاریخ درست کر دی جائے لیکن ان کاکہنا تھا کہ ہم تو وہی لکھیں گے جو رجسٹر پر لکھی ہوئی ہے۔ ہوا یہ تھا کہ جب دادا جان مجھے سکول داخل کرانے گئے تو مہینہ غلط لکھو ادیا۔ مجھے اس غلط اندراج پر بہت افسوس ہوتا تھا لیکن جب نوکری سے ریٹائرمنٹ کا وقت آیا تواس نادانستہ غلطی نے مجھے بہت فائدہ دیا۔ نئے سال کا بجٹ یکم جولائی سے لاگو ہوتا ہے۔ اس سال حکومت نے تنخواہوں میں کافی اضافہ کر دیا تھا، بہت سے ایڈہاک الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیے تھے۔ اس وجہ سے یک مشت ملنے والی رقم اور پنشن دونوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا۔
زندگی میں دو بار اور بھی ایسا ہوا کہ میرے منہ سے نکلی ہوئی بات ، یا دل میں پیدا ہونے والی خواہش میری کسی کوشش اور کاوش کے بغیر ہی پورا ہو گئی۔ پہلا واقعہ یہ ہے کہ جب میں نویں جماعت میں داخل ہوا تو میں نے سائنس پڑھنے سے انکار کر دیا۔ وجہ یہ تھی میرے بڑے بھائی، جو مجھ سے چار جماعت سینیر تھے، جب ایف ایس سی کر رہے تھے تو وہ بتاتے تھے کہ انھیں مینڈکوں کی چیرپھاڑ بھی کرنا پڑتی ہے، جس سے میری طبیعت میں بہت زیادہ انقباض پیدا ہوا۔ جب میں نویں میں پہنچا تو وہ میڈیکل کالج میں تھے۔ اب وہ یہ بتاتے تھے کہ اناٹومی کی تعلیم کے لیے انسانی لاشوں کی چیرپھاڑ کرنا بھی لازم ہے تو میرے اعصاب جواب دے گئے۔ نان میڈیکل اس لیے نہیں لے سکتا تھا کہ حساب میں کمزور تھا اور ڈرائنگ سے بالکل ناواقف تھا۔
میرے اس انکار پر میری امی جان کو بہت تشویش تھی۔ خاندان میں سرکاری نوکری کرنے کا کچھ رواج نہ تھا بلکہ خاصا ناپسند کیا جاتا تھا۔ میری والدہ ایک جملہ اکثر بولا کرتی تھیں کہ اﷲ کسی کے بیٹے کو افسر نہ بنائے۔ میڈیکل ڈاکٹر بننے کا مطلب یہ تھا کہ آپ اپنی پرائیویٹ پریکٹس کر سکتے ہیں جس میں آپ کو کسی کی ماتحتی قبول نہیں کرنا پڑتی۔ خاندان کے بہت سے لوگ میڈیکل کے پیشے سے منسلک تھے۔ جب امی جان کا اصرار بڑھا کہ مجھے سائنس پڑھنی چاہیے تو ایک دن میں نے کہا کہ آرٹس پڑھنے والے کوئی بھوکے تو نہیں مرتے ۔ باقی جہاں تک ڈاکٹر بننے کی بات ہے تو وہ میں آپ کو بن کر دکھا دوں گا۔
ایک دیہاتی طالب علم کو کیا پتہ ہو سکتا تھا کہ میڈیکل ڈاکٹر کے علاوہ بھی کوئی ڈاکٹر ہو تا ہے۔یہ تو بس علامہ اقبال کی ذات کا فیضان تھا ۔ تیسری جماعت سے میں بانگ درا پڑھ رہا تھا، ساتویں سے بال جبریل کا مطالعہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ ان کے بارے میں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ فلسفے کے ڈاکٹر تھے۔ بس اسی بنا پر میری زبان سے بھی یہ جملہ نکل گیا۔ لیکن وہ واقعی قبولیت کی گھڑی تھی۔
میری زندگی کا انداز کسی قدر لاابالی سا رہا ہے اور اس میں خودسری کا عنصر بھی غالب رہا ہے۔ اس لیے اپنی زندگی کے زیادہ تر فیصلے میں نے خود ہی کیے ہیں، بزرگوں نے بھی کبھی اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دنیا داری سے طبیعت کو کچھ نفور ہی رہا چنانچہ دنیا میں ترقی کے حصول کے لیے کبھی کوئی پلاننگ نہیں کی۔
جیسا کہ اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ پرائمری سکول کے زمانے سے ہی نصاب کے علاوہ کتابیں اور رسالے پڑھنے کا چسکا لگ چکا تھا اس لیے نصاب میں شامل کتاب مجھے بہت بور لگتی تھی۔ امتحان کے لیے کم ہی کبھی تیاری کی تھی۔ بس امتحان کے دنوں میں کورس دیکھ لیا کرتا تھا۔ جب میں میٹرک کا امتحان دے رہا تھا تو ہمارا امتحانی سنٹر کچھ میل دور ایک سکول میں تھا۔ اس لیے ہمارا قیام بھی اسی سکول میں ہوتا تھا۔ ایک رات میں کچھ لڑکوں کو بٹھا کر اختر شیرانی کی نظمیں سنا رہا تھا۔ جو استاد بطور نگران ہمارے ساتھ تھے انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ صبح اردو کا پرچہ ہے۔ میں نے کہا نہیں، میرا تو عربی کا ہے۔ اس پر وہ کسی قدر خفا ہوئے اور مجھے کہا کہ تم تو کچھ کر لو گے لیکن ان بے چاروں کو کیوں خراب کر رہے ہو۔ ان کو تو پڑھنے دو۔
پھر ایک دن وہ لمحہ آیا جس نے آئندہ کی زندگی کو ایک متعین راستے پر ڈال دیا۔ میری بطور لیکچرر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں سلیکشن ہو گئی۔ یونیورسٹی میں نوکری کے لیے پی ایچ ڈی کرنا لازم ہے۔ میں نے بھی ایک سال بعد ہی پی ایچ ڈی کے لیے رجسٹریشن کروا لی۔ مقالے کا عنوان بھی منظور ہو گیا، لیکن میرا مقالہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بڑی خواہش تھی کہ باہر کی کسی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی جائے۔ اس زمانے میں بیرون ملک تعلیم کے لیے وظائف بہت محدود تعداد میں ہوتے تھے اور وہ زیادہ تر سفارش کی بنا پر ہی ملا کرتے تھے۔ میرے ملازمت کے ابتدائی چھ سال عارضی نوکری کے تھے، اس لیے میں چھٹی کا مستحق نہیں تھا۔ اوپر سے میری حرکتیں کچھ ایسی ہوتی تھیں جن کی وجہ سے میں یونیورسٹی کے ارباب بست و کشاد کی نظر ایک سخت ناپسندیدہ شخص ٹھیرتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مقالہ لکھنے کے لیے پانچ سال کی جو مدت مقرر تھی، وہ گزر گئی اور ان دنوں اس میں توسیع بھی نہیں ملا کرتی تھی۔ اب قدرت کی طرف سے ایک معجزہ رونما ہوا۔
یونیورسٹی کے ارباب اختیار نے کسی پسندیدہ ہستی کو فائدہ پہنچانا تھا، اس کے لیے انھوں نے قوانین کی ایک نئی تعبیر اختیار کی جس کی وجہ سے ہم جیسے راندہ ء درگاہ لوگوں کو بھی دو برس کی مدت اور مل گئی۔ سکالرشپ ملنے کا کوئی امکان نہیں تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ اب مجھے مقالہ لکھ ہی لینا چاہیے۔ میں نے اپنے بڑے بھائی، جو امریکہ میں قیام پذیر تھے، کے مالی تعاون سے امریکہ کا سفر کیا اور وہاں اپنے دوست، مستنصر میر صاحب ، جو یونیورسٹی آف مشی گن، این آربر میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے، کی مدد سے اس یونیورسٹی کی شاندار لائبریری سے تین ہفتوں تک خوب استفادہ کیا اور بہت سا مواد جمع کیا۔ واپس آ کر بس اس سفر پر اٹھنے والے اخراجات کی لاج رکھنے کی خاطر میں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر جمع کروا دیا اور سال ڈیڑھ سال کی تاخیر سے ایک دن وہ مقالہ منظور ہوا گیا اور میرے نام کے ساتھ ڈاکٹر کے سابقے کا اضافہ ہو گیا۔ اس طرح تقریباً پچیس برس قبل بے دھیانی میں منہ سے نکلی ہوئی بات کو قدرت نے پورا کر دیا ۔
