مانچسٹر دھماکہ اور اسلاموفوبک واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شام کو گھر واپسی ہوئی تو بیٹی سامنے بیٹھی تھی، اداس تھی، وجہ پوچھی، ”بابا آج ایریانا گرینڈے گا رہی تھی تو بس جیسے ہی کانسرٹ ختم ہونے لگا وہاں دھماکہ ہو گیا، بہت سے بچے بھی مر گئے۔ بابا آپ مانچسٹر بلاسٹ پر کالم لکھیں گے نا؟ بہت سے لوگ اسے پڑھیں گے، اس ٹاپک پر ضرور لکھیے گا۔ “

بیٹی تھوڑا بہت گٹار بجا لیتی ہے، گا لیتی ہے، اسے کانسرٹس میں جانے کا شوق ہے لیکن ماں باپ منع کرتے ہیں، وجہ وہی ہے جو لندن کے باسیوں تک کو نہیں چھوڑتی۔ تو وہ اور اس جیسے کئی دوسرے بچے اس خوف اور درد کو اب خود سے محسوس کر سکتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی کونا محفوظ نہیں ہے، یہ سب یا کوئی بھی اور ایسا حادثہ، کہیں بھی کبھی بھی ہو سکتا ہے، جو مر گیا اس کی کہانی ختم، جو بچ گئے اصل میں تو وہ ہر روز مرتے ہیں۔

اس دھماکے میں اب تک بائیس بے گناہ لوگ کام آ چکے ہیں، ساٹھ کے قریب زخمی ہیں۔ کون تھے یہ لوگ؟ معصوم بچیاں جنہوں نے اب تک شاید عمر کی چودہ پندرہ بہاریں دیکھی ہوں گی، یہ کیسا ٹارگٹ ہے؟ بچے جن کے آگے پوری زندگی تھی، کئی خواب تھے، کیا کچھ کرنا تھا۔ یہ تو اے پی ایس سانحے میں مارے جانے والے بچوں کی طرح کسی لینے دینے میں ہی نہیں تھیں۔ اور مارنے والے دونوں طرف وہی لوگ تھے جو اس دنیا کی ہر خوبصورتی سے نفرت کرتے ہیں۔ جنہیں تصویر سے نفرت ہے، جنہیں معصومیت سے نفرت ہے، جو امن کے دشمن ہیں، جو گانا پسند نہیں کرتے، جنہیں رقص ایک آنکھ نہیں بھاتا، جو کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے اور کبھی بھی نہیں دیکھ سکتے۔

نائن الیون کے بعد یورپ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں یہ ایک بڑا اور تکلیف دہ واقعہ تھا اور اس سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ واقعات ایک تسلسل کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ابھی پانچ چھ برس پہلے تک ایسے واقعات کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی لیکن اب ہر دوسرے ہفتے کوئی نہ کوئی منحوس خبر دستک دے رہی ہوتی ہے جس کا تعلق حسب معمول داعش سے نکلتا ہے۔ پیرس سانحہ، برسلز ائیر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر ہونے والی دہشتگردی، برلن میں کرسمس کی خریداری کرنے والوں پر ٹرک چڑھا دینا اور اب یہ واقعہ پچھلے ڈیڑھ برس میں ہونے والے بڑے سانحات ہیں۔ ان تمام اور بہت سارے دوسرے واقعات سے پیغام صرف ایک ہی دیا جا رہا ہے کہ اب اس دنیا میں کوئی بھی کہیں بھی حفاظت سے نہیں ہے، چاہے وہ آپ کا کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو۔

چھ برس پہلے جب پرامن احتجاجی مظاہروں کے ذریعے عرب ممالک میں بڑی بڑی حکومتوں کو ہلا دیا گیا تھا تو اس انقلاب سے لوگوں کی بہت سی امیدیں بندھ گئیں تھیں۔ مغربی تبصرہ نگار کہتے تھے کہ عرب سپرنگ مظاہرے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے القاعدہ کا جہادی فلسفہ دم توڑ رہا ہے اور دنیا بغیر اسلحے کے، بغیر دنگے فساد کیے بات کرنا سیکھ رہی ہے لیکن یہ ان بے چاروں کی غلط فہمی تھی۔ جو کچھ ہوا وہ اس کے بالکل الٹ تھا۔ ان مظاہروں کے بعد جو اتھل پتھل ہوئی تو بعض عرب ممالک میں داعش نے وہ طاقت پکڑی کہ خدا کی پناہ! وہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ منظم طریقے سے بلکہ کھل کر دنیا کے سامنے آئے۔ شام کی خانہ جنگی اور قذافی کی معزولی نے انہیں موقع دیا کہ وہ امن و امان کے بگڑتے حالات میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکیں جو انہوں نے کیں۔ اس سب کے ساتھ انہوں نے سوشل میڈیا پر بہت سے نوجوان قابو کیے اور خاص طور پر واٹس ایپ یا بلیک بیری سروسز کا بہت فائدہ اٹھایا جس میں صارفین کو بات چیت محفوظ رہنے کا یقین دلایا جاتا تھا۔ یوں ٹیکنالوجی اور خانہ جنگی میں پوشیدہ مواقع انہوں نے بھرپور استعمال کیے۔

