چوہدری صاحب پشاور میں احترام رمضان کیسے ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پشاور میں پوپلزئی روزہ ہے اور سرکاری رویت ہلال کا روزہ نہیں ہے۔ حسب روایت مفتی پوپلزئی صاحب نے علم فلکیات پر لات مارتے ہوئے پشاور میں وہ چاند دیکھ لیا ہے جو حجاز مقدس میں دکھائی دیا کرتا ہے اور علم فلکیات کے مطابق برصغیر کے باقی ماندہ علاقے اسے دیکھنے سے عموماً قاصر ہوتے ہیں اور پھر مفتی منیب اگلے دن فاتحانہ انداز میں فرماتے ہیں کہ چاند ہوتا ہے تو سب کو دکھائی بھی دیتا ہے۔ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے ہیں لیکن ممکن ہے کہ مفتی پوپلزئی کا یہ چاند حجاز مقدس کا نہیں بلکہ کابل کا ہو، بہرحال جہاں کا بھی ہے، آج پشاور میں پوپلزئی روزہ ہے۔ بہت اچھی بات ہے، ہر شخص کو اپنا اپنا چاند چڑھانے کی اجازت ہے اور ہمیں اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے کہ کون کب روزہ رکھتا ہے اور کب نہیں رکھتا کہ وہ اپنے اعمال کا خود جواب دے گا۔

لیکن کچھ قانونی الجھنیں کھڑی ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے وفاقی وزیر داخلہ جناب سر چوہدری نثار علی خان صاحب کو اپنی بلاگر پکڑنے کی مہم سے توجہ ہٹانی پڑے گی۔

چند دن قبل ہی سینیٹ کی کھڑی ہوئی (سٹینڈنگ) کمیٹی نے احترام رمضان کا نیا قانون پاس کیا تھا۔ پتہ نہیں نافذ ہوا یا نہیں۔ ہو گیا ہو گا۔ جلدی کا کام ہماری اسمبلیوں کے ممبران کا ہی ہوتا ہے۔ ورنہ احترام رمضان آرڈیننس تو جنرل ضیا الحق کے زمانے سے چلا آ ہی رہا ہے، چوہدری صاحب کو اسی سے کام چلانا پڑے گا۔ بہرحال اس قانون کی وجہ سے پشاور میں عجیب و غریب صورت حال پیدا ہو چکی ہے جن کے باعث وفاقی وزیر داخلہ جناب سر چوہدری نثار علی خان صاحب اپنا سر کھجا رہے ہوں گے۔

جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا تھا کہ آج پشاور میں پوپلزئی روزہ ہے اور سرکاری رویت ہلال کا روزہ نہیں ہے۔

تو پھر جو لوگ آج سر عام کھا پی رہے ہوں گے ان کو تین مہینے قید اور پانچ سو روپیہ جرمانہ ہو گا یا نہیں؟
آج پشاور کے جو ہوٹل کھلے ہوں گے ان کے ساتھ قانون کیا سلوک کرے گا؟ کیا ان کو تین ماہ قید اور پچیس ہزار روپیہ جرمانہ کرنا ہو گا؟
پشاور میں آج جو لوگ سر عام بھری ہوئی یا سادہ سگریٹ پی رہے ہوں گے، ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟
لیکن سب سے بڑھ کر آج نسوار استعمال کرنے والوں کا کیا مستقبل ہو گا؟ وہ ماہ رمضان سرکاری خرچ پر بڑے گھر میں گزاریں گے یا اپنے خرچ پر اپنے گھر میں؟

آپ پریشان ہونا شروع ہو گئے ہوں گے۔ مگر اصل پریشانی کی بات تو ابھی ہم نے آپ کو بتائی ہی نہیں ہے۔

پشاور کے پہلے روزے سے زیادہ پریشان کن مسئلہ پوپلزئی عید پر ہو گا۔ اس دن ریاستی روزہ ہو گا اور پوپلزئی کے عقیدت مند اس سرکاری روزے کے دن احترام رمضان کے ریاستی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہو سر عام سویاں کھا رہے ہوں گے اور سگریٹ کے لچھے بنا رہے ہوں گے۔

اپنی عید منانے اور ریاستی روزے کی بے احترامی کرنے والے یہ افراد پکڑے جائیں گے یا نہیں؟ ان کی عید جیل میں گزرے گی یا اپنے گھر میں؟ کیا ان کو جیل میں وردی پوش سپاہی زبردستی ریاستی عید منانے پر مجبور کریں گے؟

چلیں ان معاملات پر تو وفاقی وزیر داخلہ جناب سر چوہدری نثار علی خان صاحب کو سر کھجانے دیں کہ سوچنا سمجھنا ان کا کام ہے، باقی پاکستانی اس کے اہل نہیں ہیں۔ ہم آپ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اس رویت ہلال کمیٹی بل کی چند سفارشات کے بارے میں بتاتے ہیں جو میڈیا پر توجہ حاصل نہیں کر سکیں۔

رویت ہلال کمیٹی کے بل میں شامل تجاویز میں کہا گیا کہ رمضان یا عید کا غیر سرکاری طور پر اعلان کرنے والے خطیب یا امام مسجد کو ایک سال قید اور 2 سے 5 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ نجی ٹی وی چینلز مرکزی کمیٹی کے اعلان سے قبل چاند کا اعلان کریں گے تو انھیں 10لاکھ روپے تک جرمانہ اور لائسنس معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کمیٹی کے رکن مولانا احتشام الحق تھانوی نے کہا کہ سپارکو اور محکمہ موسمیات پر بھی پابندی ہونی چاہیے کہ وہ چاند کے حوالے سے پہلے سے پیشن گوئی نہ کریں جس پر وزارت کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی ویب سائٹس پر پہلے سے چاند کے متعلق معلومات موجود ہوتی ہیں۔

اب پتہ نہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ جناب سر چوہدری نثار علی خان صاحب ان نجی چینلوں اور سپارکو وغیرہ کا کیا کریں گے۔ یہ بھی علم نہیں ہے کہ وہ مفتی پوپلزئی صاحب پر 2 سے 5 لاکھ روپے جرمانہ کریں گے اور انہیں جیل بھیجیں گے یا نہیں۔ لیکن آپ کے لئے یہی صلاح ہے کہ آج کے دن اور آخری سرکاری روزے کے دن پشاور سے دور رہیں ورنہ احترام رمضان کے چکر میں پکڑے گئے تو بچت مشکل ہے کیونکہ پاکستان میں قانون کا زور کمزوروں پر ہی چلتا ہے جو تم بھی ہو اور میں بھی ہوں۔

27 مئی 2017


احترام رمضان کا نیا قانون
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1093 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar