سیاست بھی عجیب شے کا نام ہے

(ابراہیم ہزارہ)

اپنے مفادات کی خاطر کسی وقت کچھ بھی ممکن ہے۔ایران کئی برسوں سے اپنے چاہنے والوں کو بس ایک ہی درس دیتا آیا ہے کہ مرگ بر امریکا۔ امریکا شیطان بزرگ ہے مگر اسی ایران نے پابندیوں سے تنگ آکر امریکی حکومت کے ساتھ جوہری ڈیل کرلی ۔اس معاہدے کے نتیجے میں ایران کی تنہائی کے امکانات کم ہونے لگے اور عالمی منڈی میں داخل ہونے کا دوبارہ موقع مل گیا۔

ایرانی انتخابات کا آپ نے ضرور مشاہدہ کیا ہوگا جس میں حسن روحانی نے ایک بار پھر خامنائی کے حمایت یافتہ امیدوار کو بری طرح سے شکست دے دی ،ان انتخابات کو میں ایرانی عوام کی جانب سے اسلام پسندوں کے خلاف رائے سمجھتا ہوں۔ اس طرح اس کا دو ٹوک مطلب یہ ہے کہ عوام نے خصوصا نوجوانوں نے خامنائی اور ان کے سخت گیر اسلامی نظام کو دوسری بار شکست دے کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خامنائی کے سخت نظام کے برعکس ایک معتدل نظام کے خواہاں ہیں۔

اسی طرح سعودی عرب بھی مبینہ طور پر تمام ملکوں میں اپنے عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو فنڈنگ کرکے فسادی پیدا کرتا رہا ہے جس کی وجہ سے پچھلے سترہ اٹھارہ برسوں سے تقریباً ستر ہزار پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا آج یہ سزا بھگت رہی ہے۔

یہ مفادات ہی ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پہلا دورہ سعودی عرب سے کیا ہے۔ امریکا کا سعودی عرب سے 110 ارب ڈالر کا اسلحہ و جنگی سازوسامان کا معاہدہ کرنا اور 39 اسلامی ملکوں اتحاد بنانا اس لیے بھی ضروری ہو گیا تھا کیونکہ ایران نے شام اور عراق میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اسی طرح حزب اللہ، حماس، اور حوثیوں کی پشت پر بھی کھڑا ہے جس سے ان کی علاقائی حیثیت میں اور اضافہ ہوا ہے جس سے اسرائیل اور سعوری عرب کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔تاریخ گواہ ہے یہ دونوں ممالک اپنے ملک کے اندر کبھی بھی کوئی ایڈونچر نہیں کیا کرتے اور نہ ہی آمنے سامنے ایک دوسرے سے لڑنے کی جرات کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ اپنی پراکسیز کے ذریعے دوسرے ممالک میں اپنے مفادات کی جنگ لڑتے آرہے ہیں۔

امریکا مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر دراصل اسرائیل کو محفوظ کرنا چاہتا ہے اسی لیے فلسطین، عراق، شام میں کروڑوں انسانوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں مروا کر خود تماشا دیکھ رہا ہے اور ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ان گروپس کو فسادی قرار دیا ہے جن سے اسرائیل کو براہ راست خطرہ ہے۔ امریکی اخبارات ٹرمپ کو خاصی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ نائن الیون کے حملہ آوروں کا تعلق بھی سعودی عرب سے تھا اور داعش، بوکوحرام اور القاعدہ جیسی خطرناک تنظیموں کو بھی فنڈنگ سعودی عرب سے ہی ہوتی ہے۔

یہ عبرت کا مقام ہے کہ سعودی عرب اور ایران مسلسل اپنے مفادات کی خاطر عام عوام کو گمراہ کرکے یہ خونی کھیل کھیل رہے ہیں اوراب تو دوسرے ممالک بھی اپنے مفادات کی خاطر اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں حالانکہ اپنے عوام بے روزگاری کا شکار ہیں۔مسلم ممالک میں غربت کی انتہا ہے لیکن اربوں ڈالر امریکہ کو بطور رشوت اس لیے دیے جارہے ہیں کہ صرف اور صرف اپنی بادشاہت کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words