امریکن فوجی عورتوں کے خلاف ریپ اور جنسی ہراسانی کے واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روتھ ابھی چھوٹی سی تھی تو اپنے باپ کے فوجی بوٹ پہن کر گھر میں بڑے فخر سے گھومتی تھی اور سب کو ہنساتی تھی۔ اندر ہی اندر سوچتی تھی کہ کب وہ بڑی ہو تاکہ وہ ایک فوجی بن سکے۔ روتھ کا باپ ہی اس کا ہیرو تھا کیونکہ وہ ایک مخلص اور وفادار امریکی فوجی تھا جو بعد میں 33 سال کی سروس مکمل کر کے باعزت ریٹائر ہوا۔

روتھ نے اپنی سکول اور کالج کی تعلیم کے دوران تمام جسمانی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا تاکہ وہ جسمانی طور پر مضبوط ہو ایک کامیابی فوجی افسر بن سکے۔ کالج میں داخلے کے وقت ہی وہ Reserve Officer Training Corps کی رضاکار بھی اسی شوق کی وجہ سے بنی۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ فوج میں بھرتی ہوئی تو اس کا جذبہ اور خوشی دیدنی تھی۔ اس وقت اس کے والد نے اسے ہلکا سا اشارہ دیا کہ اس کے ایک کامیاب کمانڈر بننے کے راستے میں ایسی مشکلات بھی آ سکتی ہیں جو عام طور پر مردوں کے حصے میں نہیں آتیں۔ لیکن روتھ کسی مشکل کو خاطر میں لانے والی نہ تھی۔ کوئی چیز اس کے ارادوں کو ڈانواں ڈول نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے بھرپور جذبے کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا۔ لیکن اس کے صرف نو سال بعد روتھ اپنی بے پناہ محنت اور شوق کے باوجود اپنے بکھرے ہوئے خواب لیے مایوس بیٹھی تھی۔ اس کو فوج کی نوکری چھوڑنا پڑی کیونکہ اس کے ساتھ اس کے مرد شریک کاروں نے وہ کچھ کیا جو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور اس نے ان زیادتیوں کا جواب ویسا دینے کی کوشش کی جو اس کی بہت سی خواتین فوجی ساتھی نہیں دے پاتیں۔

ان نو سالوں کے دوران میں روتھ کا اپنے ساتھی مرد فوجیوں کے ہاتھوں دو دفعہ ریپ ہوا اور دو دفعہ اس پر شدید جنسی حملے ہوئے۔ یہ تو بہت ساری امریکی فوجی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ روتھ نے اپنے خلاف ہونے والے ان جرائم کی شکایت کی جو کہ بہت ساری عورتیں نہیں کر پاتی ہیں۔ یہ بات بھی بہت سارے لوگوں کے لیے حیران کن ہو گی کہ روتھ جیسی با اختیار خاتون فوجی افسر بھی ریپ کی بجائے صرف “نامناسب جنسی رویے” ہی کی شکایت کر سکی کیونکہ ریپ کی رپورٹ درج کروانا تو اپنے کیریئر کو داؤ پر لگانے کے برابر تھا۔ ریپ کی رپورٹ درج کروانے کے ساتھ ایک شدید قسم کا سٹگما منسلک ہے اس لیے کم ہی کوئی امریکی فوجی عورت اس کی جرات کر پاتی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے اپنے اندازے کے مطابق 2014 میں 18900 امریکی فوجی عورتیں اپنے مرد شریک کاروں کے ہاتھوں جنسی جرائم کا نشانہ بنیں۔ ان میں صرف 25% نے شکایات درج کروائیں اور باقی 75% خاموش رہیں۔

امریکہ کے سابقہ فوجیوں کے ادارے (Department of Veteran Affairs) کی کئی تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق، 30 فیصد امریکی فوجی خواتین، سروس کے دوران، مرد فوجیوں کے ہاتھوں ریپ کا نشانہ بنتی ہیں، 71 فیصد کو جنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور 90 فیصد کو جنسی ہراسانی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ جب کہ بہت ہی کم خواتین اپنے خلاف ہونے والے ان جنسی جرائم کی شکایت کر پاتی ہیں۔

امریکی فوجی عورتیں اپنے خلاف ہونے والے ان جنسی جرائم کی شکایات کیوں نہیں کر پاتیں۔ ہیومن رائیٹس واچ (Human Rights Watch) کی ایک رپورٹ کے مطابق جو عورتیں اپنے خلاف ہونے والے جنسی جرائم کی شکایت کرتی ہیں ان میں باسٹھ فیصد کو شدید منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کی سزا خود انہیں ہی بھگتنا پڑتی ہے۔ جب کہ یہ جرم کرنے والے کے خلاف کبھی کبھار ہی تفتیش کی جاتی ہے۔ اور اس سے بھی اکثر صاف بچ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن فوجی مردوں کے خلاف ریپ کے مقدمات چلتے ہیں ان میں سے بھی صرف 15% کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی صورت حال کے پیش نظر امریکی فوجی عورتوں کے خلاف اپنے ہی ساتھی فوجیوں کے ہاتھوں شدید جنسی جرائم کے خاتمے یا کم ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔

ایک اور بات بتاتا چلوں کہ یہ جنسی جرائم صرف امریکی فوجی عورتوں کے خلاف ہی نہیں ہوتے بلکہ مردوں کے خلاف بھی ہوتے ہیں۔ مرد فوجیوں کے ریپ بھی ساتھ کام کرنے والے مرد فوجی ہی کرتے ہیں۔ ریپ ہونے والے مردوں کی تعداد یقینا ریپ ہونے والی عورتوں سے بہت کم ہو گی لیکن ان فوجی مردوں کو اپنے خلاف ہونے والے جنسی جرائم کی شکایت درج کروانا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔

پس نوشت: کیا دنیا کی طاقتور ترین آرمی کے خلاف ان الزامات کو رپورٹ کرنا یا ان کی مذمت کرنا امریکن آرمی کی توہین کے زمرے میں آئے گا۔ کیا ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے والے امریکی ادارے غدار ہیں۔ امریکی حکومت کو اپنی فوج کے خلاف ایسی رپورٹیں شائع کرنے والے اداروں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے۔ ان کے خلاف غداری کے مقدمات چلائے یا انہیں فنڈز مہیا کرے تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 252 posts and counting.See all posts by salim-malik