قبولیت کا تیسرا واقعہ یہ ہے کہ جب میں گورنمنٹ کالج میں سال اول میں داخل ہوا تو اس برس سلیم کیانی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج کی ایک بہت شاندار روایت ہاؤس آف کامنز سٹائل ڈیبیٹ ہوا کرتی تھی جس کا انعقاد اوپن ایر تھیئڑ میں ہوتا تھا۔ جب سٹوڈنٹس یونین کے سیکریٹری کلیم مبین نے صدر یونین کو کرسی صدارت پر جلوہ افروز ہونے کی دعوت دی، تو وہ گاؤن پہنے اوپن ایر تھیئڑ کے اوپر سے سیڑھیاں اترکر آتے ہوئے سٹیج پر اپنی نشست پر براجمان ہوئے۔ انھوں نے ایک خاص قسم کا کالج بلیزر پہنا ہوا تھا جو عام کالج بلیزر سے ممتاز تھا اور سینیرز کلب کے ارکان پہنتے تھے۔ وہ تمام منظر اس قدر پرشکوہ تھا کہ اس نے میرے دل پر بہت اثر کیا۔ چند دن بعد جب میں اپنے بھائی سے ملنے میڈیکل کالج کے ہوسٹل گیا تو باتیں کرتے کرتے میرے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ایک دن میں نے بھی وہ بلیزر پہننا ہے۔ اس پر انھوں نے جواب دیا کہ اس بلیزر کا حصول اتنا آسان نہیں، اس کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد بات آئی گئی ہو گی۔ میں کالج میں ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ تو لیتا تھا لیکن کوئی بہت زیادہ ناموری کبھی نہیں ملی تھی۔
جب ہم فائنل ایر میں پہنچے تو ایک دن میرے بہت قریبی دوست وسیم کوثر نے بتایا کہ وہ سٹوڈنٹس یونین کے صدر کا الیکشن لڑ رہا ہے۔ وسیم کوثر انگریزی کا بڑا اچھا ڈیبیٹر تھا۔ میں نے بعض وجوہ کی بنا پر اسے الیکشن نہ لڑنے کا مشورہ دیا، لیکن وہ بضد تھا۔ میں نے اسے اس ارادے سے باز رکھنے کی خاطر کہہ دیا کہ اگر تم نے الیکشن لڑا تو میں تمھارا مقابلہ کروں گا۔ میں نے تو یہ بات یونہی کہہ دی تھی کیونکہ میں نے کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا تھا ؛ نہ یہ میرے مزاج کے مطابق تھا۔اب وسیم نے اپنی مہم کا آغاز کر دیا۔ جب اس سے یہ پوچھا جاتا کہ اس کا مد مقابل امیدوار کون ہے تو وہ میرا نام لے دیتا۔ یار دوست میرے پاس آ کر گلہ کرتے کہ تم نے بتایا ہی نہیں کہ الیکشن لڑ رہے ہو۔ میں حیران ہو کو پوچھتا کہ تمھیں کس نے کہا ہے میں الیکشن لڑرہا ہوں۔ وسیم کوثر کی مہم کے سبب میں کچھ کیے بغیر ہی کالج میں صدارت کے امیدوار کے طور پر مشہور ہو گیا۔
الیکشن کے مراحل کا بیان قدرے تفصیل طلب ہے، جس کو کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ لیکن جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ اب گلے پڑا ڈھول بجانا ہی پڑے گا تو ہر چہ بادباد کہتے ہوئے میدان میں کود پڑا اور انہونی یہ ہوئی کہ میں وہ الیکشن جیت بھی گیا۔ یوں بالکل غیر متوقع طور پر سپیشل بلیزر پہننے کی دل امیں اٹھنے والی وہ خواہش بھی پوری ہو گئی اور مجھے اسی اوپن ایر تھیئڑ میں کرسی صدارت پر بیٹھنے کا موقع مل گیا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی کی ملازمت کے دوران میں احباب نے کچھ مواقع پر مجھے الیکشن کے میدان میں دھکا ضرور دیا لیکن دوبارہ کبھی کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔
آج زندگی کے چھیاسٹھ برس مکمل ہونے پر جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت زدہ رہ جاتا ہوں کہ مجھ جیسے کام چور اور بحرالکاہل کے باشندے پر قدرت کتنی مہربان اور فیاض رہی ہے۔ جو کچھ ملا وہ میری کوشش اور کاوش سے کہیں زیادہ تھا، اس پر میں اپنے خالق کا شکر گزار ہوں۔ناصر کاظمی کا حمد کا شعر یاد آ رہا ہے:
جو پایا ہے وہ تیرا ہے
جو کھویا وہ بھی تیرا تھا