یورپی سیاست دانوں کے پاس بھی اس مسئلے کا پاکستان کی طرح کوئی خاص حل نہیں ہے۔ یہ سب وہاں کے عوام عین ویسے ہی بھگتیں گے جیسے ہم بھگتتے چلے آئے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ سب چیزیں وہاں بھی روٹین میں شامل ہوتی جائیں گی لیکن کب تک؟ ہر اگلا دن پچھلے دنوں سے بدتر ہو گا اور وقت دکھاتا ہے کہ واقعی ہو رہا ہے۔ لے دے کر ایک ہی حل مغرب کے پاس بچتا ہے اور وہ ہے مسلمانوں کے داخلے پہ مرحلہ وار پابندیاں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دھماکہ کرنے والا بھی ایک لیبیائی پناہ گزین مسلمان تھا جس کے ماں باپ قذافی دور میں بچتے بچاتے یہاں آئے تھے۔ سر چھپانے کو چھت اور کھانے کو روٹی ملی تھی اور انہی دنوں سلمان عابدی بھی پیدا ہوا تھا(جس کی شناخت حسب روایات ہائے داعش جیب میں موجود بینک کارڈ سے ہوئی)۔ پڑھا لکھا سب کچھ برطانیہ میں کیا۔ یہ تقریباً ایک برس پہلے لیبیا اور پھر وہاں سے شام گیا تھا جب واپسی ہوئی تو مکمل طور پر شدت پسند ہو چکا تھا۔ سلمان بنیادی طور پر شروع سے مار دھاڑ کا شوقین تھا اور یونیورسٹی سے اسے انہی رجحانات کے باعث پہلے ہی فارغ خطی پا چکا تھا۔ ہمسایوں کو جب میڈیا نے اپروچ کیا تو ایک خاتون کہنے لگیں کہ ایک دن وہ سامنے والی سڑک پر اکیلا کھڑا تھا اور چیخ چیخ کر کلمہ طیبہ پڑھ رہا تھا۔ اس کے خاندان والے پہلے بھی سیکیورٹی اداروں کو اس پر نظر رکھنے کا کہہ چکے تھے۔ علاقے کے امام مسجد کے مطابق جس خطبے میں بھی داعش کو برا بھلا کہا جاتا تو اس کے بعد سلمان کے چہرے پر ان کے خلاف نفرت اور درشتی دیکھنے والی ہوتی تھی۔

ان واقعات پر نظر کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ برطانیہ میں اب تک مسلمانوں پر ہاتھ قدرے ہلکا رکھا گیا تھا کیوں کہ ایک بندہ جو چلتا پھرتا خطرہ بنا ہوا ہے گلیوں میں بغیر کسی وجہ کے دیوانہ وار و بلند آہنگ ورد کرتا ہے، امام مسجد کو داعش کی مخالفت پر تیوریاں دکھاتا ہے اور جس کے رشتہ دار اچھا بھلا الرٹ کر چکے ہیں کہ یہ بندہ ”خطرناک“ ہے، ریڈیکلز سے رابطے میں ہے وہ آخر پہلے ہی کیوں نہیں پکڑا گیا؟ صرف اس وجہ سے کہ پالیسی نرم تھی اور ایسے شیر جوان یورپ شفٹ ہونے والی فیملیز میں بہت سے پائے جاتے ہیں۔ وہ شام نہیں جاتے لیکن مکمل طور پر شدت پسند ہوتے ہیں۔ خاص طور پر نائن الیون کے بعد یہ تقسیم بھیانک ترین ہوتی جا رہی ہے۔

یہاں چند سوالات بھی اٹھتے ہیں جیسے اسے بم بنانے میں مدد کس نے دی؟ جس نے دی کیا وہ اب بھی برطانیہ میں ہے؟ کس طریقے سے بم لادے وہ تمام سیکیورٹی چیکس کے باوجود دھماکے والی جگہ پر پہنچا؟ اور اگر وہ دہشت گردوں سے مسلسل رابطے میں تھا تو کون سی ٹیکنالوجی زیر استعمال تھی جو چیک نہ ہو سکی؟

یہ دھماکہ ہونے کے بعد اسلاموفوبک واقعات میں اچھا خاصا اضافہ دیکھنے میں نظر آ رہا ہے۔ مانچسٹر اسلامک سینٹر جہاں سلمان نماز پڑھتا تھا وہاں کے ایک ٹرسٹی کے مطابق گالم گلوچ سے لے کر مار پیٹ اور جلاؤ گھیراؤ تک کے واقعات کا سامنا لوکل مسلمانوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ اب ہونا یہ ہے کہ یہ سب ردعمل سرکاری طور پر نوٹس ہو گا۔ مغربی ممالک دیکھیں گے کہ عوام اگر اس قدر شدید ری ایکشن دے رہے ہیں تو کوئی نہ کوئی سیریس گڑبڑ تو دوسری پارٹی کے ساتھ بھی ہے۔ پھر ان تمام باتوں کا نتیجہ چند نئی پابندیوں کی شکل میں سامنے آئے گا۔ شامی یا دیگر عرب ممالک کے پناہ گزینوں پر چیک شدید تر ہو گا اور نئی اینٹریاں تقریباً ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسلامک سینٹرز پہ بھرپور چیکس لگیں گے، جو کچھ ٹرمپ صدارت میں آنے سے پہلے مسلمانوں کے خلاف کہتے آئے تھے وہ صحیح ثابت ہونے پہ امریکہ میں بھی معاملات مسلم آئسولیشن کی طرف جائیں گے اور اگر یہ سب کچھ اسی طرح چلتا رہا، ہر دو تین ہفتے بعد ایسے واقعے ہوتے رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اپنی ہی دنیاؤں میں مقید کر دیے جائیں اور بہت سے ممالک میں ان کے لیے کوئی جگہ باقی نہ ہو۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 482 posts and counting.See all posts by husnain