امریکن فوجی عورتوں کے خلاف ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات

روتھ نے اپنی سکول اور کالج کی تعلیم کے دوران تمام جسمانی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا تاکہ وہ جسمانی طور پر مضبوط ہو ایک کامیابی فوجی افسر بن سکے۔ کالج میں داخلے کے وقت ہی وہ Reserve Officer Training Corps کی رضاکار بھی اسی شوق کی وجہ سے بنی۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ فوج میں بھرتی ہوئی تو اس کا جذبہ اور خوشی دیدنی تھی۔ اس وقت اس کے والد نے اسے ہلکا سا اشارہ دیا کہ اس کے ایک کامیاب کمانڈر بننے کے راستے میں ایسی مشکلات بھی آ سکتی ہیں جو عام طور پر مردوں کے حصے میں نہیں آتیں۔ لیکن روتھ کسی مشکل کو خاطر میں لانے والی نہ تھی۔ کوئی چیز اس کے ارادوں کو ڈانواں ڈول نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے بھرپور جذبے کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا۔ لیکن اس کے صرف نو سال بعد روتھ اپنی بے پناہ محنت اور شوق کے باوجود اپنے بکھرے ہوئے خواب لیے مایوس بیٹھی تھی۔ اس کو فوج کی نوکری چھوڑنا پڑی کیونکہ اس کے ساتھ اس کے مرد شریک کاروں نے وہ کچھ کیا جو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور اس نے ان زیادتیوں کا جواب ویسا دینے کی کوشش کی جو اس کی بہت سی خواتین فوجی ساتھی نہیں دے پاتیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے اپنے اندازے کے مطابق 2014 میں 18900 امریکی فوجی عورتیں اپنے مرد شریک کاروں کے ہاتھوں جنسی جرائم کا نشانہ بنیں۔ ان میں صرف 25% نے شکایات درج کروائیں اور باقی 75% خاموش رہیں۔
امریکہ کے سابقہ فوجیوں کے ادارے (Department of Veteran Affairs) کی کئی تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق، 30 فیصد امریکی فوجی خواتین، سروس کے دوران، مرد فوجیوں کے ہاتھوں ریپ کا نشانہ بنتی ہیں، 71 فیصد کو جنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور 90 فیصد کو جنسی ہراسانی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ جب کہ بہت ہی کم خواتین اپنے خلاف ہونے والے ان جنسی جرائم کی شکایت کر پاتی ہیں۔

اسی صورت حال کے پیش نظر امریکی فوجی عورتوں کے خلاف اپنے ہی ساتھی فوجیوں کے ہاتھوں شدید جنسی جرائم کے خاتمے یا کم ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔
ایک اور بات بتاتا چلوں کہ یہ جنسی جرائم صرف امریکی فوجی عورتوں کے خلاف ہی نہیں ہوتے بلکہ مردوں کے خلاف بھی ہوتے ہیں۔ مرد فوجیوں کے ریپ بھی ساتھ کام کرنے والے مرد فوجی ہی کرتے ہیں۔ ریپ ہونے والے مردوں کی تعداد یقینا ریپ ہونے والی عورتوں 
پس نوشت: کیا دنیا کی طاقتور ترین آرمی کے خلاف ان الزامات کو رپورٹ کرنا یا ان کی مذمت کرنا امریکن آرمی کی توہین کے زمرے میں آئے گا۔ کیا ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے والے امریکی ادارے غدار ہیں۔ امریکی حکومت کو اپنی فوج کے خلاف ایسی رپورٹیں شائع کرنے والے اداروں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے۔ ان کے خلاف غداری کے مقدمات چلائے یا انہیں فنڈز مہیا کرے تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

