مرد کی برتری کا تقاضہ
ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں مرد اور عورت کی برابری کے بارے میں مباحثے اب اکثر دیکھنے اور پڑھنے میں آتے ہیں۔ مگر عموما ہمارے ہاں عورتوں کے برابری کے حقوق کی مانگ کو ایک مغربی رویہ قرار دے کر اس بحث کو وہیں پر روک دیا جاتا ہے۔
اس بات سے تو بہت سے لوگ واقف ہی ہوں گے کہ گجرات میں شاہ دولہ پیر کا ایک مزار ہے جہاں پر لوگ منت مانگ کر اپنے بچے چھوڑ جاتے تھے۔ روایت مشہور ہے کہ وہاں اولاد کی منت مانگنے پر چھوٹے سر کا فاتر العقل بچہ پیدا ہوتا تھا جسے اس مزار کے متولیوں کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ بعد میں یہ بھی سننے میں آیا کہ ان بچوں کے سر پر ایک لوہے کا خول چڑھا دیا جاتا تھا تاکہ ان کے سر بڑھ نہ سکیں اور معجزاتی کرامات کا چرچا برقرار رہے۔ میں اس خول والی بات کی حقیقت سے مکمل طور پر واقف نہیں مگر اس مثال کو یہاں بانٹنے کا مقصد یہ تھا کہ بعض اوقات مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اگر ایک خاص سوچ کے حامل لوگوں کے بس میں ہو تو وہ خواتین کے سر پر بھی ایک لوہے کا خول چڑھا دیں تاکہ ان کی عقل و شعور ایک خاص حد سے زیادہ بڑھنے نہ پائیں۔ حقیقت میں ایسا کرنا ممکن نہیں ورنہ ایسے نادیدہ خول تو ہمارے معاشرے میں چڑھائے جاتے ہی ہیں۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جہاں ہماری معاشرتی اور سماجی روایات مردوں کے حق میں جاتی ہیں وہاں انہیں اہمیت دے دی جاتی ہے اور جہاں مذہبی عقائد ایک خاص سوچ کی توثیق کرتے نظر آئیں وہاں ان عقائد میں سے جزوی چناؤ کر لیا جاتا ہے۔
یہ بات تو اب تقریبا ہر مکتبہ فکر کے لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ آج کے دور کے مشکل حالات کی وجہ سے عورت کا معاشی طور پر مرد کا ہاتھ بٹانا ناگزیر ہے، مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے ساتھ بھی اس کے گھریلو امور کی ادائیگی میں کسی قسم کی چھوٹ اور رعایت دینےاور ہاتھ بٹانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ کیونکہ گھریلو امور کو مکمل طور پر عورت کی ذمہ داری قرار دے کر ان عورتوں کی مثالیں دے دی جاتی ہیں جو گھر اور باہر دونوں کے کام خوش اسلوبی سے کرتی ہیں اور بس مثالیں بانٹ لینے کو ہی مدد کرنے سے بہتر تصور کر لیا جاتا ہے۔
اس بات میں کوئی شک اور ابہام نہیں کہ وہ مذہب جس پر میرا کل ایمان ہے، مرد کو عورت پر ایک درجہ برتری دیتا ہے، مگر کیا اس زمانے میں تمام مرد ایک درست رویے سے اس برتری کو برقرار بھی رکھتے ہیں؟
شیخ سعدی کا ایک قول ہے کہ ’بزرگی با عقل است نہ با سال‘، کہ بزرگی عقل کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ عمر کی وجہ سے۔ اسی طرح میرے نزدیک ہر عہدہ یا مرتبہ جو کہ بالاتر سمجھا جاتا ہے ایک خاص قسم کے رویے کا متقاضی ہے۔ بڑا یا برتر ہونا ایک عہدے یا مرتبے کا نام نہیں بلکہ یہ نام ایک بالاتر رویہ خود میں پیدا کرنے کا نام ہے۔ آپ خود کو محض دھونس اور طاقت سے بالاتر اور برتر تسلیم نہیں کروا سکتے۔ برتر ہونے کے لئے آپ میں کچھ اخلاقی خوبیوں کا موجود ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔
اگر ایک استاد کو یہ فریضہ سونپا جائے کہ وہ ایک جماعت کو پڑھائے اور اگر اس کا علم جماعت کے علم سے کم ہو گا تو کوئی شاگرد بھی اس کی اطاعت قبول نہیں کر سکے گا۔ ایک قائد اگر اپنے نظریات سے اپنے پیروکاروں کو قائل نہیں کر سکے گا تو کوئی بھی اس کی پیروی قبول نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح مرد صرف اپنی مردانگی اور طاقت کے زعم میں جب اپنی حاکمیت اور اجارہ داری جتائے تو یہ بات تسلیم کرنا بھی بعض اوقات اتنا آسان نہیں رہتا۔
ہمارے بہت سے مردوں کو بھی اب اپنے مخصوص گھٹے ہوئے نظریات اور تنگ نظری پر مبنی افکار کو تبدیل کر کے ایک ایسی برتری تسلیم کروانے کی ضرورت ہے جسے شعور کے پیمانوں کے مطابق بھی تسلیم کیا جا سکے۔
برتری تو مصلحت پسندی کی بھی متقاضی ہے اور جھکاؤ کی بھی۔ پھر تمام مصلحت پسندی اور جھکاؤ کا بوجھ عورت کے ناتواں شانوں پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟
اگرمرد جسمانی طور پر توانا ہے تو گھر کے امور میں بھی وہ ایک درجہ زیادہ ہی ہاتھ بٹا سکتا ہے نہ کہ کم۔ بہت سے گھریلو امور جسمانی مشقت اور قوت کے متقاضی ہوتے ہیں تو ان کو مرد ایک بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔
خواتین جب باہر نکل کر اسی ماحول، معاشرے اور تجربات کو برتتی ہیں تو ان کے نظریات بھی اسی روشنی میں بنتے ہیں۔ اس لئے شریک حیات کی عقل و دانش اور صلاح مشورے کو محض اس کی صنف کی وجہ سے رد کر دینا کیا ایک درست رویہ ہے؟
ایسے تمام مرد جن سے میں واقف ہوں جو اپنے سے منسلک خواتین کو علم و شعور حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں، میں نے انہیں دنیاوی لحاظ سے بھی عموماً ایک بلند درجے پر فائز ہی دیکھا ہے۔ کیونکہ جو مرد اتنا حوصلہ رکھنے کے قابل ہوتے ہیں کہ وہ عورت کا ترقی کرنا برداشت کر سکیں وہ خود اپنی جگہ پر اپنی ذات اور اپنی خوبیوں سے مطمئن ہوتے ہیں اور انہیں جنس مخالف کے شعور حاصل کرنے سے کسی بھی قسم کا خطرہ اور خوف محسوس نہیں ہوتا، کیونکہ انہیں خود پر اعتماد ہوتا ہے۔
اس زمانے میں تو ایک درست رویہ یہ ہے کہ مرد حضرات عورت کو پیچھے گھسیٹنے اور اس کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کی بجائے اپنی خداداد برتری یعنی جسمانی طاقت اور ہمت کو اپنے اندر مزید خوبیاں پیدا کرنے کے لئے استعمال کریں۔ اپنی ذات کی تکمیل کے لئے جستجو کریں اور اپنی خوبیوں پر یقین رکھیں۔ خود بھی ترقی کریں اور اپنے سے وابستہ صنف نازک کے کام کا بوجھ بٹا کر ان کی ترقی میں بھی مدد کریں۔ یہ ہی عقلمندی کا ثبوت بھی ہو گا اور یہی برتری کا تقاضہ بھی۔


