کیا ملالہ ملالہ لگا رکھا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح ٹھوس ایک خاص درجہِ حرارت پر مائع اور پھر مائع ایک خاص درجہِ حرارت پر گیس میں تبدیل ہوجاتا ہے، اسی طرح جب کسی شخص کو کئی برس سے لگاتار اپنے متعلق اہلِ محلہ سے بس برائیاں سننے کو ملیں تو وہ خود احتسابی پر غور کرنے کے بجائے کچھ عرصے توغصے میں کھولتا رہتا ہے۔ چند ماہ بعد یہ غصہ جھنجھلاہٹ میں بدل جاتا ہے اور رفتہ رفتہ جھنجھلاہٹ بے حسی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی اپنا یا پرایا کسی بات یا خوبی کو سراہے بھی تو لگتا ہے کہ سراہنے والا طنز فرما رہا ہے۔ چنانچہ تعریف سن کر بھی ممدوح کو کاٹ کھانے کو جی چاہتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب ایک مسلسل محروم شخص کو کوئی تحفہ اچانک ملے تو وہ یہ سوچ کر ڈر جاتا ہے کہ اس نوازش کے پیچھے بھی کوئی چال نہ ہو۔

یہ کیفیت کسی بھی ایسے فرد، سماج یا قوم پر طاری ہو سکتی ہے جنھیں ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ہو نا ہو ہم دیدہ و نادیدہ قوتوں کے مسلسل محاصرے میں ہیں اور وہ ہماری تہذیب، معیشت، جغرافیے اور عقائد کے درپے ہے۔ اور اگر ہم سیدھے سیدھے زہر سے نہ مرے تو پھر ہمیں میٹھے میں چھپا کرزہر دیا جائے گا۔ لہذا خبردار کبھی کسی پر یقین نہ کرنا اور کسی بھی مہربانی کو شبہے کے عدسے سے گذارے بغیر قبول نہ کرنا۔ اس مسلسل کیفیت کے سبب فرد ہو یا قوم۔ دونوں کی خود اعتمادی اس طرح مجروح ہوتی ہے کہ اس کی واپسی نسلوں تک نہیں ہوپاتی۔ ایسے لوگ خود کو بیچارگی کی چادر میں لپیٹ کر تسکین پاتے ہیں۔ دکھڑوں کے نوالوں اور آہوں کے شربت پے گذارہ کرتے ہیں اور اگر کوئی انھیں اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش بھی کرے تو پہلی گالی اس رضاکار کو ہی پڑتی ہے۔

اب ملالہ کو ہی دیکھ لیں۔ سر پر گولی لگنے سے اقوامِ متحدہ کی چلڈرن اسمبلی سے خطاب تک بہت سوں کو یقین ہی نہیں آرہا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ ملالہ سے مہربانی فی سبیل اللہ کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے پیچھے یقیناً کوئی بہت بڑا ڈرامہ ہے۔ اور پھر کڑیوں سے کڑیاں یوں ملائی جاتی ہیں۔

کیا ثبوت ہے کہ ملالہ کو گولی مارنے والا کوئی طالب ہی تھا۔ ملالہ فیملی کی کسی سے خاندانی دشمنی بھی تو ہوسکتی ہے۔ ٹھیک ہے طالبان کی جانب سے کسی نے اسے گولی مارنے کی ذمے داری قبول کرلی لیکن اس کا کیا ثبوت ہے کہ جس نے کسی گمنام مقام سے فون کرکے ذمے داری قبول کی وہ کوئی طالبان ترجمان ہی تھا۔

کیا کہا؟ ملالہ کو سر کے بائیں حصے میں گولی لگی تھی۔ ہاہا ہاہا۔ اور اسے یہ بھی ہوش رہا کہ پشاور کے اسپتال سے ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے تک گلابی کپڑے پہننے ہیں اور پنڈی میں ہیلی کاپٹر سے اترتے ہی لباس کا رنگ سبز کردینا ہے اور سر پے بندھی پٹی پر خون کا دھبہ بھی بائیں سے دائیں کھسک جائے گا۔ اور کمبائنڈ ملٹری اسپتال پنڈی والے تو کہہ رہے تھے کہ گولی سر کے اندر گہری چلی گئی ہے اور اگر وہ بچ بھی گئی تو شاید یادداشت واپس نا آسکے۔ تو پھر یہ کیا ہوا کہ پلک جھپکتے میں ابوظہبی کے حکمران کی ایر ایمبولینس بھی آ گئی اور ملالہ سفر کے قابل بھی ہوگئی اور اسے برمنگھم پہنچا دیا گیا اور صرف تین ہفتے کے علاج کے بعد نہ صرف ہوش میں آگئی بلکہ اسکول بھی جانے لگی۔ اور پھر تین ماہ بعد کبھی اس ملک جارہی ہے تو کبھی وہ انعام وصول کررہی ہے۔ تو کبھی فلاں بادشاہ سے داد لے رہی ہے توکبھی اپنے نام پر قائم ایجوکیشنل فنڈ کا افتتاح کررہی ہے۔
اور ثبوت چاہتے ہو تو پھر یہ لو۔

میڈونا جیسی بے باک گلوکارہ جو اپنے باپ کے مرنے پے نہ روئی اس کو ملالہ اچانک اتنی اچھی لگ گئی کہ اس نے اپنی برہنہ کمر پر ملالہ کھدوا لیا اور اس کے نام کا گانا بھی کمپوز کرلیا۔ کیا اب بھی امریکی سی آئی اے کی طرف آپ کا کوئی دھیان نہیں گیا۔ اور یہ ملالہ اور ان کے والد گولی لگنے سے پہلے اسلام آباد کے امریکی سفارتخانے میں کن کن لوگوں سے مل رہے تھے۔ کیا اب بھی شک ہے کہ گولی مارنے کے ڈرامے کو وہاں آخری شکل نہیں دی جارہی تھی۔

اچھا تو آپ کہتے ہیں کہ کوئی تو بات ہوگی ملالہ کی قربانی میں کہ سابق برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن ملالہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے لیے متحرک ہوگئے۔ کیا وہ اتنے ویلے آدمی ہیں کہ انھیں اپنے لیے دنیا میں سب سے اہم کام یہی نظر آیا۔ انھیں کہیں بھی فی لیکچر پرویز مشرف کی طرح کم ازکم ایک لاکھ ڈالر مل سکتے تھے۔ مگر گورڈن براؤن پوری دنیا میں ملالہ ٹرسٹ کے لیے پیسے جمع کرتے پھر رہے ہیں۔ واہ جی واہ۔ کہئے کہئے کہ مسٹر براؤن یہ کام دکھی انسانیت کے لیے کررہے ہیں اور اس کے پیچھے ان کا کوئی اور مفاد نہیں۔ ہے نا۔

ہاں تو ملالہ نے نازیوں کے ڈر سے ایمسٹرڈم کے ایک زیرِ زمین کمرے میں چھپی گیارہ سالہ یہودی بچی این فرینک کی طرح طالبان کے سوات پر قبضے کے زمانے میں ڈائریاں لکھی تھیں۔ کیا ثبوت ہے کہ دس گیارہ سال کی ایک بچی اتنی بالغانہ نثر لکھ سکتی ہے۔ کیا ثبوت ہے کہ بی بی سی نے کسی اور سے یہ ڈائریاں لکھوا کے ملالہ کے نام سے دو ہزار آٹھ میں نہیں چھاپی تھیں۔ تو جناب یہ سازش تب پروان چڑھنی شروع ہوئی تھی۔ تب سے ملالہ کے کردار کو اونچا کرنے کی کوشش شروع ہوئی تھی اور پھر جب گولی لگی تب تک دنیا یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار ہوچکی تھی کہ ملالہ کوئی سپر گرل ہے۔

ہاں ہاں ہمیں معلوم ہے کہ ٹائم اور نیوزویک کے کئی سرورق ملالہ کی بھولی بھالی تصویر چھاپ چکے ہیں۔ اور اسے سال کے سو طاقتور عالمی لوگوں کی فہرست میں بھی جگہ دی جاچکی ہے۔ تو کیا آپ کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ امریکی میڈیا کو کون سا نسلی گروہ کنٹرول کرتا ہے اور اس کا ایجنڈہ کس قدر پاکستان اور اسلام دوست ہے۔ اور پلیز ہمیں یہ بتا کر ملالہ کے رعب میں لینے کی کوشش نہ کریں کہ دنیا بھر کے دو ملین بچوں نے اپنے دستخطوں سے ملالہ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ اور یہ کہ تیس ممالک کے تیس نوعمر گلوکاروں نے ملالہ کی سولہویں سالگرہ پر اقوامِ متحدہ کی فرمائش پر ’’ میں بھی ملالہ ہوں ’’ کے عنوان سے ایک گیت تیار کیا ہے جو اسوقت سوسے زائد ممالک کے اسکولی بچوں میں ہاٹ چاکلیٹ کی طرح مقبول ہے۔
اچھا تو آپ اس خبر کے رعب میں آگئے کہ ملالہ کے یومِ پیدائش کو اقوامِ متحدہ نے ملالہ ڈے قرار دیا ہے اور آئندہ ہر سال اس دن دنیا بھر میں بچیوں کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا جائے گا۔ اور نیلسن منڈیلا کے بعد ملالہ دوسری شخصیت ہے جس کی سالگرہ اقوامِ متحدہ نے اپنا لی ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کون ہے۔ وہی نا جس کا ہیڈ کوارٹر نیویارک میں ہے۔ وہی نیویارک نہ جہاں سب سے زیادہ امریکی یہودی رہتے ہیں۔ وہی اقوامِ متحدہ نہ جس کا پچیس فیصد بجٹ امریکا سے آتا ہے اور پھر امریکا اس سے جب چاہتا ہے مجرا کراتا ہے۔

اگر ملالہ کے اقوامِ متحدہ سے خطاب کی واقعی کوئی اہمیت ہوتی تو کیا پاکستانی میڈیا اسے سر پے نہ اٹھا لیتا؟ ہاں بی بی سی، سی این این اور دور درشن نے یہ تقریر براہِ راست دکھائی کیونکہ انھیں تو دکھانی ہی تھی۔ لیکن سلام ہے پاکستانی میڈیا پرجس نے قومی حمیت و غیرت کا بھرپور ثبوت دیا اور ملالہ کی صرف سترہ منٹ کی تقریر براہِ راست نشر کرنے سے گریز کیا۔ ( کاش ملالہ کا نام الطاف حسین یا طاہر القادری ہوتا )۔ اور سلام ہے سرکاری ٹی وی کو جس کے صرف انگریزی چینل نے ملالہ کی انگریزی تقریر براہِ راست دکھائی اور سرکاری چینل کی اردو نشریات میں اس کو صرف خبر کے طور پر نشر کیا۔ سلام ہے اس نجی چینل کو بھی کہ جس نے ملالہ کی مختصر تقریر کی ایک جھلک دکھا کر خصوصی رمضان ٹرانسمیشن وہیں سے جوڑ دی جہاں سے منقطع کی تھی اور سلام ہے اردو اخبارات کو جنھوں نے ملالہ کی فضول سی تقریر کو شہہ سرخی بنانے سے گریز کرکے اعلیٰ پیشہ ورانہ صحافتی روایات کی آبرو رکھ لی۔ ایک آدھ انگریزی اخبار نے ضرور اسے شہہ سرخی بنایا لیکن انھیں کتنے لوگ پڑھتے ہیں؟

اگر ملالہ اتنی ہی توپ چیز ہوتی تو دنیا کے سو ممالک کے بچوں کی یو این اسمبلی میں پاکستانی بچوں کا وفد بھی ہوتا۔ پاکستان کے خارجہ امور کے دو وفاقی مشیروں میں سے کم ازکم ایک تو ضرور ہی جاتا۔ لیکن چونکہ سیاستدانوں کا قوم کی نبض پر ہاتھ رہتا ہے لہذا وزیرِ اعظم نواز شریف یا ان کی کابینہ کی جانب سے ملالہ کی سالگرہ پر نیک تمناؤں کا کوئی پیغام نہیں گیا۔ صدر زرداری نے ضرور ایک تہنیتی پیغام بھیجا مگر زرداری صاحب کے بارے میں تو آپ اچھی طرح جانتے ہی ہیں۔ معلوم نہیں ملالہ کے آبائی سوات میں اس کی سالگرہ پر کوئی کیک کٹا یا پشاور کے چیف منسٹر ہاؤس میں خیبر پختون خوا کی اس بیٹی کو یاد رکھا گیا یا نہیں۔ البتہ جے پور کے ایک اسکول میں بچوں نے ضرور ملالہ کی سالگرہ منائی۔ کیا اب بھی ثبوت چاہئیے کہ ملالہ کن لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔

ہم نے تو ڈاکٹر عبدالسلام کے نوبیل انعام کو نہیں مانا تو پھر مغرب کی ڈارلنگ ملالہ کس کھیت کی مولی ہے۔ بھلا جو شخص مسلمانوں جیسا نام رکھ کے دھوکہ دے سکتا ہو۔ اس کی سائنسی تحقیق کا بھی کیا اعتبار۔ سب سازش ہے۔ سب ڈرامہ ہے۔ سب پاکستان کو بدنام کرنے کا منصوبہ ہے۔ اب زہر بھی تعریف اور انعامات کی شکل میں دیا جارہا ہے۔ لیکن خبردار۔ ہم زندہ قوم ہیں۔ اپنا اچھا برا بخوبی جانتے ہیں۔ دشمن کسی غلط فہمی میں نا رہے۔

پیر 15 جولائی 2013

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •